تازہ ترین

کولمبو کولمبو ہے | جاوید احمد ساجد سلطان آبادی | پھسوٹائمز اُردُو

صبح کے ۴ بج کر ۲۰ منٹ پر جاگا اور تیاری میں لگا اور تیار ہو کر پانچ بجے ایک ساتھی کو فون کر کے جگایا اور بتایا کہ اوبر یا کریمی کی کار ایک بک کرو ا دے اور پونے چھ بجے نکل جانا چاہیے انھوں نے بھی حامی بھری پھر ساڑھے چھ بجے نکل کر بلال ہسپتال کے نزدیک جاکر دوسرے ساتھی کو کال کیا تووہ بھی نکل آیا اور ساتھ ہی اوبر کی کار بھی آگئی دونوں نے سامان رکھا اور اللہ کا نام لے کر چل پڑے تقریباََ پونے سات بجے ہم دونوں اسلام آباد کے ہوائی اڈے پرپہنچ گئے۔ میرے ساتھی کے پاس کچھ بندوں کے ٹکٹ تھے جن کو اس نے واٹس ایپ کیا اور ایک دو اور ساتھی آگئے تو ہم روانگی کے کونٹر پر گئے ٹکٹ وغیرہ دکھایا بورڈنگ کارڈ حاصل کی اور ایمیگریشن ڈسک سے فارغ ہو کر گیٹ نمبر۱ B-کی طرف بڑھ گئے ، ’’ہم اکیلے ہی چلے تھے جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا ‘‘ کے مصداق ، اسلام آباد، گلگت بلتستان ، چترال ، پشاور اور آزاد کشمیر دفاتر سے بھی لوگ پہنچتے گئے اور ۴۶ چھتالیس افراد پر مشتمل قافلہ تیار ہو گیا اور کراچی کے لئے پروازنمبر ۳۷۳ کے مسافروں کو جہاز میں تشریف لے جانے کی علان کے ساتھ ہی پاکستانی جس طرح خان کوچز میں جلدی گھس کر جگہ پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح بعض مسافر ہوائی جہاز میں بھی جلدی جلدی جانے کی کوشش میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے لپکے۔ بہر حال پرواز وقت پر ہوا ،اور اسلام آباد کی پر فضا ء ماحول سے دور اور کرچی کی جانب مہوپرواز ہو گئے اور گیارہ بجے کراچی کے ہوائی اڈے پر پہنچ گئے اور باہر نکل کر سامان وغیر ہ لے کے ایک لمبی انتظار شروع ہوگئی اور میں چترال سے آئے ہوے ثنا اللہ اور عجاز صاحب سے ملاقات کے لئے گیا وہ اس جگہ ملے جہاں ہم لوگوں نے اپنا سامان ایک جگہ اکھٹہ رکھا تھا تاکہ چار بجے تک انتظار کر نے کے لئے آسانی ہو، ثنا اللہ صاحب برانچ منیجر اور عجاز اسسٹنٹ برانچ منیجرہیں ، دونوں ہی بڑ ے شفیق اور جوبلی کے شائیننگ سٹار میں شمار ہوتے ہیں چتر ال کے نوجوان اور با حوصلہ منیجرز ہیں ان سے مل کر بڑی خوشی ہوئی دونوں بڑے ملنسار، ہنس مکھ اور بڑے تعاون کرنے والے بندے ہیں اور ان سے مل کر وقت کاپتہ بھی نہ چلا کہ کسی نے آواز دیا کہ عاطف دلدار (جوبلی لائف کے سیلز ڈیپارٹمنٹ نارتھ کے ھڈ ) آگئے ہیں جو کہ ایک دن پہلے ہی وہ کراچی آگئے تھے۔ہمارے کولمبو کے ہوائی سفر کے ٹکٹ اور ویزے بھی انھوں نے ہمیں دینا تھا، سلام دعا کے بعد انھوں نے ہمیں ہمارے جوبلی کے منتظم عباد ، کی رہنمائی میں ایک ریسٹورنت میں دوپہرکا کھانا کھانے کے لئے بیجا اور خود سامان کی نگرانی کرنے لگے یہ ان کی لیڈر شپ اور قیادت کی ایک بہترین مثال ہے ۔ کھانا کھا نے کے بعد ہمیں ٹکٹ اور ویزے دئیے گئے تو پتہ چلا کہ ہم نے واپسی پر کراچی کے بجائے لاہورجانا تھا ۔ میرا پروگرام تھا کہ کولمبو سے واپسی پر کراچی میں اتر کر ایک دو دن اپنی بچی اور دوسرے رشتہ داروں سے ملاقات کرونگا اور ایک دو دن ٹھہر کر اسلام آباد چلا آونگا ورنہ میں اپنی بچی اور ا ن کے گھر والو ں کو ہوائی اڈے پر ملاقات کے لئے بلا لیتا جب کہ میں ان کو سرسری طور پر بتا بھی چکا تھا کہ واپسی پر ان کے پاس ایک دو دن ٹھہر کر جاونگا لیکن اب کوشش کے باوجود پلان میں تبدیلی نا ممکن تھا۔ لہٰذا میں نے اپنے عزیزوں کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ ہم ایر پورٹ آتے ہیں تو میں نے منع کیا کہ ابھی ڈیڑھ بجنے والے ہیں جلد ہی

ہم ایمیگریشن اور چک ان کے لئے اندر جانے والے ہیں اور یہ کہ اگر ممکن ہوا تو میں واپسی پر گھر جا کر دوبارہ کراچی آنے کی کوشش کرونگا ۔ چک ان کیا جاکر ایمیگریشن سے فارغ ہو کر گیٹ نمبر ۲۴ کے انظار گاہ پہنچے تو دو بج رہے تھے اسی موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوے گھر والوں اور بچوں سے بات کیا اور عزیز و اقارب اور یار دوستوں سے چیٹنگ ہو گئی3:30 بجے علان کیا گیا کہ کولمبو جانے والے مسافر جہاز میں تشریف لے جائیں 4:30 بجے جہا زنے ٹٹیکسی کرنا شروع کیا اور تقریباََ چار بج کر پنتالیس پر ہم پرواز کر چکے تھے ۔سری لنکن ایر لائن کی 1930 ء ماڈل ڈکوٹا ٹائپ کی ایک تھرڈ کلاس جہاز تھی جبکہ سینہالی زبان میں معلوم نہیں جہاز کے کیپٹن کیا کیا کہتا رہا کچھ پلے نہ پڑا میں سیٹ نمبر بی ۱۲ بیٹھا تھا جس کے سارے ساکٹ خراب تھے، وائی فائی بھی میسر نہ تھااور موبائل ساتھ والے کے ساکٹ میں لگاکرتھوڑا چارج کیا، کراچی سے پرواز کے بعد فائٹ کے نارمل ہوتے ہی بچوں سے بات کیا اور الوداع کہا پھر سری لنکن جہاز کے جھڑکے تھے اور ہم تھےْ ْْ اتنے جھڑکے تو شاید پاکستانی چنچی یا رکشے میں بھی نہیں لگتے جب کہ وہ پیر ودھائی کی ٹوٹی پھوٹی روڈ پر چل رہی ہو۔ گھنٹہ بھر کی سفر کے بعد ایک بہت بڑے شہر کے اوپر سے گذر رہے تھے شاید بھارت کی کوئی شہر تھی ، جہازبا لکل بھی آرام دہ نہ تھااور شور بھی بہت زیادہ تھا ۔ عملہ کی سروسز بہتر تھیں، کھانے میں چکن پلاؤ اور کسٹرڈ تھا اور بہت سے دوستوں نے شاید ایک ایک پیک بھی لیا۔ رات آٹھ بجے جہاز نے لینڈ کیا اور جہاز سے مسافروں کو شفٹ کرنے کے لئے ایک بس سروس دے رہی تھی پہلا شفٹ کو چھوڑ کر آنے تک ہمارے پسینے بند سیڑھیوں پر بہتا رہا اور باہر بھی نکلنے نہیں دے رہے تھے۔ کئی پھیرے لگاکر بس نے ہمیں شفٹ کیا اور پھر سامان لے کر اللہ اللہ کر کے جب ایمگریشن کونٹر پر پہنچ گئے تو پہلے شخص کے ہاتھ سے پاسپورٹ لے کر سٹمپ کرتے کرتے روک دیا گیا میں جس شخص کے سامنے گیاتھا وہ شاید ان میں سینیر تھا اس نے پوچھا کہ کدھر سے آئے ہو اور کیوں آئے ہو تو میں نے کہا کہ ہم چھٹیوں پر آئے ہیں پاکستان سے اور جوبلی لائف انشورنس کی جانب سے آئیں ہیں تو انشورنس کی بات پر وہ مسکریا اورموقع غنیمت جان کر میں نے بھی بتیسی نکال کر اس سے پوچھا کہ کیا وہ انشورنس لینا پسندکریں گے اس پر وہ مسکریا اور کندھے اُچکا کر اس نے میرا پاسپورٹ اپنے ڈسک پر رکھ کر اُٹھ کر چلا گیا اور پھر جلد ہی آکر سب کو سنہالی زبان میں شاید کلیر کر نے کو کہا اور اس کے باقی ساتھیوں نے کام شروع کیا اور اُس نے بھی آکر میرا پاسپورٹ سٹمپ کیا اور ہم آگے نکل گئے اس اثنا میں میرے ساتھ والے کونٹر پر عاطف دلدار صاحب ایمگریشن والے کے کافی سوالات کے جوابات دے چکے تھے یہی کہ کتنے بندے ہیں کیا اور بھی لوگ ہیں مزید کب آنے والے ہیں وغیرہ۔ پھر سامان لے کر باہر نکلے اور اس دوران ہمارے ٹور اوپریٹر اور گائد بھی پہنچ گئے تھے ، پتہ چلا کہ کچھ دن پہلے کوئی دو ہزار لوگ ملک میں داخل ہونے کے بعد بطور مہاجر درخواست دیا ہے اس لئے احتیاطاََ ہمارے ساتھ ایمیگریشن والوں نے ایسا سلوک کیا۔باہر نکل کر کچھ انتظار کیا پھر گایئڈ نے ہمیں بس کی طرف لے کر گیا انھوں نے ہمارے سامان رکھا اور ہم بس میں سوارہو گئے تو گائیڈ نے دو تین مرتبہ گنتی کیا اور بس کو چلنے کا اشارہ کر کے ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ کے آئی باون یعنی لمبی عمر پاؤ۔ جس طرح ہندو نمستے کہتے ہیں یہ بھی اسی انداز میں اداب بجا لانا شاید ہوتاہے

پھر اس نے کچھ قوانین کے بارے میں اور سکیوریٹی کے نقطہ نگاہ سے چند ہدایات دی گایئڈ کا نام دانیال تھا اور عیسائی تھا۔ اس نے بتایا کہ کل۴ فروری سری لنکا کا یوم آزادی ہے اور ہوٹل کے ساتھ ہی صدر کا سابقہ دفتر ہے جس میں خاص خاص دنوں میں وزیر اعظم یا صدر یا دونوں آتے ہیں اور نیا دفتر دوسری جگہ شفٹ کیا گیا ہے اس لئے بارہ بجے تک احتیاط کریں اور خاص کر فوٹو گرفی کرنے سے اجتناب کریں تاکہ کوئی سکیوریٹی کا مسلہ پیش نہ آئے۔ ہم بس میں سوار گائیڈ کی باتیں سنتے سنتے گلیڈریا ہوٹل پہنچ گئے ایر پورٹ سے تقریباََ گھنٹہ لگ گیا۔ ہوٹل کے لابی میں جوس سے تواضع کیا گیا پھر عباد اور ٹور اوپریٹر نے کمروں کی چابیاں تقسیم کی میرے ساتھ آزاد کشمیر کا ایک لڑکا تھا اس نے صرف کمرہ دیکھا اور چلا گیا اپنے دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ رہنے لگا۔ میرے کمرے میں ایک دوسرا ساتھی آیا جو کہ ماہر موسیقی تھا اور رات بھر موسیقی میں مصروف رہتا تھا میں موسیقی سنتے سنتے معلوم نہیں رات کے کس پہر سوتا تھا وہ خود سوتا بھی تھا یا نہیں ان پانچ دنوں میں مشکل سے دودو گنٹھے سو سکا اللہ ان کی موسیقی میں اور اضافہ کرے۔
سری لنکا: 1505ء میں یہ پر تگالیوں کی کالونی بن گئی اور1658 ء میں یہ برطانیہ کی نو آدیاتی کالونی بن گئی اور سری لنکا جو کہ چارفروری ۱۹۴۸ء کو برطانیہ کی نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرچکا تھا اور ترقی کے شاہراہ پر گامزن ہے کولمبوکی سڑکیں کشادہ صاٖ ف ستھری ہیں زیادہ سڑکیں سنگل ہیں اور یک طرفہ ٹریفک ہے پولیس بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ سیتھری بالا سری لین صدر مملکت اور کمانڈر انچیف ہیں۔ پہلا صدر ویلیم گویا ولد تھا، 1972 ء کی آئین کے مطابق جے آر جے وردنے پہلا ایکز یکٹیو صدر ہوا ، صدر کی تنخواہ گیارہ لا کھ ستر ہزار سری لنکن روپیہ ہے۔ وزیر اعظم رانیل ویکرا ما سنگھ جو کہ ۹ جنوری ۲۰۱۵ ء سے ہیں اور تنخواہ آٹھ لاکھ اٹھاون ہزار سر لنکن روپیہ ہے۔ پانچ بار ان کو وزیر اعظم منتخب کیا گیا ہے۔ 74.91 فی صد سنہالی، 11.2 فی صد ،سری لنکن تامل 9.2 فی صد مورز 4.2 فی صد انڈین تامل، .5 فی صد آبادی ملایہ ، ویداس، چائنیز، اور افریقی ہیں، زیادہ تر عمارتیں پرانی اور سنگل یا ڈبل سٹوری ہیں اور جدید اور اونچی اونچی عمارتوں کی بھی بنیاد ڈالی گئیں ہیں بعض عماریتں بہت ہی اونچی بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اکثر مکان برطانیہ دور کی نظر آتی ہیں شہر سے باہر جنگلوں کے بیچ میں انتہائی پستہ قد مکان دیکھنے کو ملتی ہیں جو مشکل سے نظر آتیں ہیں۔ خاص کر ہوائی اڈے کی طرف جاتے ہوے ایسی عمارتیں نظر ائیں جن کو دیکھ کر پاکستان کا اندروں سندھ یاد آیا ٹوٹی پھوٹی اور عجیب قسم کے مکانات لیکن مجموعی طور پر پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک سے بہتر ہے حالانکہ ان کی اپنی کوئی صنعت اور ، کارخانے نہیں سوائے چائے کوکونٹ اور پپیتا کے یہاں تک کہ رکشہ جن کو ٹک ٹک کہاجاتا ہے تک ساری مشنری بھارت کی ہے اس کا ٹوٹل رقبہ 25330 مربع میل اور65610کلو مٹر ہے۔ اس کی کل آبادی دو کروڈ سولہ لاکھ ستر ہزار نفوس پر مشتمل ہے آبادی کے لحاز سے یہ دنیا کا ایک سو بیسواں ملک ہے۔ سری لنکا نے 2009 ء میں ایک لمبے اور ختم نہ ہونے والی تامل ناڈو بغاوت کو پاکستان کی مدد سے کچل دیا اور آج ہر طرف امن و امان ہے۔ قدرتی ذخائر جس میں دریا، سمندر، پہاڑ ، میدان اور جنگلات سے مالا مال ہے بیس ایسے بڑے بڑے پارک ہیں جن میں ہر قسم کے جانور پائے جاتے ہیں اور سیلا نیوں کے دیکھنے

کو وہ کچھ ملتا ہے جسے وہ دیکھنا چاہتا ہے ۔ سرکاری مذہب بدھ مت ہے جو کہ ۷۲ فی صد آبادی پر مشتمل ہے ، ہندو ۱۸فی صد ، مسلمان ۹ فی صد باقی عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بستے ہیں ، سرکاری زبان سنہالی جبکہ دوسری زبان تامل اور تیسری انگریزی ہے جو تقریباََ سب لوگ جو پڑھے لکھے ہیں جانتے ہیں اور عام لوگ بھی ٹوٹی پھوٹی انگریزی بول لیتے ہیں ۔ شرح خواندگی ۹۲ فی صد ہے جو بہت زیادہ ہے اور فی کس آمدن 13165 ڈالر پر کپیٹا ہے جو کہ ایشاء میں سب سے زیادہ ہے اورسری لنکا کو قدیم زمانے میں سرعندیپ کہا جاتا تھا پھر سیلون کہا جانے لگا اور صبح کی نشریات میں ان اردو پروگرام ریڈیو سیلون بڑا مشہور تھا اب نشر ہوتا ہے یا نہیں بہت عر صہ ہو ا سننے کو نہیں ملا۔مسلمانوں میں یہ مشہور ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام یہی سر عندیب میں روئے زمین پر اترے تھے اور ادھر سے چل کر عرب گئے ہونگے ( واللہ عالم با لصواب) بر طانیہ والے سری لان کہتے تھے اور ۱۹۷۲ ء سے اس کا نام سرکاری طور پر سری لنکا پڑ گیا، کولمبو اس کا دارالحکومت ہے ، کولمبو کو ۱۵ حلقوں یا حصوں میں ( کولمبو نمبر۱ سے کو لمبو نمبر ۱۵) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سری لنکا میں دنیا کے ۱۰۰ ملکوں سے زیادہ اقسام کے جانور اور پرندے پائے جاتے ہیں ۔ سری لنکا میں ۴۰۰ ، اقسام کے پرندے، ۳۸۰ قسم کے مکڑی ، سو قسم کے سانپ اور ہزاروں اقسام کے دوسرے جانور اور کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں
یوم آزادی: ۴فروری کو سری لنکا کا قومی دن تھا، میں موسیقی سنتے سنتے سو گیا تھا اور پانچ بجے جاگ آئی تو موسیقی کی دھن میں نماز پڑھ کر سویا پھر سات بج کر تیس منٹ پر دوسرے ساتھی کوبھی اُٹھا کر ناشتے کے لئے گئے ناشتہ میں ڈرتے ڈرتے زیادہ تر پھل کھایا کچھ شہد کی ٹکیاں ، سبزی کی یخنی، اور کوکونٹ کا پانی خوب پیا اور ایک عد د انڈا اور ایک کپ چائے مشکل سے نوش جان کیا اور بس یہی تھوڑہ سا ناشتہ اور پھر موبائل ساتھ ہو تو بغیر فوٹو گرافی کے ناشتہ بھی ہضم نہیں ہوتا اس لئے فو ٹو گرفی بھی کیا اورواپس کمرے میں آتے ہی میرا ساتھی اپنی موسیقی میں مگن ہوا شاید ساتھ والے کمرے والے بھی لطف اُٹھاتے ہوں گے میں نے ایک دو بار باہر نکل کر کھلی فضا اور کولمبو کو دیکھنے کے لئے کہالیکن ۱۰ بجے تک ہلنے کا نام تک نہ لیا، میں نے ٹیلیویژن آن کیاتو جیسے کل ہی رہنماء نے بتایا تھا کہ آ ج ان کا یوم آزادی کی تقریبات ہیں ، ٹیلیویژن پر بھی ہوٹل کے نزدیک ہی ایک ساحل پر فوجی پریڈ کرتے ہوے دکھائی دئے جیسے پاکستان آرمی تییس مارچ کو کیا کرتی ہے۔ جو کہ ان کی پرانی صدر ہاوس کے سامنے ایک سڑک پر اس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جیسا کہ ہمارے رہنماء نے بتایا تھا کہ آج کا دن انتہائی احتیاط کرنی ہے جو کے سخت سکیوریٹی چکنگ ہوگی مگر جب ہم نیچے اتر آئے فوجی مارچ کرتے ہوے ہمارے ہوٹل کے آگے پیچھے سے گذر رہے تھے اور بڑی دنیا کیمرے اور موبائل تھامے فوٹو گرافی اور ویڈیو بنانے میں مصروف تھے پھر ہم کیوں کسی سے پیچھے رہتے خوب جی بھر کر فوٹوگرافی کیا۔ پاکستان میں چند یونٹیں آرمی کی اس پریڈمیں حصہ لیتی ہیں لیکن یہاں ایسا لگا کہ سرلنکا کی ساری فوج نے حصہ لیا ہے اور ان کی وردیاں بھی غالباََ ہر گروپ کی مختلف تھیں۔ شاید ان ہر رجمنٹ کی وردی دوسروں سے مختلف ہوتی ہوگی۔ مختلف وردیوں میں ملبو س فوجی چھاتی تان کر مارچ کرتے ہوے پرانے پارلمنٹ ہاوس کے سامنے چوک سے مختلف سمتوں میں شاہراہوں پر مارچ کرتے ہوے گذر گئے تو چھوٹی بڑی

گاڑیاں مختلف ہتھیاروں، میزائلوں ، ریڈارز اور سگنل کے اوزار سے لیس اور ان کے ساتھ ساتھ استادہ کھڑے فوجی فخر سے سینا تانے گذر
رہے تھے اور آخر میں مختلف سول سوسائٹی کے لوگ مردوں اور عورتوں کے الگ الگ جتھے رنگ برنگی لباس میں ملبوس اور ثقافتی نمائندگی کرتے گذر گئے اور اس طرح یہ پر رونق تقریب انجام کو پہنچا ، دنیا بھر کے سیاح ان تقریبات کو اپنے کیمروں اور موبائلز کے زریعے ویڈیو اور فوٹو اتار کرامر کر رہے تھے اور ہم نے بھی مقدور بھر کوشش کی اور خاص کر چند تامل لڑکے جو زرق برق لباس میں ملبوس ہمارے پاس سے گذرنے لگے تو ان کے ساتھ ہم نے بھی فوٹو اترواکر فخر محسوس کیا بل کہ اک شادی کی تقریب میں آئی ہوئی نوجوانیوں نے ہماری گلگت بلتستان کی ثقافتی ٹوپی اور بگلے کے پروں کو دیکھ کر ہمارے ساتھ فوٹو اتروانے کی خواہش کا اظہار کی تو ہم نے عمر شریف کو باقائدہ دوسری طرف
پھینک کر ان کے ساتھ فوٹو اترواینے میں بھی فخر محسوس کیا بلکہ ہم تو ان کے سنٹر میں کھڑا ہو نا ہی پسند کرنے لگے تھے لیکن بھلا ہو ان نوجوانیوں کا کے جلدی سے ایک طرف ہو کر مجھے ایکطرف ہی کھڑا کر نے کے بعد فوٹو اتر وایا اور خوشی خوشی چلتے بنی اور ہم بھی خوش ہو گئے کہ سر لنکن بچیوں نے بھی ہماری ٹوپی کو بھی بادشاہ کا تاج سمجھا اور کنگ کنگ کہنے لگیں۔
جب یہ تقریب اپنی خوبصورتی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی تو ہمیں بھی بھوک ستانے لگی اورشیر علی ، میاں جاوید ، سہیل ، میں اور تین خواتین نے د و ٹک ٹک (رکشا) کیا اور ایک دوسرے کے اوپر بیٹھ کر ٹوٹھی پھوٹی انگریزی میں ان سے کسی ہندوستانی ریسٹور نٹ پر لے جانے کی بات کر کے نکل گئے لیکن ان لوگوں نے ایک ایسے ریسٹورنٹ کے سامنے اتارا جہاں پر صرف بار اور ایسی چیزیں تھیں جو ہم کھا نہیں سکتے تھے باہر نکل کر ایک آدمی سے پوچھا تو اس نے سامنے ہی ایک ہوٹل کی نشان دھی کی ، ہم جب آرہے تھے تو بارش نہیں تھی لیکن اس رسٹورنٹ سے معلومات لے کر نیچے اترے تو بارش لگی تھی ہم لوگ دوڑ کر جلدی سے دوسرے ریسٹورنٹ میں داخل ہوے اور چاول اور مچھلی کھا کر نکل گئے اور ایک بس کے ذریعے اپنے ہوٹل پہنچ گئے۔ آ ج قومی دن کی چھٹی تھی اور ہر طرف ہو کا عالم تھا کوئی مارکیٹ ، کوئی دکان، کوئی چائے خانہ ، چھوٹی موٹی ریسٹورنٹ کھلی نہیں تھی۔
دوسرے دن آدم ہل یا مونٹین جانا تھا لیکن جب میں نے معلومات لیا تو پتہ چلا کہ ۵ گھنٹے کی بس میں سفر کے بعد پھر پیدل تین گھنٹے پہاڑ پر چڑھنے کا ہے تو میں اور دوسرے دوستوں نے اس ارادے کو منسوخ کیا اور نہیں گئے ہمارے کچھ دوست گئے تھے لیکن ان کی واپسی پر جو حالت ہوئی وہ تو اللہ بہتر جانتا ہے انھوں نے جو کہانی سنائی وہ کچھ اس طرح تھی کہ ان لوگوں نے چار فروری کو بارہ بجے کے بعد ہوٹل سے ایک کوسٹر کے ذریعے سفر شروع کیا اور شام چھ بجے کے بعد وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں سے پیدل سفر شروع ہوتا تھا ، پہلے ان لوگوں نے شام کاکھانا کھایا اورپھرپیدل سفر شروع کیا چند سو سیڑھیا چڑھ کر ایک کشمیری بھائی ان سے بچھڑ گیا پھر آہستہ آہستہ چند آدمی ہی رہ گئے جن میں ثنا اللہ چترالی اور عجاز چترالی تھے جو سب سے پہلے چوٹی پر پہنچ گئے ، اور پھر کچھ اور دوست جب سب لوگ اکھٹے ہو گئے تو وہ شخص غائب تھے جو سب سے پہلے ہی واپس بس کے پاس آنے کے لئے کہہ کرآگئے تھے تو اس کو ڈھونڈنے دو بندے چلے گئے لیکن پہلا والا بند ہ پولیس

کی مدد سے مل گیا تو دوسرے گم گئے اور پھر ان کو بھی پولیس کی مدد سے ڈھونڈ نکالا اور اس طرح دوسرے دن صبح ہو گیا توان لوگوں نے واپسی کی راہ لی اور دن کے ایک بجے ہوٹل پہنچ کر کمروں میں گھس گئے اور پھر دوسرے دن ہی باہر نکلے۔ اور آدم علیہ السلام کے پاؤں کے نشان والاپتھر بھی پردے میں تھا دیکھنے بھی نہیں دیا گیا اور مزے کی بات یہ ہے سری لنکن نے اپنے سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اس پتھر پر کپڑا ڈال کر ہر ایک کو ان کی مذہب کے مطابق بتاتے ہیں جیسے مسلمانوں سے کہا کہ آدم علیہ السلام کی نشانی ہے عیسائیوں کو بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی نشانی ہے اور اپنے لوگوں کو بدھا کی نشانی اسی طرح خوب کماتے ہیں۔ پاکستان کے سوا جس ملک میں جاؤ تو آپ کو وہاں کے لوگ اپنے ملک کے وفادار ملیں گے اور جو بات بھی کریں گے اپنے ملک وقوم کے فائدے کے لئے کریں گے لیکن یہا ں پاکستانی ہیں جو صرف ذاتی مفاد کو ترجی دیتے ہیں، چاہے وہ امیر ہو یا غریب حاکم ہو یا عوام،اور خاص کر سیاست دان اس معاملے میں بہت حساس ہیں۔
5 فروری 2019 ء بمطابق 29 جمادی الاول 1440ہجری بروز منگل صبح چار بج کر پچاس منٹ پر اُٹھا اللہ کو یاد کر کے پھر سونے کی کوشش کی آٹھ بجے تیار ہو کر ناشتے کے لئے گئے اور ناشتہ اس طرح کیا کہ شاید دو دن تک ہم نے مزید کچھ نہ کھانا ہو، ناشتے کے بعد کمرے آگئے اور تیار ہو کر کہیں گھومنے کے لئے جانے کے لئے لابی میں آگئے مگر دوسرے ساتھی آہستہ آہستہ کھسک کرغایب ہو گئے اور کچھ دیر بعد دیکھا تو ہم اکیلے تھے ۔ میں نے عارف صاحب اور زرق خان سے رابطہ کیا تو وہ آگئے اور ایک ٹک ٹک میں نکل گئے اُس ملک میں یہ مشاہدے میں آئی کہ رکشے یعنی ٹک ٹک والوں کا کسی نہ کسی ہوٹل،دکان، کسی سپر سٹور یا ریسٹورنٹ والے سے سواری لانے کا کمیشن ٹوکن طے ہوتا ہے اور ٹک ٹک والے کوشش کر کے انہی جگہوں میں اتارتے ہیں چاہے سواری کچھ لیں یا نہ لیں لیکن وہ ٹوکن حاصل کرتے ہیں ہمیں بھی اس ٹک ٹک والے نے ایک ایسی دکان کے سامنے اتارا اور جب ہم اندر گئے تو ہمارے کام کا کوئی شے ندارد ،ہم نکل گئے اور دوسری جگہ گئے وہاں بھی ہمارے مطلب کی کوئی شے نہ تھی پھر ایک دو بندوں سے معلومات حاصل کیا تو ایک بڑی مارکیٹ جو کہ جانی پہچانی لیبرٹی مارکیٹ کا نام دیا گیا اور ہماری رہنمائی کی گئی قریب ہی تھی کئی منزلہ یہ مارکیٹ بہت اچھی مارکیٹ تھی، کچھ سیلون چائے اور قہوہ (سبز چائے )خریدی اور نیچے اتر کر ایک انڈین ریسٹورنٹ گئے دوپہر کا کھانا کھایا ، دال ، مکس سبزی اور چکن تھا اور ساتھ چپاتی گرم اور نرم تھے ، 1150 فی کس بل ادا کیااور نکل گئے جو کہ پاکستان کے شاید 5 سٹار ہوٹل کا بل کے برابر تھا جو کہ 897 روپے پاکستانی کے بنتے ہیں، کولمبو میں مہنگائی بہت زیادہ ہے لیکن کرایہ ، ٹیکسی وغیرہ کم ہے، لیکن فی کس آمدن کے لحاظ سے مہنگائی کم ہے چونکہ سری لنکا کی فی کس آمدنی جنوبی اشیا ء میں سب سے زیادہ 13165 ڈالر پر کپیٹا ( فی کس سالانہ )ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ کھانا کھا کر ہم لوگ واپس ہوٹل آگئے میرا ساتھی ابھی تک غائب تھاکچھ دیر آرام کے بعد میں لابی میں آیا تووہاں پر آغا جواد صاحب ملے ان سے گپ شپ ہوئی تو اس نے بھی سبز چائے خریدنے کا ارادہ کیا اور کمرے میں جا کر آنے کو کہہ کر چلا گیا تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ و ہ چھت پر ہیں اور مجھے بھی بلایا وہاں سے خوبصورت نظارے دیکھے اورکچھ دیر لطف اُٹھایا اور ساحل پر جانے کے ارادے سے نیچے اتر آئے اور پھر صدر ہاوس کے سامنے سے سڑک

پار کیا اور دو یورپی سیاحوں سے ملاقات ہوئی ان کے ساتھ فوٹو گرفی کیا اور پھر ساحل کے ساتھ ساتھ سمندر کے اوپر غروپ ہوتے سورج کا خوبصورت نظارہ دیکھا اور تصویریں اُتاریں اور لطف اُٹھاتے بہت دور تک گئے۔ایک مسلمان کھو کے والے سے ملاقات ہوئی اس کا نام بھی محمد جواد تھا واپسی پر بہت دیر تک لابی میں بیٹھے گپ شپ کیا اور پھر ایک مسلم ریسٹورنٹ پر کھا نا کھانے کا پروگرام کیا اور نکل گئے۔ میں ، سردار یونس اور ایک اور دوست ایک ٹک ٹک میں بیٹھ گئے اور آغاجواداور دو ملتانی خواتین دوسرے میں سوار ہوے اور ہم اسی ریسٹورنٹ میں پہنچ گئے جس کا نام پلاوہ ریسٹورنٹ تھا جب کہ آغاجواد وغیرہ نہیں آئے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ کسی فلاور ریسٹورنٹ میں پہنچ گئے یہ آغا جواد اور ساتھیوں کی ہاتھ کا کمال تھا یا رکشے کی ٹک ٹک کا ،معلوم نہیں ’’ وللہ عالم با الصواب‘‘ میں اور سردار صاحب نے سبزی پلاؤ کھایا جب کہ اسلم فوجی نے صرف سبز چائے پیا۔ یہ واقع ہی ایک مسلمان کاہوٹل تھا اس نے خود دلچسپی لے کر ہمیں کھانا پیش کروایا اور ساتھ میں آلو کی اور پیاز کی بجیا بھی کھلایا اور کھانا کھا کر جب ہم ہوٹل پہنچ گئے تو ہمارے پیچھے پیچھے ہی آغا صاحب اور ساتھی بھی آگئے اور انھوں نے ٹک ٹک پر سارا ملبا ڈال کر گلو خلاصی کی، بہت دیر تک گپ شپ کیا اور پھر میں ایک کال کے بہانے کھسک گیا اور کمرے میں آکر کچھ لکھا اور پھر موسیقی کی دھن میں سو گیا۔
فروری 6 ، 2019 ء بمطابق 30 جمادی الاول 1440 ہجری بروزبدھوار ساڑھے چار بجے اٹھا اللہ کو یاد کی پھر لمبا پڑا ابھی ساڑھے چھ بجے تھے کہ ویک اپ کال آئی اور اٹھنا پڑا تیاری کیا اور ساتھی کو بھی جگایا اور پھر ہم تھے اور ناشتے کی میز آج بھی ہم نے حسب معمول ایک گھنٹے تک معمولی سا ناشتہ کیا اور کمرے میں آکر بیگ لیا اور لابی میں آگئے آج آٹھ بجے سمندر پر جانا تھا جو کہ یہاں سے دو ڈھائی کا سفر ہے لیکن مشکل سے نو بجے نکل گئے ، آج میرے ساتھی نے ٹوپی پہننے سے منع کیا تھا جب بس میں گیا تو بہت سے دوستوں اور دستنیوں نے اصرار کیا کہ جاکر ٹوپی لاؤں اور میں جاکر ٹوپی لے کر آگیا اور بس روانہ ہو گیا میں اور آغا جواد صاحب ایک ساتھ بیٹھے تھے اور راستے بھر سری لنکا کے جنگلات ، اور ساحل سمندر سے لطف اندوز ہوتے ہوے ۱۱ بجے کے قریب بن ٹوٹا کے سیر گاہ پہنچ گئے بس سے اتر کر جواد صاحب کا ایک فوٹو کھینچا اور ساحل پر گئے جہاں بہت سے سٹیمر والے ہمارے انتظار میں تھے انھوں نے جاتے ہی کچھ کارڈ قسم کی تعویز نما کاغذ ہمارے گلے میں لٹکایا معلوم پڑا کہ یہ سٹیمر، جٹ، اور موٹر بوٹ پر سمندر میں گھومنے اور لطف دوبالا کرنے کی راہداری یا ٹکٹ تھے۔ لائف جیکٹ کچھ نے پہن لیا اور کچھ نے نہیں میں نے بھی ایک پہن لیا اور ہم سب گلگتی ایک بوٹ میں سوار ہوے اور ایک خلیج کی طرف چل پڑے سب نے موبائل نکال کر ویڈیو اور فوٹو گرافی میں مصروف ہو گئے دوسری طرف ایک جنگل تھی اسکے بیچ میں سے جو خلیج تھی اس میں سے گذر گئے ایک دو جگہ مگر مچھ قسم کے جانور دیکھے گئے اور ایک جگہ جنگل میں ایک گوہ تھا جس کو ہمارے سری لنکن بوٹ ڈرایؤر نے سلمانڈو کہا تو ہم سب نے شور مچایا کہ یہ صاحب سلمان ہیں کیا تم لوگ سلمانڈو کہتے ہو، دوست احباب خوب ہنسے اور ہم اس بے یا خلیج سے گذرکر دوسری جانب سے واپس آگئے اور ایک جگہ کنارے پر ایک بندہ ایک چھوٹی سی کشتی کے ساتھ کھڑا تھا ہمارے منع کر نے کے باوجود ہمارے

کشتی بان نے اپنا بوٹ اس کے ساتھ لگا کر روکا اور ایک مگر مچھ کا بچہ زبردستی ہاتھ میں پکڑنے کے لئے کہا اور ہمارے ساتھی گروپ منیجر اقبال نے تھوڑی دیر ہاتھ میں پکڑا ،ہم صرف فوٹو گرافی ہی کر سکے، اس دو منٹ کے اقبال صاحب نے سو سری لنکن اس مگر مچھ نسل کو ادا کیا اور ہم با خریت واپس کنارے پر اتر آئے میں جٹ اور موٹر سائکل بوٹ پر نہیں گیا اور جب لوگ ان تینوں ایونٹ یا اہداف سے فارغ ہوے تب تک میں اور دوسرے چند دوستوں نے ایک سر ی لنکن بوڑھی سے کچھ سودا بھی کیا تھا۔ میں نے اپنے پوتے صائم علی اور ثنان علی کے لئے کو کو نٹ کے لکڑی کے بنے ہوے دو ہاتھی خریدا جو کولمبو میں بارہ سو کا ایک دیتے تھے میں نے اس بوڑھی سے نو سو کے دو خریدا، اس طرح کچھ خواتین نے بھی موقع سے فایدہ اُٹھایا اور اس بوڑھی کو بتایا کہ یہ ٹوپی والا ہمارا بادشاہ ہے اس لئے یہ چیزیں ہمیں رعایتی ریٹ پر دے دو اور اس نے دیدیا اس کے بعد ہم لوگ خلیج کی دوسری جانب ایک پل ک ذریعے گئے اور دوپہر کا کھا نا کھا کر واپس آ گئے اور واپسی پر جس شاہراہ پر آئے نہایت صاف کشادہ اور دو رویہ نہایت خوبصورت مناظر اور جنگلا ت سے ڈھکی ہوئی دلفریب نظارے ، سر سبز پہاڑ ،پلاٹو، مرتفع اور میدان تھے ٹریفک کم کم تھی۔ بن ٹوٹا سے واپسی پر ہوٹل میں کچھ دیر آرام کے بعد شام کے پروگرام کے لئے نکل گئے اور ایک ہندوستانی ریسٹورنت میں رات کا کھانا اور پھر سری لنکن ثقافت ناچ گانے اور نوجوان اور نوجوانیاں پوری جوبن کے رونق افروز تھیں اور انڈین ، پاکستانی اور سرلنکن دھنوں پر دیر تک تھرکتی رہیں اور حاظرین کو محظوظ کیا اور خوب داد سمیٹتی رہی اور واپسی پر ہم ہنزہ والوں کے ساتھ پیدل ہی فوٹو گرافٖی کرتے ہوے ہوٹل پہنچ گئے اور پھر ثنااللہ اور عجاذ کے ساتھ کچھ فوٹو گرفی کیا اور پھر رات ایک بجے سو گئے۔
اس دفعہ آغا جواد صاحب اور انعام پشاوری کے ساتھ بہت اچھا وقت گذارا ، دونوں بڑے زبردست بندے ہیں۔آغا جواد جو کہ جوبلی لائف انشورنس کے علاوہ بھی ایک بہت بڑے کاروباری شخصیت ہیں لاہور کے مارکیٹ میں ان کا ایک بڑا نام ہے، ان کے اپنے کپڑے کے کئی کارخانے ہیں اور دکان بھی چلاتے ہیں اور جوبلی لائف انشورنس کے چمکدار ستاروں میں ان کا شمار ہو تا ہے، ان کا یہ ریکاڑڈ ہے کہ یہ ہر کنونشن اور کانٹسٹ جیتتا ہے اور کئی سالوں سے یہ سالانہ ایم ڈی آر ٹی کرتا ہے جس کی سالانہ میٹنگ امریکہ میں ہو تی ہے اور پوری دنیا کے انشورنس ایجنٹ اس میں حصہ لیتے ہیں یہ 2018 میں بھی امریکہ یاترہ کر چکے ہیں، یہ ایم آر سی سے لے کر لوکل کسی بھی کانٹسٹ یا تار گٹ (ہدف) خالی نہیں جانے دیتا اور اس کے علاوہ برکت مارکیٹ لاہور میں بھی ان کی دوکان ہے یہ ایک مکمل کاروبار ہے۔
یہ ایک ایسا دل پھینک آدمی ہے ہر لمحے اس کا دل کسی نہ کسی پر تھوڑی دیر کے لئے اٹکتا ہے خوبصورتی ان کی کمزوری ہے چاہے وہ پاکستانی ہو یا انگریزی، ہندستانی ہو یا جاپانی یہ دس منٹ کی عشق لڑائے بغیر نہیں رہ سکتا مذاق ایسے سلجے انداز میں کرتا ہے کہ سامنے والا بالکل حقیقت سمجھتا ہے ، یہ ایک حسین اور ہر دلعزیز شخصیت کا مالک ہے لوگوں سے ایسی بات کرتا ہے جیسے یہ گاہک کوگرویدہ بنانے کے لئے اپنی دکان پر کرتا ہے ۔ اس دن بھی بیسویوں دوستوں سے بڑے سیریس ہو کر کہتا رہا کہ میں نے پیسے کسی کو دیدیا اب مجھے ایک سو ڈالر کی ضرورت ہے کوئی مجھ سے سولہ ہزار پاکستانی لے کر ایک سو ڈالر دیدے اور لوگ بھی اسے حقیقت سمجھ رہے تھے معلوم نہیں ایسے کتنے لوگوں سے ایسی بات کی ہوگی اور

لطف اٹھاتا ہو گا۔
لطیفہ : ہم ہوٹل کے لابی میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے ہمارے ایک بزرگ ساتھی سردار یونس جن کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے جواد صاحب نے بڑے سیریس ہو کر سردار صاحب سے پہلے ڈالر کی درخواست کی پھر کہا کہ سردار صاحب ہمیں کھانا کھلائے، اس بات پر سردار صاحب نے ریسٹورنٹ سے مینو منگوایا اور کہا کہ چلو اپنا اپنا پسند کا کھانا دیکھو اور پھر آڈر دیتے ہیں لیکن اس کے بعدکئی مرتبہ جواد صاحب اٹھ کھڑا ہوا کہ چلو باہر کہیں جاکر کھانا کھاتے ہیں لیکن سادہ لوہ سردار صاحب ان کو روکتے تھے کہ یار جواد تم نے مجھے کھانا کھلانے کو کہا ہے اور پھر اُٹھ کر دوسروں کے ساتھ جاتے ہو کیسے آدمی ہو، اور پھر باتوں باتوں میں سردار یونس نے اپنے دانتوں کا ذکرتے ہوے کہا کہ میرے دانت نہیں ہیں اور یہ کسی مہربان کی وجہ سے گر گئے ہیں تو ہم سب متوجہ ہوے کہ کیسے ،سردار نے کہا کہ کسی نے کہا کہ ہنگ لگاؤ تو دانت ٹھیک ہو گا
درد نہیں کریں گے اور میں نے ھنگ لگایا تو سارے دانت گر گئے ہم سب کو بڑا افسوس ہوا لیکن کسی کے کچھ ہمدردی سے پہلے ایک خواتون بول پڑی تو ہم سب اس کی طرف متوجہ ہوے کہ شاید یہ کچھ ہمدردی کا اظہار کرے لیکن اس نے بغیر سوچے کہا کہ اوہو یہ تو بڑا اچھا ہوا اور پھر جلدی سے خود ہی کہنے لگی اوہو میں نے یہ کیا کہاتو ہم سب بولے کہ یہ تو بہت اچھا ہوا اس نے کہنا تھا کہ یہ تو بڑا ٹریجڈی ہوا تمھارے ساتھ لیکن اس نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوا، اور سب لوگ ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے اور دیر تک ہنستے رہے اور واپسی پر بھی پاکستان پہنچ کر بھی ہم نے سردار صاحب کو یاد کیا اور ہنس کر لاہور ہوائی اڈے سے رخصت ہو گئے۔
آغاجواد صاحب اور انعام الحق کے ساتھ ناشتے پر بہت مزہ آتاتھاوہ شہدکے گیارہ گیارہ ٹکیاں کھاتے تھے اور پھر الم غلم معلوم نہیں کیا کیا کھاتے تھے ۔ہم تو ان کو دیکھ کر حیران ہوتے تھے، اور پھر ہم بھی کچھ کم نہ تھے شہد کھاناہم نے ہی ان کو بتایا تھا اور کوکونٹ کا پانی بھی درجن درجن گلاس پیتے تھے ان کے پیٹ تھے معلوم نہیں یا بوری۔ اور پھر سات تاریخ کو ہم نے ناشتے کا ریکارڈ ہی توڑ دیا، میں نے دو کپ کافی میں کئی پیکٹ شہد کا ڈال کر چٹ کر لیا، یوں ڈیرھ گھنٹے بعد نکل آئے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا ہے کہ میں اور جوادصاحب ۴ فروری کے سہ پہر کو ہوٹل کے نزدیک ہی ایک ساحل کی طرف چلے گئے۔ سری لنکا کے صدر کے دفتر کے سامنے بہت سے قومی ہیرووں کے پوٹریٹ استادہ تھے ان کے سامنے سے فوٹو گرافی کیا دو نوجوان یور پین جوڑہ گذر رہا تھاجواد سے رہا نہ گیا عادت سے مجبور ان کو بلایا پہلے ان سے کہا کہ ہماری فوٹواتار لیں پھر اس گورے نے ایک خوبصورت فوٹو لیا باوجود کہ ہمارے اور صدردفتر کے درمیان شاہراہ پربہت سی گاڑیاں چل رہی تھیں نہایت ہی مہارت سے ان سے بچا کر فوٹو لیا بہت خوبصورت تھا، پھر ان کو پکڑ کر ایک سلفی بھی ہم نے اتارا ،ان کو درمیان میں کھڑا کیا تھا لیکن صنف نازک سے جواد صاحب چپک گئے اور مجھے لڑکے کی طرف دھکیل دیا ، وہاں سے ہم ساحل کے ساتھ ساتھ چل پڑے، ساحل کے کنارے ریڑھی بان ، چائے اور کھانے پینے کی مختلف اسٹالز ، کھوکھے والے قطار اندر قطار تھے لوگ ان سے نرخ پوچھتے اور جہاں کوئی شے پسند آئے بیٹھ کر یا کھڑے کھڑے نوش جان کرتے اور بہت سے لوگ جواد کی طرح باتوں پر ہی ٹرخا کر کچھ نہ کچھ ،ذایقہ چکتے ہوے

آگے بڑھتے اور ہم نے بھی بہت سے لوگوں سے بات کیا اور کچھ نہ کچھ ذائقہ چکتے ہوے ایک مسلمان کے سٹال پر پہنچ گئے اس نے ہمیں دیکھتے ہی سلام کیا اردو میں احوال پرسی کی اور بڑے اشتیاق سے بتایا کہ الحمداللہ مسلمان ہے اور یہ کہ چکن ذبح شدہ ہے ، ہم نے ذائقہ چکا واقع ہی مزیدار تھا ، اس کا نام بھی محمد جواد تھا اور جواد صاحب نے کھوکھلے اخروٹ اس کے دامن میں بھر دئے اور ایک ہوائی سلام پھینک کر آگے بڑھے بہت سی فوٹو گرافی کیا اور آہستہ آہستہ واپسی کی راہ لی ۔لابی میں بہت ستے دوستوں کو جواد صاحب اپنی میٹھی باتوں سے گھیرتا رہا اور ہر ایک کو بتا تا کہ میں نے اور جاوید صاحب نے غروب آفتاب کی جو نظارے دیکھے اور ساحل پر جو لطف اُٹھایا اہوہو کیا ہی مزہ تھا بھائی جاوید آپ خود ہی ان کو بتا دیں یار اور وہ مسلمان جس نے جو چکن پیس کھلایا اس کا ذائقہ ہی کچھ اور تھا یار کیا ٹیسٹ تھا ہائی ہائی ایک دفعہ پھر چلیں کیا خیال ہے ابھی چلیں ،لیکن میں کہتا کہ کل کسی وقت چلتے ہیں اور پھر ایک فوٹو نکال کر دکھاتا دیکھو یار یہ فوٹو یہ اس نے ادھر سے نکالا ادھر سے اور دل پر ہاتھ رکھ لیتا کہ ادھر سے نکالا ہے، ہم نے جو مزے لیئے آج کسی نے دیکھا تک بھی نہ ہوگا اور پھر اُشش کرتا اور لوگوں کے منہ سے رال ٹپکنے لگتے۔
7فروری بروز جمعرات دس بج کر تیس منٹ پر میں اور میرے ساتھی نے چک اوٹ کرایا اور بل کی ادا ئیگی کے بعد کلیرنس لے کر سامان سٹور میں جمع کرانے کے لئے بل بوائیز کے حوالے کر کے لابی میں بیٹھ کر کچھ انتظار کیا شیر علی صاحب نے کہا تھا کہ انعام پشاوری آگیا تو مارکیٹ جا کر گھومتے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد معلوم پڑا کہ وہ تو میاں جاوید کے ساتھ جا چکے ہیں تو میں، انعام الحق ، ثنااللہ ، اور عجاز اور تین خواتین کو بھی ساتھ لیا اور پیٹھا مارکیٹ گئے جس کے بارے میں کہا جا رہاتھابہت سستی چیزیں دستیاب ہیں مار کیٹ پہنچ کر ہم نے سب کے ساتھ وقت مقرر کیا اورمارکیٹ میں نکل گئے ویسے بھی سری لنکا کی مارکیٹ مہنگی ہے لیکن اس مارکیٹ میں چیزیں زیادہ ہی مہنگی تھیں تھوڑی گھوم گھام کر میں ثنا اللہ اور انعام واپس نکل گئے اور لیبرٹی مارکیٹ کے لئے ٹک ٹک کرانے کی کوشش کی جو تین سو سے کم پر تیار نہ تھے مجبوراََ تھوڑا سا مارکیٹ سے ہٹ کر کھڑے ہوے اور ایک ٹکٹک حاصل کیا اور لیبرٹی مارکیٹ پہنچ گئے جہاں ان دونوں نے کچھ چیزیں خریدی اور میں نے بیگ لینا تھا نہ خرید سکا بہر حال وہاں سے واپس ہوٹل آگئے اور عجاز اور خواتین کو لینے میں اور انعام صاحب واپس پیٹھا مارکیٹ چلے گئے اور کافی گھوم گام کے بعد بھی وہ لوگ نظر نہ آئے تو میں نے ایک بیگ خریدا اور واپس ہوٹل آگئے تو تین بج گئے تھے، آہستہ آہستہ سارے لوگ لابی میں جمع ہو گئے ،
چار بجے سہ پہر بس لگ گئی سامان رکھا گیا اور پھر پانچ بجے ہم ہوائی اڈا کی طرف روانہ ہو گئے سڑکوں پر ہجوم زیا دہ تھا بس آہستہ آہستہ رینگنے لگی اور پنتالیس منٹ بعد ہائی وے پر پہنچ گئی اور اگلی پندرہ منٹ میں ہم سری لنکن ہوئی اڈے پہنچ گئے ایمیگریشن سے فارغ ہو کر چک ان کے نزدیک پہنچ گئے تو ہمیں روکا گیا کہ ابھی وقت ہے آٹھ بجے بورڈنگ شروع ہو گی واپس جاکر بیٹھ گئے اور تقریباََ چالیس منٹ بعد ہماری باری آگئی اس دوران سری لنکا سے مکہ جانے والے کئی مسلمانوں سے ملاقات ہو گئی وہ بغرض عمرہ جارہے تھے بڑی خوشی محسوس کر رہے تھے

پاکستان کا نام سن کر اور بھی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ بورڈنگ کارڈ لے کر انتظار گاہ میں چلے گئے موبائلز چارج پر لگایا اور نو بجے تک انتظار کیا ، جہاز پر سوار ہو نے کے بعد پائلٹ نے علان کیا کہ جہاز میں ٹکنیکل مسلہ کی وجہ سے آپ کو تھوڑی دیر انتظار کی زہمت اٹھانی پڑے گی اور دس منٹ بعد میں حاضر ہوجاونگا لیکن یہ دس منٹ کوئی پنتالیس منٹ تک گیا اس دوران جہاز میں سخت گرمی محسوس ہو رہی تھی اور گٹھن کی وجہ سے میرے سیٹ کے سامنے والی نشست پر بیٹھی ہوئی ہماری گروپ کی ایک خاتون کی طبیعت خراب ہو گئی اور الٹی ہو نے لگی بار بار پانی پلایا گیا اور تین بندے لگاتار ہوا جولتے رہے اور اس دوران ہمارے ملتان دفتر کے کچھ عملے نے اپنے آپ کو دکھانے کی کوشش کی اور بندوں کو ہنساتے رہے جو کہ میرے نزدینک ایک غیر مہذب حرکت تھی کیونکہ جہاز میں ہمارے گروپ کے علاوہ بھی لوگ تھے جو پاکستانی بھی اور غیر پاکستانی بھی بہر حال بڑی مشکل سے جہاز کی پائلٹ نے علان کیا کہ جہاز اڑان کے لئے تیار ہے گذارش ہے کہ مسافر اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں اور سیٹ بلٹس باندھیں اور یہ بلٹ بندھے ہی رہیں کیونکہ آج کا جہاز گذشتہ سے بھی گیا گذرا تھا پچھلی فلائٹ میں جہاز کے سیٹوں کے ساتھ برا ئے سہولت کچھ الیکٹرونک انسٹرومنٹس میسر تھیں سکرین تھا، چارجنگ پویئنٹ اور ایر فون کی سہولت تھی لیکن آج کی یہ جہاز شاید برطانیہ دور حکومت سے بھی پہلے کی کوئی ماڈل تھی ایک تو موسم خراب تھا اور پھر آواز میں بھی ٹریکٹر کی طرح شور تھا اور پھر بار بار جھٹکے لگتے تھے دوران سفر جہاز کے عملہ کو بھی برتن سمیٹتے سمیٹتے واپس اپنے سروس ایریے جا کر دم لینا پڑا اور پھر کوئی دو گھنٹے کی پرواز کے بعد سامان سمیٹا اور اس طرح ہم رات ایک بجے لاہو ر کے ہوائی اڈے پر اتر گئے اور سامان حاصل کر کے ایمیگریشن سے فارغ ہو کر باہر نکل گئے تو اسلام آباد کی گروپ کو لینے کسی ہوٹل کی طرف سے ایک پرانی ویگن کھڑی تھی اس کے اگلے نشستوں پر سامان رکھا گیا اور باقی سیٹوں پر صرف بارہ آدمی آگئے اور کوئی چالیس منٹ بعد ہم گلبرگ کے ایک مہمان خانے میں پہنچ گئے اور میں اور شیر علی نے شناختی کارڈ جمع کرا کر ایک کمرے کی چابی حاصل کیا اور جا کر موبائل چارج پر لگا کر آرام کیا ، ہمار ا کمرہ بڑا اچھا تھا ابھی ہم لیٹے بھی نہ تھے باہر شور ہوا باہر نکل کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ کمرے کم پڑ گئے تھے جس کی وجہ سے عملہ ہر کمرے میں زائد بسترہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے جس پر جوبلی لائف کے سردار یونس خفا ہوے ہیں اور اسی شور شرابے میں کشمیر کے دس پندرہ بندے رات کو ہی نکل کر چلے گئے ہیں اور باقیوں کے لئے انھوں نے دوسرا کوئی گیسٹ ہاوس بک کرایا بہر حال رات تین بجے ہم اس قابل ہو گئے کہ سو سکے اور دوسرے دن صبح اٹھ کر ناشتہ کیا اور پھر تھوڑی دیر کے لئے گلبرگ دیکھنے گئے لیکن وہاں پہنچ کر جب مارکیٹ کو بند پایا تو یاد آیا کہ جمعہ کی وجہ سے مارکیٹ بند ہے اور ایکا دکا دوکانیں کھلنے لگی تھیں وہاں سے واپس ہوٹل آگئے اور کشمیر کے جو لوگ نہیں گئے تھے پہلے ان کو لینے ایک ہائی ایس ویگن آئی پھر اسلام آباد ، پشاور اور چترال والوں کیبلے ایک کوسٹر آئی تو سامان چھت پر رکھ کر باندھا گیا اور ہم لوگ ایک بجے روانہ ہوے اور بلکسر ریسٹ ایریا میں تھوڑی دیر کے لئے رکے اور پھر شام چھ بجے کراچی کمپنی کے اڈے پر پہنچ گئے اور پھر خدا حافظ کہہ کراپناپنا راہ لی اور آٹھ بجے کے قریب میں گھر پہچ گیا ، الحمد اللہ
آخر میں جوبلی لائف انشورنس کا شکریہ اور میرے منیجر کا بھی شکریہ جس کی تعاون کے بغیر یہ ٹوور ناممکن تھا،

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!