تازہ ترین

اسلام آباد:پچھلی حکومت نے لوکل سطح پرآے ڈی پی بنا کراساتذہ جیسے اہم منصب میں نااہل اوران پڑھ لوگوں کی بھرتیاں کیں، وزیرتعلیم ثنائی

اسلام آباد: پھسو ٹائمزاُردُو | ابرار حسین استوری

وزیر تعلیم گلگت بلتستان ابراہیم ثنائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کی سب سے اہم ترجیحات میں گلگت بلتستان کے تمام اسکولوں کو وفاقی دائرہ کار میں لانے کے لیے کام کر رہے ہیں جس سے گلگت بلتستان کا تعلیمی نظام بہتر بنایا جا سکے. ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے لوکل سطح پر آے ڈی پی بنا کر اساتذہ جیسے اہم منصب میں نااہل اور ان پڑھ لوگوں کی بھرتیاں کیں. جس کی مثال 700 سے زائد ایسے کیسس سامنے آئے. ہم نے حکومت سنبھالتے ہی تمام ٹیسٹ این ٹی ایس کو دیا جس سے میرٹ پر بھرتیاں شروع ہوئی جبکہ مستقبل میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے لائسنس لازمی قرار دیا جو سات مراحل میں ترتیب دیا جا چکا ہے.

انہوں نے سب سے اہم اس بات کا اقرار کیا کہ گلگت بلتستان کے نظام تعلیم استور کی وجہ سے درہم برہم ہوتا ہے. استور کی سیاسی قیادتوں نے پورے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ نقصان استور کو پہنچایا ہے. استور کے وزراء اساتذہ کی ٹرنسفریوں میں سب سے زیادہ دخل اندازی کرتے ہیں اسی وجہ سے استور کی پوسٹ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ گلگت میں ڈیوٹیاں دیتے ہیں اور استور کے سکولوں کو لاوارث بنا کر چھوڑ دیتے ہیں.

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی اور آئینی صوبائی سیٹ اپ پر سفارشات وفاق کو بھجوائے. گلگت بلتستان کو آئینی حقوق ہر صورت ملنے چاہیے. یہ بہانا کسی صورت قابل قبول نہیں کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے سے مسلہ کشمیر پر اثر ہوگا. جب کھبی کشمیر پر برا وقت آیا گلگت بلتستان کی عوام نے ہر سطح پر جان و مال سے سپورٹ کر کے کشمیر کو بچایا. یہ کہنے والے احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے. ہم نہ کشمیر کا حصہ ہیں نہ کسی کے انڈر رہے ہیں. اور نہ ہی پاکستان سے الحاق کا کوئی ثبوت ہے. جو بھی یہ کہتا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے میں انکو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ آئے اور مجھ سے ڈیبیٹ کریں. اور اگر اس حوالے سے کس کے پاس کوئی ثبوت ہے تو لائیں. کراچی معاہدہ جس میں پاکستان اور کشمیر میں ہوا اسمیں گلگت بلتستان کی کوئی نمائندگی تک نہیں اور گلگت بلتستان کے ساتھ ڈبل گیم کھیلی جا رہی ہے. ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلٰی نے کشمیری ہونے کا اظہار کر کے بہت غلط کیا ہے. اگر وہ سچ میں اپنے آپ کو کشمیری کہتے ہیں تو گلگت بلتستان چھوڑ کر چلے جائیں. اور انکو گلگت بلتستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں ورنہ ایسی بات ان کے منہ سے نکلنا لمحہ فکریہ ہے وزیر اعلٰی کو گلگت بلتستان والوں نے گلگت کا فرزند سمجھ کر منتخب کیا ہے نہ کہ کشمیری سمجھ کر یہ بات انہیں سمجھنی چاہیے. وزیر تعلیم کا کہنا تھا میں گلگت بلتستان کا باسی ہوں اور اسی مٹی پر دفن ہونگا چاہیے میرے سو ٹکڑے بھی کیوں نہ کئے جائیں. مجھ پر اس مٹی کا قرض ہے. میں کشمیریوں سے گزارش کرتا ہوں وہ تاریخ پڑھیں تب انکو پتہ چلے گا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر پھر بھی ہم مسلمان ہونے کے ناطے اپنے حقوق سے محروم ہونے کے باوجود انکو سپورٹ کرتے ہیں. تو ان کو بھی یہ سب سمجھنا چاہیے.

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*