تازہ ترین

ایکسیڈنٹ ہوا اور بال بال بچ گیا | جاوید احمد ساجد سلطان آبادی | پھسوٹائمزاُردُو

ایکسیڈنٹ ہوا اور بال بال بچ گیا۔
۱۲ فروری ۲۰۱۹ ء کو ایک کلائنٹ کے پاس دس بجے جانا تھا تو آج دفتر جانے کی بجائے ڈائرکٹ اُس کلائنٹ کے پاس گیا اور وہاں کافی وقت لگ گیا فارغ ہو کر واپسی پر دفتر جاتے ہوے اسلام آباد سٹاک ایکسچینج سے تھوڑہ آگے گیا تھا کہ پیچھے سے ایک تیز رفتار کار والے نے آکر میری موٹر سائکل کو ٹکر ماری اور میں ہوا میں اچھل کر کافی دور سڑ ک سے ٹکرایا اس ایک سیکنڈ کے شاید ہی کچھ حصے میں میری ماضی اور مستقبل میرے سارے کردہ ناکردہ کرتوت نظر آئے لیکن میر ی کوئی چھوٹی سی نیکی جو میں نے کہیں غلطی سے شاید کیاتھا میرے سارے کرتوتوں پر غالب آگئی اور میں کسی بڑے حادثے سے بچ گیا ،’’ الحمد اللہ ‘‘ اور رولنگ کر کے رک ہی گیا تھا کہ کئی جوان لڑکے جن کو اللہ نے
میرے لئے فرشتے بنا کر بھیجا تھا اور انھوں نے نہایت احتیاط کے ساتھ مجھے اُٹھایا اور ہمت اور حوصلہ دیتے ہوے سڑک سے باہر نکالا اور بڑ ی ہمت دی اور میرے اوور کوٹ کو اتروایا اور حال احوال اور دردوں وغیرہ کے بارے میں پوچھا اور جب وہ کار والا آگیا تو اس نے مجھ سے بچوں کا نمبر پوچھا چونکہ میرے پسلیاں ٹوٹی تھیں اور ہنسلی کی ہڈی بھی ٹوٹی تھی جس کی وجہ سے بات کرنے اور سانس لینے میں دشواری محسوس کرہا تھا مشکل سے موبائل نکال کر ایک لڑکے کو بتایا تو اس نے علا الدین شاہ میرے زونل منیجر کا نمبر کار والے کو دیا تو اس نے فون کر کے ان کو بتایا کہ جاوید کا ایکیسڈنٹ ہوا ہے آپ لو گ ہسپتال پہنچ جائیں میں لے کے آرہا ہوں ، ان بندوں نے میرے سارے سامان سنبھا ل کر میرے لیپ ٹاپ کے بیگ میں ڈالا تھا اور موٹر سائکل کو سیور کے مخالف ساٗیڈ پر پارکینگ میں کھڑی کر کے چابی مجھے دیتے ہوے دو دفعہ دھراتے ہوئے کہا کہ آپ کا موٹر سیور کے بالکل سامنے پارکنگ میں کھڑی ہے اور پھرمجھ سہارا دے کر اس کار والے کی گاڑی میں بٹھایا اور سامان بھی اس کے ڈھگی میں رکھا تھا یہاں تک کہ میرے چشمے کا ایک شیشہ بھی گر گیا تھا تو وہ بھی ان اللہ کے نیک بندوں نے میرے جیب میں رکھا تھا یہ بعد میں مجھے پتہ چلا ، راستے میں میں نے بتایا کہ پولی کلنک لے کر جاؤ تو اس کار والے نے علاالدین کو دوبارہ فون کر کے بتایا کہ وہ مجھے پولی کلنک لے کر جا رہا ہے اس دوران میں نے اپنے بچے کو فون کر کے بتایا کہ گھر میں کسی کو نہیں بتانا کہ میرا ،ایکسیڈنت ہواہے، آپ ذوہیب دونوں پولی کلنک آجائیں جب کار والے نے مجھے ہسپتال پہنچایا تو میرے دفتر سے سارے لوگ وہاں انتظار کر رہے تھے۔ اور انھوں نے مجھے بڑا حوصلہ دیا اور ایمرجنسی لے گئے۔ جہا ں ابتدائی طبی امداد دیا گیا ٹیٹنس کا انجکشن لگایا گیا اور ایکسرے کیا گیا اور پھر ایکسرے کی رپورٹ دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ کی ہنسلی کی ہڈی ٹوٹی ہے پسلییوں میں چوٹ کی وجہ سے درد ہے جب کہ میں ہلتا تھا تو میری پسلییوں میں ہڈیوں کی رگڑ کی آواز آتی تھی اور ڈاکٹر مجھے فارغ کر رہے تھے کہ بازو کو سیلنگ کیا گیا ہے اور دوائی لکھا ہے یہ استعمال کرو اور کل آجاؤ لیکن اللہ بھلا کرے ڈاکٹر آئی یو بیگ صاحب کا جس نے دو ینگ ڈاکٹر بھیجا جنھوں نے مجھے لے جاکر سرجیکل وارڈ ون میں داخل کیا اور علاج شروع کیا گیا۔ اس کو کہتے ہیں قسمت اگر کل میرا کلائنٹ سے ملاقات ہوتی اور میں چک لے کر جاتا تو شاید آج یہ واقع پیش نہ آتا کیو ں کل بھی میں ان کے پاس گیا تھا۔ لیکن اللہ کی طر ف سے یہ ہادثہ ہو نا تھا اور پتہ بھی نہ چلا یہ واقع ہو گیا لیکن شکر اللہ کا کہ کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا اور اللہ نے بچایا الحمد اللہ۔ لیکن دوسر ے دن صبح تک کسی نے میری پسلی کی تکلیف کو نہیں مانا ، ۱۳ فروری کے صبح جب ڈاکٹروں کی ایک فوج آگئی تو ان میں سے ایک مہربان نے تھوڑہ دلچسپی کا اظہار کیا تو میں نے اپنی ساری صورت حال ان کے سامنے رکھا تو پھر اس نے غور سے ایکسرا دیکھا اور کہا کہ آپ کی پسلییوں میں بھی فریکچر ہے اور اس نے دوسروں کو بھی دکھایا اور ہر چار گھنٹے بعد دو انجکشن لگانے کی ہدایت کی اور اس طرح تین دن تک رکھا گیا دوسرے دن دوبارہ ایکسرا لیا گیا اور کہا گیا کہ تین پسلییوں میں فریکچر ہے ۔لیکن انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑتا ہے کہ کسی بھی ڈاکٹر اور نرس یا نرسنگ میں مریضوں سے ہمدردی اور دلچسپی نظر نہیں آیا جس کا ان سے توقع کیا جاتا ہے ڈاکٹروں کی حسن سلوک ہی وہ واحد چیز ہے جس سے آدھی مرض جاتی رہتی ہے ۔ پاکستان میں سوائے آغا خان ہسپتال کے عملے کے علاوہ میرے خیال میں کہیں بھی کسی بھی ہسپتال میں انسانی ہمدردی نظر نہیں آتی شاید شاز و نادر کوئی ڈاکٹر یا نرسنگ کا عملہ ایسا ہو جس کا حسن سلوک سے مریض متاثر ہو سکے۔چار دن بعد ۱۶ فروری کو مجھے کچھ دوائیاں دے کر فارغ کیا گیا اور ان دوائیوں کی مسلسل استعمال سے میدہ خراب ہو گیا اور انتہائی پریشانی اور گھبراہٹ شروع ہو گیا جس کے بعد میں نے دوائی لینا ہی چھوڑ دیا ، ۲۲ فروری کو ڈاکٹر بیگ کے پاس گیا انھوں نے بھی ایکسرے دیکھے اور کہا کہ ان کا علاج یہی ہے بازو کو گردن سے لٹکائے رکھنا ہے زیادہ سے زیادہ آرام کرو اور چھ سے ساتھ ہفتے لگے گا ، لیکن دوسرے دن گھبراہٹ کچھ زیادہ ہو گیا تو سی ایم ایچ گیا جہاں ایک دوست نائب صوبیدار عبدل رؤف صاحب نے بڑی مدد کی اور ادھر بھی صرف طفل تسلیاں دئے گئے ایکسرا کیا گیا، ای سی جی لیا گیا اور شوگر ٹسٹ کے بعدسب اچھا کا رپورٹ دے کر کچھ دوائی دے کر فارغ کیا گیا تو میں نے سب دوائی بند کیا صرف معدے کی دوائی رایزک ایک گولی لیتا ہوں اور گلگت کی دیسی دوائی اشکین اور دودھ ہلدی کا استعمال کرتا ہوں درد کی شدت کم ہے لیکن ابھی تک ٹوٹی پسلی اور ہنسلی کی ہڈی نہیں جڑی ہیں ، ۷ مارچ تک گھر پر ہی رہا اور سات مارچ کو دوبارہ ڈاکٹروں کے پاس گیا انھوں نے دوبارہ ایکسرے نکالنے کا کہا ایکسرے نکالنے کے بعد دوسرے دن رپورٹ لینے کا عندیا دیا گیا تو ۸ مارچ کو جاکر ایکسرے رپورٹ لے کے ڈاکٹر کے پاس گئے تو انھوں نے ارتھوپیڈک سرجن کے پاس بیجا ان کودکھایا جس نے ایک سرسری نظر دیکھا اور دو سر ے ڈاکٹر سے کوئی بات کیا اور دوائی تجویز کیا اور آرام کر نے کا کہاہم اللہ کا نام لے کر آگئے۔
۹ مارچ ۲۰۱۹ ء کو پورا دن گھر پر ہی تھا اور ہمسائیگی میں ایک ڈاکٹر ہے جو کہ انگلستاں سے پڑھا لکھا ہے اور تیس سال سعودی عرب کے وزارت صحت میں خدمات دے کر پنشن آیا ہے اور ہومیوپیتھی کا بھی ماہر ہے کہتا ہے کہ یہ ہومیو پیتھی میرے والد صاحب کی نصیحت کی وجہ سے کر رہا ہوں والد نے کہا تھا جو کام کرنا ہے کرو لیکن ہومیوپیتھی کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑنا ہے اس لئے یہ کام جاری ہے جب اس سے مشورہ لیا تو پہلے ایک ہسپتال اورڈاکٹر کا بتایا کہ ان کے پاس چلے جاؤ پھر ایک ہڈیوں کے ماہر کوئی دیسی ٹوٹکے والے کا بتایا کہ اُس کو بھی دکھاؤ اور پھر جلدی زخم کو ٹھیک کر نے کیلئے ایک ہومیوں نسخہ بھی دیا جو کہ تین تین قطرے صبح دوپہر شام پانی میں ڈال کر پینا ہے ایک چھوٹی سی شیشی کافی مہینگی دیا ہے جو کہ استعمال شروع کیاہے۔ اتوار ۱۰ مارچ کو بھی گھر پر ہی تھا ایک دو رشتہ دار آگئے اور خریت دریافت کی اور ان کے ساتھ کچھ وقت پاس کیا اور رات دس بجے یاد آیا تو ڈاکٹر میجر فیض امان ( ریٹارڈ) کی بچی ڈاکٹر پونر اور داماد ڈاکٹر سلطان جو کہ فوجی فونڈیشن ہسپتال میں ہیں کو فون کر کے صورت حال سے اگاہ کیا تو انھون نے بڑا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور پھر ایکسر ے کو واٹس ایپ پر بیجنے کو کہا تو فوٹو لے کر ان کو بیجا تو کوئی ادھا گھنٹہ بعد کسی ارتھو پیڈک سرجن سے مشورہ کر کے اس نے فون کیا اور بتایا کہ اس کا سرجری بھی ہو سکتاہے اور اسی طریقے سے بھی یہ ٹھیک ہو جاتا ہے عموماََ اس کا سرجری نہیں کیا جاتا اور اس نے انتہائی سختی سے منع کیا کہ کسی دیسی قسم کی طبیب کو بالکل بھی نہیں دکھا نا ہے اس جگہ بہت زیادہ شریان ہو تی ہیں کہیں کچھ اور مسلہ نا بنے ۔ اور پھر تھوڑی دیر بعد پھر فون کیا کہ سموار کو فوجی فونڈیشن ہسپتال
آجاؤ تاکہ پونر آپ کو وہاں کے ماہر ڈاکٹر کو دکھائے گی اور ایک اور مشورہ بھی ہو گا وہ آپ کو صحیح مشورہ دے گا۔
۱۰ مارچ۲۰۱۹ ء کو صبح اُٹھا تو بارش کی ہلکی فوار لگی تھی دس بجے میں اور شعیب حسن جاوید نکلنے لگے تو بارش انتہائی تیز ہوئی لیکن کریمی کی کار برف
خانے تک آگئی تھی مجبوراََ نکل گئے اس نے بھی گھما گھما کر لے گیا اور راستے میں بارش اور تیز ہو گئی بہر حال پہنچ گئے اور کوئی ادھا گھنٹے کی
انتظار کے بعد ڈاکٹر پونر ہمیں لے کر اس ماہر ارتھوپیڈک کے دفتر میں گئی اور دس منٹ بعد ڈاکٹر آگئے اور اس نے میرے بازو سیلنگ اتروا کر کندھے پر ہاتھ سے دباکر پھر باز و کو پکڑ کر مختلف زاویے میں گھما کر دیکھا اور ایکسرے دیکھا پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ ایکسرے نہ
دیکھیں اور نہ ہی کوئی ایکسرا آئندہ کرایءں اگر یہ ہڈی نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور جو سیلنگ چڑھایا ہے اس کو دو گھنٹے پہن لو اور چار گھنٹے
اتار کر رکھو اور آہستہ آہستہ مالش کراؤ اور ٹکور کراؤ اور یہ مشق جاری رکھنا باقی یہ خو دخود ٹھیک ہو گا اور پسلیاں ٹھیک ہو نگی اللہ نے ایسا نظام رکھا ہے البتہ ڈرائیونگ نہیں کر نا کوئی وزن دار کام نہیں کرنا اور یہ ایک دوائی کھانا یہ معدہ خراب نہیں کرے گا اگر گڑ بڑ ہوا تو یہ دوسرا گولی استعمال کرو ، وہاں سے نکل کر ڈاکٹر پونر سے بھی اجاذت لیا اور گیٹ کی طرف آکر دیکھا تو سخت بارش لگی تھی کوشش کے باوجود نٹ آن نہ ہو سکا پھر مجبوراََ شعیب بلڈنگ کو چھوڑ کر جی ٹی روڈ پر جاکر نٹ آن کر کے ایک کریمی کی گاڑی لے کر آگیا اور اس نے پہلے والے سے بھی زیادہ گھما کر لایا اور راول روڈ پی ایف سے راول چوک تک ٹریفک بالکل پک تھی اور بہت وقت لگا اللہ اللہ کر کے پہنچ گئے اور ۶۰۰ روپے کابل آگیا جبکہ جاتے ہوے ۴۰۰ روپے آیا تھا۔ بہر حال گھر آکر ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل جاری ہے ابھی تک تو ٹھیک ہے آگے اللہ بہتر کرے گا
۱۱ مارچ 2019 ء کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق بازو کا سیلنگ کھو ل کر چند گھنٹے بازو کھلا چھوڑتا اور وقفے وقفے سے ورزش کرتا رہا کیو نکہ ۱۲ مارچ سے ابھی بازو گردن میں حمائل ( لٹکایا ) گیا تھا شاید اس لئے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے کندھے کی جوڑ کے درمیانی گیپ بھی شاید کم ہوا ہے جس کی وجہ سے بازو کوحرکت دیتے ہوے درد ہو تا ہے اور اوپر نیچے اور دایءں بایءں ہلا نہیں سکتا تھا اب کچھ نہ کچھ حرکت دے سکتا ہوں ، دن بھر لیپ ٹاپ پر بیٹھ کر کچھ کلائینٹس کو کال کرنے اور کچھ فیس بک کرنے اور کچھ کتابیں پڑھنے میں گذارتا ہوں، بزرگوں کاقول ہے کہ تکلیف میں ساتھ دینے والے کم لوگ ہوتے ہیں یہ بات اس حادثے کے بعدسچ ثابت ہوئی بہت کم لوگ مخلص پایا جنھوں نے باقائدہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر کا ل کر کے موبائل پر میری خبر گیری کی اور مجھے حوصلہ دیتے رہے میں ان دوستوں اور رشتہ داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے اس تکلیف میں میرا ساتھ دیا میری حوصلہ بڑھائی اور میرا خیال رکھا جن میں میرے بچے اور بیوی کا سب سے زیادہ حصہ ہے اور یہ میرے لئے مشکل ہو گا ان مہربانوں کا فرداََ فرداََ نام لکھوں ایسا نہ ہو کسی کا نام رہ گیا تو ناراضگی کا سبب بن جائے اور نہ ہی ان مہربانوں کی ذکر لازمی ہے جنھوں نے پوچھا تک نہیں بہر حا ل ان لوگوں کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرونگا جن بہت کم لوگوں نے عملی طور پر، اخلاقی طورپر اور جسمانی طور پر یا موصلاتی لہروں کی دوش پر میری خبر گیری کی اور اپنے دعاؤں میں یاد رکھا ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس احسان کا جزا دے اور ان کو خوش و خرم رکھے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔ میں اپنے دفترکے تمام ساتھیوں کا اس بات سے ہٹ کر کہ وہ کس رینک یا عہدے پر ہیں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے ہر قسم کی میری مدد اور خبر گیری کیا یہاں تک کہ میری دفتری امور کو بھی میری غیر موجدگی میں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ اللہ ان سب کو جزاء خیر عطا فرمائے آمین، اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے جلد صحت کاملہ سے نوازے آمین ۔ اور میں ان جوانوں کا بھی بے حد مشکور ہوں جو میرے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے موقع پر انسان کے روپ میں فرشتہ بن کر پہنچے اور بہت جلد ہی مجھے کسی بڑے حادثے سے بچایا اور مجھے ہمت و حوصلہ دیتے ہوے ا س مصروف ترین سڑک سے باہر نکالا اور میرے سامان اور موٹر سائکل کو بھی سنبھالا اور مجھے ہسپتال پہنچا نے میں مدد کی اور اس مہربان کا ر والے کا بھی مشکور ہوں جس نے اپنی غفلت کی وجہ سے مجھے اس حادثے کا شکارکیا لیکن کمال مہربانی سے میرے منیجر کو فون پر اطلاع دیا اور ہسپتال پہنچایا ،میرا موبائل نمبر لینے کے باوجود میرے حال تک نہ پوچھا، اللہ اسے محتاط ڈرایؤنگ کی توفیق دیدے ۔ ان تمام ڈاکٹروں کا بھی مشکور ہوں جنھوں نے کسی نہ کسی طرح میری علاج میں مدد کی اور اپنے مشوروں سے نوازا ۔ میں ڈاکٹر آئی۔یو۔ بیگ کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہو گی جو ہر وقت ہمارے جیسے لوگوں کی مدد پر کمر بستہ ہیں جن کا ذکر میں نے اوپر کیاہے کہ ان ہی کی وجہ سے پو لی کلنک ہسپتال میں میری اچھی نگاہ داری کی گئی شکریہ بیگ صاحب ۔ سب کا شکریہ 

 

 

About Passu Times

One comment

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!