تازہ ترین

چلاس:دیامر کے والدین اپنے بچیوں اور بیٹیوں کو سکولوں میں داخل کروائیں،اپنی بساط کے مطابق فنڈز فراہم کرونگا۔ حاجی اکبرتابان

چلاس: پھسو ٹائمز اُردُو | عمر فاروق فاروقی

چلاس گونر فارم ہائی سکول میں یوم والدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر حاجی اکبرتابان نے کہا کہ دیامر کے تمام علاقوں تھک ،گوہرآباد،نیاٹ اور داریل تانگیرمیں خواتین کی تعلیم کیلئے اپنی بساط کے مطابق فنڈزفراہم کروں گا،اور اس شرط کے ساتھ کہ دیامر کے والدین اپنے بچیوں اور بیٹیوں کو سکولوں میں داخل کروائیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں تعلیم نسواں کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے،قوموں کی ترقی کیلئے میل اور فیمیل ایجوکیشن بہت ضروری ہے ، اس موقع پر میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنی اے ڈی پی سے ہر سال 50 لاکھ روپے دیامر میں بچیوں کی تعلیم کیلئے خرچ کروں گا، اگر دیامر میں بچوں اور بچیوں کی تعلیم کیلئے میری پانچ سال کی پوری اے ڈی پیز دینے کی ضرورت پڑی تو میں دینے کیلئے حاضر ہوں ،مجھے دیامر کے لوگوں سے محبت ہے ،یہاں کے لوگ ٹریڈیشنل ،مہمان نواز،رواداراور وفادارہیں ۔انہوں نے کہا کہ چند عناصر کی مذموم عزائم کی وجہ سے ماضی میں دوریاں پیدا کی گئی ہیں ،اور بلتستان اور دیامر میں کمونیکیشن گیپ کی وجہ کچھ شرپسند لوگوں نے نفرتوں کے بیج بونے کی ناکام کوشیشیں کی ہیں ، اور اپنے مقاصد کیلئے ہمیں آپس میں لڑایا گیا ہے ۔دیامر کے عوام اس کمونیکیشن گیپ کو ختم کرنے کیلئے ایک دوسرے کے پاس آتے جائیں ،یہاں کے لوگ بلتستان جائیں اور بلتستان والے دیامر آئیں گے ،ہم ایک قوم تھے ،ہیں اور آئندہ ایک قوم رہیں گے،نفرتوں کے بیج بونے والے اب ناکام ہو چکے ہیں ،اور محبت نے نفرت کو شکست فاش کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے جب چاہے میرے پاس آسکتے ہیں ،میرے دروازے دیامر کے عوام کیلئے کھلے ہیں ،یہاں کے عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے مجھے صرف ایک فون کال کریں ،میں آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہوں ۔انہوں نے مزید کہا کہ لوڈ شیڈنگ پورے ملک میں ہے،دیامر میں لوڈشیڈنگ کے بحران پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائیں گے،ماضی کی حکومت نے بجلی اور دیگر ترقیاتی منصبوں کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں دیا،جس کی وجہ سے ،بجلی کا لوڈ شیڈنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018لوڈشیڈنگ فری سال ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ گلگت اور بلتستان میں لوڈشیڈنگ پر کافی حد تک قابو پالیا گیاہے ،انشاء اللہ بہت جلد بجلی بحران کا خاتمہ کریں گے۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!