تازہ ترین

ملاقات |چھٹا قسط| تحریر حمایت خیال | پھسو ٹائمزاُردُو

 کچھ دن پہلے میں حکومت سندھ سے بہت خوش تھا. میری خوشی کی وجہ کچھ اور نہ تھی. فقط حکومت سندھ کا یہ کارنامہ کہ انہوں نے یونیورسٹی روڈ کی نئے سرے سے تعمیر کا کام شروع کر دیا تھا. مجھ نہیں معلوم کہ یہ تعمیری کام بہت سی قیمتی جانوں کا ذمہ دار بنے گا. آج میں بہت خوفزدہ ھوں. خوف یہ نہیں کہ موت سر پہ منڈھلا رھی ھو. کیوںکہ موت کا زماں مکاں لکھا جا چکا ھے. موت تو ایک حقیقت ھے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا. انکار کرو گے تو منکر کہلاؤ گے. خوف دراصل ان خوفناک واقعات اور حادثات سے آرھا ھے جو ایک ناگہانی آفت کی طرح یونیورسٹی روڑ پہ منڈلا رھے ہیں. جب یونیورسٹی کی تعطیلات ختم ھو گئی اور کلاسز کا آغاز ھوا تو پے در پے مختلف حادثات میں مستقبل کے معماروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. ان حادثات میں کئی طلباء اپنی قیمتی جانوں سے ھاتھ دھو بیٹھے. افسوس صد افسوس کہ ھم نے ایک حادثے سے سبق حاصل نہیں کیا. مذمتی بیانات دیتے رھے لیکن آئندہ کیلئے بہتر لائحہ عمل مرتب نہ کر سکے. آج ایک بار پھر ہمیں مایوس کن حادثہ دیکھنا پڑا. وفاقی اردو یونیورسٹی کے طلاب نے اس حادثے کے خلاف مظاھرہ کیا. یہ ایک اچھا قدم تھا. خوب ایسی کاوشوں کو سراھا جاوے. طلاب کو پہلے ہی اپنے جائز حقوق کیلئے آواز بلند کرنی چاھیے تھی. لیکن ……. آج کی ملاقات انہی باتوں پہ مشتمل ھے. کہ ان حادثات کے ذمہ دار کون ہیں. ..؟ کیا یونیورسٹی روڑ کی تعمیر مکمل ھونے کے بعد اس طرح کے واقعات دوبارہ نہیں ھوں گے…؟ کیا کل کے پروٹسٹ فائدہ مند ثابت ھوگا..؟ اور اس قسم کے بہت سارے سوالات زہن میں ابھر رھے تھے. سو خیال سے شئیر کئے.. . خیال… جو کچھ ھوا بہت برا ھوا. اس طرح کے واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ھے. لیکن مذمتی بیان دینے کے بعد یہ دیکھو کہ حکام اور انتظامیہ کا رد عمل کیا ھے. کیا انتظامیہ نے فقط وعدے تو نہیں کئے. کیا آپ کے مطالبات درست تھے. اگر صحیح تھے تو ذمہ داران تک پہنچانے میں غفلت تو نہیں ھوئی. کہیں ایسا تو نہیں کہ سوال زمین کا ھو اور جواب آسمان کا ملا ھو. کیا حکومت سندھ اور انتظامیہ کو ان حالات کے رونما ھونے کا خدشہ نہ تھا. اگر تھا تو اس وقت کام کیوں نہیں کرایا گیا جب ادارہ ، موسم سرما کی تعطیلات کیلئے بند ھوا تھا. جب ایک طالبعلم ان حادثات کے بعد ذہن میں الجھنیں پیدا کر سکتا ھے.. سوالات کا انبھار لگا سکتا ھے….کہ یہ کیوں کر ھوا…. ؟ اس کے پیچھے محرکات کیا ھے؟ ان حادثوں کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ھے. تو ایسے وقت میں وہ تمام جامعہ کے پی ایچ ڈی سکالرز ، پروفیسرز اور لیکچرز کو خیال تک کیوں نہیں آرھا. ان تمام لوگوں کی خاموشی اس بات پہ دلالت کرتی ھے کہ ایسے حالات پیدا کرانے میں ان کا بھی ھاتھ ھے. وہ بھی ان حادثات میں ملوث ہیں. کیا ان لوگوں کا کام فقط جامعہ سے مہینہ وار تنخواہ وصول کرنا ھے اور چند صفحات پہ مشتمل لیکچر دینا ھے. اگر یہی کام ھے تو خدارا اپنے گھر پہ رھیے گا. طلباء کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں. جب تعلیم کیساتھ تربیت نہیں کر سکتے تو تمھارا مقصد میرے نزدیک فائدہ مند نہیں یہ کامیابی کے بجائے ناکامی ھے. حقیقت یہ ھے کہ جو شخص نے علم کے دروازے کو چھوڑ کر دیوراوں کو گرا کے آیا ھو اس کو اخلاقیات سے کیا لینا دینا. دوسری بات . ھاں روڑ کی تعمیر مکمل ھونے کے بعد بھی حادثات ھو سکتے ہیں. یہ لازم نہیں کہ فقط روڑ پہ حادثے رونما ھو جاوے. کسی لیب میں جائیں دیکھیں کہ کس قسم کے تجربہ خانے ہیں. ان کی حالت زاد کیسی ھے. یقین جانیے گا جہاں واٹر ٹیب ھے وھی ساتھ ھی لائٹ بورڑ لگا ھوا ھے. گیس پائپ لائن فرش پہ ھی رکھی گئی ھے. پچھلے سال ھم ایک تجربہ گاہ گئے. ھمیں اسائمنٹ ملا تھا. جس میں ھمیں ایک جگہ منتخب کرنی تھی اور وھاں موجود ان عناصر کی نشاندھی کرنی تھی جو کسی ایک عام انسان کو زخمی اور موت کے منہ تک پہنچانے کا موجب بن سکتے ہیں. . یقین جانیے گا ھم نے تقریباً ۱۵ ایسی چیزوں کے نام لکھ لئے جو خطرناک حادثات پیدا کر سکتے تھے. ایک ایسی بھی تجربہ گاہ دیکھی جہاں تجربوں کے ساتھ ساتھ چائے بنائی جاتی ھے. حمایت. تیسری بات. موت تو ایک اٹل حقیقت ھے. جو چلا گیا سو وہ چلا گیا جو زندہ ھے اس سے بھی کسی نہ کسی دن موت کا ذائقہ چکھ لینا ھے. جسمانی موت سے زیادہ بیانک ھوتی ھے کسی کو مس گائںڈ کرنا…… .. بہت سارے پڑھے لکھے اسکالرز کے رویوں کو دیکھنے کے بعد ناامیدی اور مایوسی انتہا تک پہنچ جاتی ھے. اخلاقیات سے عاری لوگ اخلاقی اقدار کو کیسے سمجھ سکتے ہیں. اور اگر وہ سمجھ نہیں سکتے تو وہ کیسے دوسروں کو سیکھائیں گے. ایک بار پھر بتاتے چلوں کہ کل کے مظاھرے کے بعد طلاب میں ھم آہنگی پیدا ھوئی ھے. امید ھے انتظامیہ اور حکام نوٹس لیتے ھوئے مطالبات پورے کریں گے.


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 12 فروری، 2017ء

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!