تازہ ترین

گلگت بلتستان میں واحد غریبوں کا مسکن بند ہونے کا خدشہ |تحریر : موسیٰ چلونکھا|پھسو ٹائمز اُردُو

پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں فلاحی ادارے چلانے والے شخص علامہ شیخ محسن نجفی کانام فوتھ شیڈول میں شامل کئے جانے کے بعد ان کی زیر نگرانی چلنے والے تمام فلاحی اداروں میں معاملات ٹھپ ہو گئے خاص طورپر مدینہ اہلبیت میں مقیم مستحقین اس وقت سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہے اور انہیں ملنے والی تمام مراعات اب بند ہو چکی ہے جسکی وجہ سے ان کی پریشانیاں روز بروز بڑھتی جارہی ہے .علامہ شیخ محسن علی نجفی کا شمار دنیا کی ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے فلاح انسانیت کیلئے کار نامے انجام دیئے اور لوگوں کیلئے مثال بنے شیخ محسن نجفی نے فلاحی امور کا آغاز 1990میں کیا 1990میں انہوں نے جابر بن الحیان ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور اس ٹرسٹ کے تحت سب سے پہلے انہوں نے گلگت بلتستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں اسوہ ایجو کیشن سسٹم کو متعارف کرایا انہوں نے بلتستان کے چار اضلاع سکردو، گانچھے، شگر، گھرمنگ سمیت ہنزہ نگر،چینوٹ اور پارہ چنار میں اسوہ ایجو کیشن سسٹم کے تحت بوائز اور گرلز سکولز قائم کئے بوائز اسکولز میں طلبا ء کی مجموعی تعداد 7520اور گرلز اسکولز میں طالبات کی تعداد 3320ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں غریب، یتیم، ناداراور مستحق بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ سکردو میں 2005میں قائم ہونے والی مدینہ اہلبیت میں مقیم نادار، یتیم اور بے سہارا بچوں کو کتابیں،وردیاں اور دیگر تمام چیزیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کالونی میں مقیم 1860سے زائد مستحقین کو مفت رہائش، کھانے پینے کی سہولیات بھی مہیا کی جاتی ہیں۔اس کالونی میں یتیموں اور بیواو ں کیلئے 40فیصد کوٹہ مختص کیا گیا 20فیصد کوٹے پر معزور اور بے سہارا افراد کو رہائش کی سہولیات دی جاتی ہیں۔چالیس فیصد کوٹہ نادار اور بے گھر لوگوں کیلئے مختص ہے کالونی میں رہائش اور دیگر سہولیات بلا رنگ ونسل،مذہب اور فرقے کے دی جاتی ہیں۔ معرکہ کرگل سے متاثر ہونے والے 25خاندانوں کو سکردو آستانہ کے مقام پر مکان بنا کر دیئے گئے ہیں 28گھر عید گاہ کے مقام پر تعمیر کئے گئے۔اسی طرح شیخ محسن نجفی نے ملک بھر میں حسینی ریلیف فاو نڈیشن کے تعاون سے 2005کے زلزلے کے متاثرین کو 7000گھربنا کر دیئے،ضلع گانچھے کے علاقے کندوس میں 2010میں سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے 280گھر تعمیر کئے،قمراہ میں سیلاب متاثرین کیلئے 21مکانات بنا کر دیئے گئے۔ اسی طرح سانحہ عطا آباد جھیل کے متاثرین کو 260مکانات تعمیر کر کے دینے کے ساتھ ساتھ ان میں دیگر اشیائبھی تقسیم کی گئیں۔ الکوثر ایجوکیشن سسٹم کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی متعارف کرائی گئی،اور اس سسٹم کے تحت اس وقت 340طلبہ پی ایچ ڈی اور ایم فل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جامعہ اہلبیت اسلام آباد میں 200کے لگ بھک طلبہ اسلامی علوم سے ہمکنار ہو رہے ہیں،اسوہ ایجو کیشن سسٹم کے تحت چلنے والے سکولوں سے فارغ التحصیل 230انجینئرز،150ڈاکٹر ز ملک کے مختلف اداروں میں اس وقت خدمات انجام دے رہے ہیں۔310اسٹوڈنٹس پاک آرمی میں سلکٹ ہو چکے ہیں اور یہ لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں الکوثر فاو 191نڈیشن کا قیام 1970ئمیں عمل میں آیا تھا بعد میں 1997کے اوائل میں شیخ محسن علی نجفی نے اس کا نظام انصرام سنبھال لیا اور الکوثر یونیورسٹی چلانا شروع کر دی۔شیخ محسن نجفی کی عاجزی وانکساری کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس کھر منگ کے علاقے منٹھو کھا میں دو کمروں پر مشتمل مکان اور اسلام آباد بری امام میں تین مرلے پر محیط مکان کے علاوہ ان کی اور کوئی ذاتی پراپرٹی نہیں ہے انہیں عوامی خدمت کے لحاظ سے گلگت بلتستان کا عبدالستار ایدھی کہے تو بجا نہ ہوگا انہوں نے پوری زندگی انسانیت کی فلاح اور غریبوں کی داد رسی کیلئے وقف کر دی۔ ان کی زیر نگرانی سکردو میں قائم ہونے والی مدینہ اہلبیت کالونی میں مقیم مستحقین کے اوپر ماہوار 18لاکھ روپے اخراجات آتے ہیں یہ اخراجات ملکی وغیر ملکی مخیر حضرات ادا کرتے ہیں شیخ محسن نجفی کے حوالے سے یہ بات زبان زد عام ہے کہ وہ بالکل غیر متنازعہ شخصیت ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سیاسی تقریب میں شرکت نہیں کی اور ہمیشہ غیر جانب دار رہ کر فلاح انسانیت کیلئے خدمات انجام دیتے رہے صحت کے شعبے میں ان کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے انہوں نے غریبوں کے علاج ومعالجے کیلئے کئی مراکز قائم کئے ان میں سکردو میں قائم ہونے والا عبداللہ ہسپتال سر فہرست ہے۔یہاں سالانہ 3ہزار سے زائد مریضوں کا مفت اعلاج کرایا جاتا ہے سال میں 12سو کے قریب مریضوں کے آپریشن بھی کئے جاتے ہیں دیگر علاقوں میں قائم صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مریضوں کو اعلاج ومعالجے کی مفت سہولیات دی جاتی ہیں اس کے علاوہ ہر سال دور افتادہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد کے ذریعے لوگوں کو اعلاج ومعالجے کی بہترین سہولتیں ان کی دہلیز پر پہنچائی جاتی ہیں۔10ہزار مریضوں کو سالانہ مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ شیخ محسن نجفی کی زنگرانی چلنے والے اداروں میں یتیموں، بیواو 191ں اور نادار لوگوں کو رمضان پیکیج بھی دیا جاتا ہے پیکیج کے اوپر لاکھوں روپے کی لاگت آتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بلتستان سمیت ملک بھر میں اب تک شیخ محسن نجفی کی زیر نگرانی کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیرات ہو چکی ہے اور متعدد اسکولز تعمیر کئے گئے ہیں مزید اسکولز اس وقت زیر تعمیر ہیں ۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!