تازہ ترین

اولین تعلیمی جرگہ اور فورس کمانڈر” | فیض اللہ فراق | پھسوٹائمز اُردُو

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ تعلیم روشنی اور جہالت اندھیرا ہے روشنیوں کا سفر تعلیم کے ذریعے ممکن ہے. دنیا کی تاریخ اس بات کی شاید ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کی پہلی نشانی تعلیم رہی ہے. علم سے دنیا میں خوش کن انقلاب لایا جاسکتا ہے تعلیم کے ذریعے افراد کی ذہنی بالیدگی اور نشوونما ہوتی ہے. پورے ملک کی طرح گلگت بلتستان میں بھی تعلیمی رجحان حوصلہ افزا ہے اور یہاں کی مجموعی شرح خواندگی بہتر ہے لیکن بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں تعلیم کی شرح بہتر نہیں ہے ان بدقسمت علاقوں میں ضلع دیامر سرفہرست ہے. دیامر میں تعلیم کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک زمانے تک یہاں کے مکینوں میں علم کے رجحان کی عدم موجودگی رہی ہے اس کی وجہ اس علاقے میں قبائلی و مذہبی رجحانات کو اپنی مرضی کے مطابق ہانکنا ہے. دیامر کا مخصوص مزاج اور کلچر میں رہ کر بھی تعلیم عام کی جاسکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا جس میں جہاں ہر دور کے غیروں کی چیرہ دستیاں شامل رہی ہیں وہاں اپنوں کی نا اہلی بھی کارفرما ہے. اگر شہر اقتدار اسلام آباد میں ایک جامعہ بنا کر اعلی سطح کی غیر مخلوط تعلیم کی فراہمی ممکن ہوسکتی ہے تو چلاس کے مخصوص ماحول میں اس نوعیت کی تعلیم میں کیا قباحت تهی افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے دیامر کے اندر تعلیم کی ضرورت’ اہمیت اور فروغ کے حوالے سے سوچا تک نہیں گیا جس وجہ سے سوائے کیڈٹ کالج چلاس کے ایک بهی معیاری اور قابل قدر تعلیمی ادارہ آج تک نہیں بن سکا. مقامی آبادی کی تعلیم سے دوری ‘ والدین کی عدم دلچسپی اور معاشرتی قدغنیں جہاں لڑکوں کی تعلیم کے رستے میں رکاوٹ بن گئی وہاں بچیوں کی تعلیم کیلئے شجرہ ممنوعہ قرار پائی ایسے عالم میں مذہبی قیادت پر فرض تھا کہ وہ اسلام کی روح کے مطابق علم کے پھیلاو میں مشکلات پیدا کرنے کی بجائے آسانیاں پیدا کرتے اور مقامی ماحول کو تعلیم سے جوڑتے سیاسی قائدین کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ تعلیمی اداروں کی تعمیر اور موثر قانون سازی کے ذریعے علاقے کو علم کی روشنی سے منور کرتے مگر دونوں اطراف سے ذمہ داریاں پوری نہیں کی گئی جس وجہ سے عشروں جہالت دیامر کی درو دیوار چاٹتی رہی. تعلیم کی کمی سے علاقے میں مختلف نوعیت کی سماجی بیماریوں نے اپنا ٹھکانہ بنالیا جن کی تشخص غیر ضروری طریقوں سے ہوتی رہی حالانکہ دیامر کی تمام سماجی و روحانی بیماریوں کا علاج تعلیم کا فروغ تھا…. ضلع دیامر میں تعلیم کے پھیلاو میں جس کسی نے بهی کردار ادا کیا وہ خراج تحسین کے مستحق ہے. گزشتہ دنوں فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان نے ضلع دیامر کی مختلف وادیوں کے نوجوانوں کی ایک وفد سے ایف سی این اے ہیڈ کوارٹر گلگت میں ملاقات کی. ملاقات میں محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کے اعلی عہدیدار بهی شریک ہوئے… ملاقات کو فورس کمانڈر نے “تعلیمی جرگے” کا عنوان دیا اور 3 گھنٹوں پر محیط اس طویل نشست میں دیامر میں تعلیم کے فروغ پر تفصیلی بات چیت ہوئی. میجر جنرل احسان محمود خان دیامر کی شرح خواندگی میں اضافہ دیکھنے کو بے تاب ہیں ان کے سینے میں انسانیت سے خلوص اور علاقے سے پیار موجود ہے. وہ گلگت بلتستان بالخصوص دیامر میں عوامی فلاح و بہبود پر مشتمل کوئی بڑا کام کرنے چاہتے ہیں. کیڈٹ کالج چلاس کی ادھوری عمارت مکمل کرنے کیلئے بهی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ چلاس میں فوجی فاونڈیشن سکول قائم کرنے کی خواہش بهی رکھتے ہیں. فورس کمانڈر گلگت بلتستان کی کاوشیں قابل قدر ہیں لیکن کمیونٹی پر بهی بهاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ میں حکومت اور فورس کمانڈر کے ساتھ تعاون کریں… اپنی آنے والی نسلوں کیلے آگے بڑھیں اور اپنی اولاد کے روشن مستقبل کیلئے سنجیدگی اختیار کریں. وزیر اعلی گلگت بلتستان کی ہدایات پر ہوم سکولز کا مذید قیام اور تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ بهی قابل تعریف ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی پر مکمل عملدرآمد اور نئے تعلیمی اداروں کے قیام تک سارے عمل کو مانیٹر کیا جائے تاکہ عوام کو تعلیمی ایمرجنسی کے ثمرات مل سکے.. فورس کمانڈر گلگت بلتستان چونکہ ایک تعلیم یافتہ سپہ سالار ہیں اور موصوف کی پی ایچ ڈی کی تحقیق گلگت بلتستان کے حوالے سے ہے اسلئے وہ اس خطے کے چپہ چپہ سے واقف اور عوامی مزاج سے آشنا ہیں…

 

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!