تازہ ترین

ایک شخصیت ایک کہانی میں ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان 80 ویں یوم پیدائش پر خصوصی اشاعت | پھسوٹائمز اُردُو

   اسلام امن کا دین ہے، جس کا نقطہ نظریہ یہ ھے کہ اسلام ہمیں نہ صرف رواداری، مساوات، حلیمی، بھائی چار ارگی اور رحم دلی کا ررس دیتا ہے بلکہ ان سب سے بڑھ کر انسانیت کی بقاہ اور فلاح بہبود کیئے مل جل کر کام کرنے کی بھی تلقین کرتے ہیں۔ دور حاضر میں جہاں مسلم دُنیا کو درپیش چیلنجز اور دیگر سوشل اختلافات کا سامنہ ہے وہی مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے انسانیت کی خدمت اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرکے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ دین اسلام ایک امن پسند دین ہے۔ ایک شخصیت ایک کہانی کے میں ایک ایسے ہستی کا انتخاب کیا ہے جو دنیا اسلام کا خاموش شہزادہ کہلاتا ہے جنہوں عالمگیر اور بااثر مسلم رہنماء کی حثیت حاصل ہیں۔

ہزہانس پرنس کریم آغاخان  (چہاروم) :

اسماعیلی جماعت ایک ایسی جماعت جو گزشتہ 1400سو سالوں سے امامت کی رسی تھامے ھوئے اج بھی اُسی عقیدے کی بنیاد پراپنی مزہبی فرائض کو بخوبی سر انجام دے رہے ہیں جس کی بیناد سرورِکائنات محبوب دوعالم، حُضواقدس آخری نبی حضرتِ محمد مصطفیٰ( صلی اللہ علیِہ وآلہ وسلم) نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی کا ہاتھ پکڑکر ارشاد فرمایا  مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ  ترجمہ “جس کا میں مولا ھوں اُس کا علی مولاھے” یعنی شِعیان علی کے عقیدے کے مطابق جہاں پیغمبر اسلام کی مشین آنحضرت صلم پر ختم ھوئی ، اُس کے بعد اِمامت کا سلسلہ حضرتِ علی سے شروع ھوا ان 1400 سو سالوں میں شیعہ اِمامِی اسماعیلی مسلمان کے عقیدے کی بنیاد پر اب تک 48 اماموں نے مسند امامت پر جلوہ افروز ہوئے ہیں اورموجودہ امام مولانا شاہ کریم الحُسینی حاضِر امام کہلاتے ہیں جو اسماعیلی امامت کے 49  امام ہے۔

ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان 13 دسُمبر 1936 کو سویٹزرلینڈ کے مشہور شہر جنوا میں پیداھوئے آپ پرنس علی سلمان خان کے فرزند اورامام سرسلطان محمد شاہ آغاخان( سوئم) کے پوتھے ہیں۔ آج دنیا بھر میں بسے 2۔2 ملین اسماعیلی مسلمان ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان کی پیدائش کا 80 ویں سالگرہ جوش و جزبے سے منایا جا رہا ہے۔ismailies-total-populatoin

  برصغیرپاک ؤہند کی تقسیم کے بعد مسلمانوں کی حالات زندگی کافی تشویش ناک تھی اور امام سرسلطان محمد شاہ نے ان تمام چیلنچز کے لیے ایسے لیڈر کی ضرورت کو محسوس کیا جو دورجدید کے عین مطابق ان تمام چیلنجز اورانسانیت کی فلاح ؤ بہبود کے لئے کام کرسکیں، اور بلاآخر سرسلطان محمد شاہ کی وِصال کیے بعد آپ کے پوتھے شاہ کریم الحُسینی 20 سال کی عمر میں 11 جولائی 1957 کو اسماعیلی امامت کے 49 ویں امام کی حثیت سے تخت امامت پر جلوہ افروز ھوہیں۔۔
ابتدائی طور پر، ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان چہارم نے ریاضی، کیمیا، سائنس اور جنرل سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلامی تاریخ کا مطالعہ شروع کیا جس میں اسلامی فرقے اور تصوف کا بغور مطالعہ کیا۔ جب آپ پر امامت کی اہم زمہ داری سونپی گئی تو آپ نے اسی دوران ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجوییشن اوربی اے ہانرز اسلامک تاریخ کی ڈگری حاصل کی۔

1957-1958 میں جہان مسلیم دنیا اور دیگر غیر مسلیم برادری کردرمیان دُوری کو ختم کرنے اورلوگوں کی معیارزندگی کو بہتربنانے میں آپ نے اہم کردار اداکیا ان دنوں جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں نسلی طورپر کشیدہ ماحول عرُوج پر تھی۔1972میں جب یوگینڈا میں صدر لودی امین کی حکومت نے فرمان جاری کیا کہ جنوبی ایشیاٰ کے باشندوں اور نزاری اسماعیلی کو 90 دن کے اندر اس ملک چھوڈنے کی محلت دی اُس وقت ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان نے اُس وقت کے کینیڈین وزیراعظم پیری ترودیو سے ان تمام خاندانوں کو کینیڈا میں آبادکاری کی درخواست دی جو وزیراعظم نے قبول کر کے اپنے ملک کے دروازے کھولنے پر اتفاق کیا اج کینیڈا دنیا کی سب سے تیز ترقیافتہ ملکوں میں شمار کیا جاتاھے۔

akdn-logo
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی فلاح ؤبہبود کیئے آپ نے اپنی گراں قدر خدمات اور کوشیش تیز کردی اور آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی بیناد رکھی، جو دنیا کے تقریبا 35 ملکوں میں غربت اور انسانی زندگی کا معیاربہتر بنانے میں تقریبا 80،000 ورکرز اے کے ڈی آین کے مختلف اداروں کے ساتھ منسلک ھے، جس میں آغاخان فاوڈیشن، آغاخان ھلتھ سرویسز، آغاخان پلانگ اینڈ بلڈنگ سرویسز، آغاخان ایکنومک سرویسز،آغاخان ایجنسی فار مائیکروفائینینس، کیے علاوہ فوکس ( اف او سی یو ایس ) قابل زکرھے جس کی براہ راست آپ خود نگرانی کرتیں ہیں۔

hospital-building

آغاخان یونیورسٹی ہسپتال کراچی – پاکستان

اگر ہم گلگت بلتستان کی ترقی میں ہزہائی نس آغاخان کی کردارکو دیکھیں جو بلکل واضح ھے، 1960 میں جب پہلی دفعہ آپ گلگت بلتستان ہنزہ تشریف لائے تو آپ نے خود یہاں لوگوں کی حالات زندگی دیکھ کر کافی مائوس اورپریشان ھوہیں  جس کے بعد آپ رہنمائی اور ہدایت کی روشنی میں ایک جامعہ حکمت عملی تیار کی اور1980 میں آغاخان فاونڈیشن نے گلگت بلتستان میں  آغاخان رولراسپورٹ پروگرام، آغاخان ھلتھ سرویسز اور دیگر فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی جو اج بھی علاقے کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی میں حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔

غرض یہ کی ہزہائی نس کی خدمات نہ صرف اسماعیلی جماعت تک محدود ہے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی لوگوں کی فلاح ؤبہبود کے لئیے سرگرمِ عمل ہیں، جس کا فلسفہ صرف اور صرف انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی معیار زندگی کے لئے کام کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی اس خدمات کو سہراتے ھوے دنیا کے بےشمار خطابات، اعزازات اور القاب سے آپ کو نوازا گیا،

جس میں 1936 تا 1957 آپ کو پرنس کریم آغاخان اور 1957 سے اب تک ہزہائی نس دی آغاخان چہارم اور 1959 سے1979 تک ہزرائل ہائی نس دی آغاخان چہارم،1977 سے 2009 تک کی اعداد وشمار کے مطابق دُنیا کے 20 ممالک نے آپ کو اپنی قومی اعزازات سے نوازہ، دُنیا کی 19 بہترین یونیورسٹیوں نے آپ کواعزازی ڈگریاں دےدی اور دُنیا کے 21 ممالک نے 48 ایواڈ آپ کو اپکی شانداراور گراں قدر خدمات اور اسانیت کی فلاح ؤبہبود کے لئیے کام کرنے پر نوازہ گیا۔اخر میں یہ کہ ایک ایسی حستی کے بارے میں لکھنا جس کا شجرہ نصب مولاکائنات اللہ تعالیٰ کے آخری رسولِ پاک سے جاملتا ھو گویا سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ھے۔  ہزہائی نس کی زندگی تمام انسانیت کے لئیے مشعل راہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی انسانیت کی خدمت کا توفیق و توثیق  عنایت فرمائے آمین۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ںاصر ھو۔۔


پھسو ٹائمز اُردُو کی خصوصی اشاعت مورخہ 13 دسمبر، 2016ء

About Passu Times

One comment

  1. بہت اچھی کوشش ہے ۔۔۔
    لیکن ایک التجا آپ سے یہ ہے کہ میں نے اس اشاعت کو بغور پڑھا۔
    اس میں بہت زیادہ غلطیاں ہے۔
    آپ سے گزارش ہے کہ آئندہ کے لیے اشاعت سے پہلے اچھے طریقے سے تحریر کو پڑھے، پھر شایع کریں۔
    شکریہ۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!