تازہ ترین

ہنزہ الیکشن اور باباجان | تحریر : حسین علی شاہ | پھسوٹائمز ڈاٹ نیٹ

ہنزہ الیکشن اور باباجان | تحریر : حسین علی شاہ | پھسوٹائمز ڈاٹ نیٹ

بظاہر دیکھا جائے تو سید راجہ غضنفر اور حکمران جماعت کا بابا جان کے کاغذات مسترد ہونے میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا ہے لیکن سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ان حالات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ باباجان کا الیکشن سے باہر ہونے کا سیدھا فائدہ حکمران جماعت کو ہوگا۔ یوں تو سید راجا غضنفر اینڈ کمپنی ہی درخواست گزار ہوسکتے تھے مگر اس جگے پر انکی سیاسی بصیرت کام کرگئی اور انھوں نے پی پی پی کے ایک رہنما کے ذریعے یہ کام کردکھایا۔ اور ساری لعن تعن انکی جھولی میں ڈال دی۔

کیونکہ حفیظ سرکار یہ بات بخوبی جانتی تھی کہ نوجوانوں کی زیادہ جھکاوُ بابا جان کی طرف ہے اور اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو ہنزہ الیکشن میں حکمران جماعت کے ووٹ ٹوٹ کر پی پی کی جھولی میں گرسکتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ مزید کسی مشکل میں پڑجائے۔

پی پی کا ابھی تک لیکشن میں حصہ لینا واضح نہیں سوائے سعدیہ دانش صاحبہ کے ایک بیان کے علاوہ کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آرہی ہے۔ اگر الیکشن میں حصہ لیتی بھی ہے تو شاید ان کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اگر بابا جان کا ووٹ بینک ٹوٹ جاتا ہے تو اسکا سیدھا فائدہ میر غضنر اینڈ کمپنی کو ہی ہوگا۔ اور پیپلز پارٹی کے رہنماء اس بات سے بے خبر اپنی لئے الیکشن میں مزید مشکل پیدا کردی ہے کیونکہ اس طرح کی حرکات سے نا تو وہ اپنا ووٹ بینک بڑھا سکتی ہے اور نا حکمران جماعت سے مقابلہ کرسکتی ہے۔ بلکہ عوام اور خصوصاََ نوجوانوں کے دلوں میں اپنے لئے نفرت پیدا کررہی ہے۔ حفیظ سرکار کی یہ سیاسی بصیرت کام کرگئی اور میر غضنفر اینڈ کمپنی کی سمجھ بوجھ نے پیپلزپارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی ساکھ کوبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔

اگر بابا جان کے کاغذات منظورہوتے ہیں تو عوامی ورکرز پارٹی باباجان کے ذریعے گلگت بلتستان میں ایک جاندار انٹری دے سکتی جو پورے پاکستان کی مختلف سیٹوں سے زیادہ فائدہ مند اور اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ اس سیٹ میں عوامی ورکرز پارٹی کا سیدھا مقابلہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ہے۔ اگربابا جان اس الیکشن میں جیت جاتے ہیں تو عوامی ورکرزپارٹی آسانی سے اپنا نظریہ گلگت بلتستان میں پھیلا سکتی ہے۔ اور ایک ایم پیغام وفاق میں بننے والی حکومتوں کوبھی جاتا ہے کہ اب گلگت بلتستان کی سیاست کا رُکھ تبدیل ہورہا ہے اور یہاں وفاقی حکومت اپنی مرضی کا الیکشن کراکے اپنی مرضی کے اُمیدوار کو نہیں جیتا سکتی۔ 

 

About Passu Times

4 comments

  1. بہت عمدہ حسین بھائی

  2. Good work Nice post

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!