تازہ ترین

مضمون : کھسیا نی بلی کھمبا نوچے |تحریر۔ ثاقب عمر گلگتی(قلم کار تاجو)|پھسوٹائمزاُردُو

پاکستان پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ حق ملکیت کے حوالے سے عوام کو سڑکوں پہ لا ئی گی جب تک یہ لوگ قانون ساز اسمبلی میں تھے تب ان کو اس بات کی تو فیق نہیں ہو ئی کہ ایک قرار داد پاس کریں اور عوامی اراضی کو قانونی طور پر تحفظ دلا سکیں اس بار الیکشن میں پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہو نے کا دعویٰ کر نے والی بری طر ح شکست سے دوچار ہو گئی اور اس بار انہوں نے اپوزیشن کے لیئے عوام سے رابطہ کر نے کی ٹھا ن لی ہے اور ایک ایسا ایشو کو لیکر سامنے آئیں ہیں جو کہ عوامی حق میں ہے لیکن اس جماعت کے افراد کو ذراء عوام کو اس بات کا بھی بتا نا ہو گا کہ آخر سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون کس نے کس حیثیت سے معطل کر دیا جب تک بنیادی حقا ئق سے عوام کو آگاہ نہیں کیا جا ئے گا اس وقت تک کسی بھی قسم کا احتجاج انتقامی کاروائی کے زمرے میں آئی گی ۔ اس جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم سبسڈی کے لیئے احتجاج نہیں کر ینگے بلکہ حق ملکیت کے لیئے احتجاج کر ینگے ۔ یا تو ان لوگوں کا جی بی کی تا ریخ کا علم نہیں ہے یا تو منافقت کی انتہاء کر رہے ہیں ۔

جب بھٹو پہلی بار گلگت بلتستان آئے اور عوامی نمائندوں سے ملنے کے بجائے مولویوں کا سہارا لیکر سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون معطل کرا کر گلگت بلتستان کی سر زمین کو پاکستان کے لیئے واگذار کرا دیا اورسے حق ملکیت خا تمہ کر کے خلاصہ سر کار کا نیا قانون متعارف کرا یا ۔ یہاں اس بات کا ذکر لازم ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سبسڈی کو ئی خیرات نہیں ہے اور نہ بھٹو کا کو ئی احسان ہے بلکہ وہ یو نا ئیٹڈ نیشن کمیشن انڈیا اینڈ پاکستان کا پابند تھا اور ان قرار دادوں میں واضح طور پہ انڈیا اور پاکستان نے اقرار کیا یھا کہ وہ اپنے زیر تسلط علاقوں کے عوام کو سبسڈی دینگے اور اگر ان میں سے کو ئی ایک بھی فریق سبسڈی ختم کر ے گا تو دوسرا فریق کو یہ حق حا صل ہے کہ وہ بھی اپنے زیر تسلط علاقوں سے سبسڈی کا خاتمہ کر ے جس پہ مجبور ہو کر بھٹو نے سبسڈی منظور کر لیا اور جی بی کے عوام کو اشیاء خوردنوش سمیت دیگر چیزوں پہ سبسڈی دی گئی لیکن آہستہ آہستہ ان کو ختم کیا گیا لیکن انڈیا نے جمو ں کشمیر سے اب تک سبسڈی کا خا تمہ نہیں کیا ہے ۔ بلکہ جموں کشمیر کے عوام کے حق ملکیت سمیت ان کے تمام حقوق کو اپنے آئین کے تحت تحفظ فراہم کیا ہے اور اپنے آئین کے آرٹیکل نمبر 370میں ترمیم کر کے جموں کشمیر کے عوام کے حق ملکیت ، سٹیٹ سبجیکٹ رول ،متنا زعہ حیثیت کو برقرا ر بھی رکھا ہے اور سبسڈی بھی دیا ہے سا تھ ہی جموں کشمیر میں انڈیا کا کو ئی بھی شخص جموں کشمیر میں چو کیدار کی بھی نو کری ہیں کر سکتا ہے جبکہ جموں کشمیر کا کو ئی بھی فرد انڈیا کے اسمبلی کا ممبر بن سکتا ہے اور بنا بھی ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کو ذرا اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھٹو نے جی بی کے عوام پہ کو ئی احسان نہیں بلکہ عوام سے ان کے بنیادی حق کو چھینا لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کو متعارف کرا یا ۔

بھٹو اگر اتنا ہی دریا دل ہو تا تو اندروں سندھ میں لوگ بے گھر ہیں بھوک سے مر رہے ہیں ان کو سبسڈی دیتا پاکستان کے دیگر صوبوں کے غریب عوام کو دیتا لیکن ایسا نہیں کر کے صرف جی بی کو سبسڈی دینے کا علان کر نا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان سبسڈی دینے کا پابند ہے یہ کو ء خیرات نہیں ہے جو ہم مانگ لیں بلکہ یہ جی بی کے عوام کو حق ہے اور نصف صدی ہو ئی اب بھی یہ لوگ منافقت سے باز نہیں آرہے ہیں اور اب کی بار حق ملکیت کے نام پہ عوام کو سڑکوں پہ لانا چا ہتے ہیں ۔گلگت بلتستان کے عوام ذرا سوچ سمجھ کے ان مداریوں کا ساتھ دیں ایسا نہ ہو کل آپ کو سر چھپا نے کے لیئے چھت بھی نہ ہو ۔ ۔۔جاری ہے—
شکریہ


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 10 جولائی،2016ء 

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!