تازہ ترین

چترال: پبلک ہیلتھ گولین آبنوشی سکیم میں میگا کرپشن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جا ئے ،رضی الدین

چترال: پھسو ٹائمز اُردُو | نمائندہ خصوصی

54 کروڑ روپے خرچ ہو نے کے باوجود چترال ٹاؤن کے عوام پینے کے صاف پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔سابق تحصیل جنرل سکر ٹری پی ٹی آئی چترال
(چترال :  بکرآباد ، جغو،ر دنین اور چترال کے نواحی دیہات سے پبلک ہیلتھ گولین آبنوشی سکیم کے صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 54 کروڑ کی لاکت سے تین سال پہلے مکمل ہونے والا آب نوشی کا میگا پراجیکٹ ناکامی سے دوچار کیوں ہوا؟ اس کی تحقیقات نیب، انٹی کرپشن اور احتساب کمیشن کے ذریعے کرائی جا ئے۔منصوبے کی ناکامی کے ذمہ دار حکام، ٹھیکدار اور اُس وقت کے ایم پی اے کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا ئے۔ رضی الدین سابق جنرل سکرٹری پاکستان تحریک انصاف تحصیل چترال نے کہا ہے کہ 2009 میں گولین واٹر سپلائی سکیم کا ڈئیزائن سو چے سمجھے منصوبے کے تحت تبدیل کیا گیا۔ اس کے سرفیس ٹینک ، فیڈنگ ٹینک اور ڈسٹربیوشن ٹینک کے ڈیزائنز تبد یل کئے گئے۔6 انچ قطر کے کبلا والے پائپوں کی جگہ دو نمبر کے GI پائپ ڈال دیئے گئے۔ اس وقت کے ایم پی اے نے اپنے حصے کا کمیشن اسلام آباد میں رایل اسٹیٹ کے کاروبار میں لگایااور 2012 ؁ء میں آبنوشی کے منصوبے کا جعلی افتتاح کیا۔2014 ؁ء میں پانی کی تقسیم شروع ہو ئی تو پتہ چلا کہ 6 انچ کے پائپ میں پورا پانی بر داشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس لیے نصف پانی آتاہے۔اور نصف پانی کا پریشر نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو پانی نہیں ملتا۔کئی بار پورے پریشر کیساتھ پانی آیا تو دو نمبر کے6 انچ پائپ پھٹ گئے۔ ان کی مرمت اور بحالی میں کئی دن لگے۔ اور آج بھی لوگوں کے گھروں میں پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں۔ یہ کرپشن بد دیانتی ، خیانت اور بد عنوانی کا نا قابل بر داشت منصوبہ ہے۔ اس کی با قاعدہ تحقیقات ہوئی تو یہ PTI حکومت اور عمران خان کابہت بڑا کارنامہ ہو گا۔نیب اور وفاقی حکومت کی کا ر کر دگی بھی کھل کر سامنے آئے گی۔صارفین جی او سی ملاکنڈ اور کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس سے بھی مطالبہ کر تے ہیں کہ اس میگا کرپشن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مدد دیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جب انٹی کرپشن کے ڈائیریکٹر ضیا ء اللہ خان طورو چترال آیا تھا تو ہم نے اس منصوبے میں بد عنوانی کے بارے میں درخواست دی تھی۔جس پر انہوں نے خود نوٹس لینے کا فیصلہ کیا تھالیکن ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!