تازہ ترین

وہ آگیا شاہکار جس کا تھا انتظار | ایس ایم موسوی| پھسوٹائمز اُردُو

تحریر:ایس ایم موسوی
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان کی خبریں گردش کرنے کے بعد سے پاکستانی عوام بے چینی کی عالم میں تھے، کوئی اَھلاً وَ سَھلاً کی صدائیں بلند کررہے تھے تو کوئی ان کی آمد پر شدیدغم و غصے کا اظہار کررتے رہے۔شائد ہر کوئی اپنی جگہ درست ہوں، مگر میرا خیال ہے کسی مہمان کی آمد پریوں احتجاج کرنا عقلمندی نہیں چونکہ ہرملک اور حکومت کی اپنی پالیسی ہوتی ہے جس کے مطابق چلناہوتا ہے۔ پاکستان بھی ایک خود مختار ملک ہے یہاں کے حکمرانوں کوبھی اپنی پالیسی کے مطابق چلنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
ملک کی معیشت کی بہتری حکومت کی اولین فریضہ ہوتا ہے۔جس کے خاطر کبھی ہمسایہ ممالک سے تعلقات بڑھاکر تجاراتی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی قرضوں کے لیے دیگر ممالک کے در کھٹکھٹانے پر مجبور ہوتا ہے۔لیکن کسی بھی ملک یا شخصیت کے ساتھ تعلقات بڑھانے یا ختم کرانے میں عوامی رائے کا خیال رکھناچاہیے تاکہ شدید ردعمل کا سامنا نہ ہو۔
مگر ہمارے نئے حکمران طبقے کا خارجہ پالیسی ابھی تک واضح نہیں ہے جس کی بناپرعوام تشویش میں ہے۔ کبھی کسی سے امداد نہ لینے کے دعویدار آج قدر جھک گئے کہ دوبارہ سر اٹھا نا بھی مشکل ہوگیا۔ حکومت میں آنے سے پہلے ہمارے وزیر اعظم صاحب نے کہا تھا کہ میں مرجاؤں گا کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا۔ میں خودکشی کو بھیک مانگنے پر ترجیح دیتا ہوں. سابقہ حکومت کو ہر لمحہ اسی بات پہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ یہ بھیک مانگ کر ملک چلاتے ہیں۔
لیکن نہ جانے آپ کو کس کی نظر لگ گئی آپ کی خودداری کہاں گئی؟ کبھی آپ نے کسی دوسرے کے جنگ میں حصہ نہ لینے کا اعلان بھی کیا تھا مگر یہاں آپ کو حصہ بنایا جا رہا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ملکی معیشت کی بہتری کے خاطر ہر کسی کے اشارے پہ ناچنا شروع کرے۔ بلکہ اپنی خارجہ پالیسی مظبوط اور مستحکم ہونا چایئے۔ اسلامی ممالک کی امدا بلاشرط و شروط ہوتو بہتر یاپھر ایسے شرائط کے ساتھ قبول ہو جو پاکستان کی خود مختاری میں رکاوٹ نہ بنے۔
اگرچہ آپ نے اپنے وعدوں کے برخلاف دوسرے ممالک کی طرف امداد کے لیے ہاتھ بڑھائے انہوں نے بھی دل کھول کر تعاون کیا اس کی ہمیں خوشی ہے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمدکو ملکی معیشت کے لیے نیک شگون قرار دیا جارہا ہے۔ان کے آنے سے پاکستانی معیشت میں جو بہتری آرہی ہے اس سے انکار نہیں نہ ہی اس بات کا منکر ہوں کہ مشکل وقت میں ہمیشہ سعودیہ نے ساتھ دیا ہے۔ سعودیہ کی جانب سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور ویزے کی فیسوں میں کمی یقیناً قابل تعریف عمل ہے۔
خوشی تو یہ بھی ہے کہ آپ نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سعودیہ میں مقید پاکستانیوں کی بات کی، جس پہ ولیعہد نے فوری رہائی کی یقین دہانی کرائی مگر آپ کی اپنی ریاست میں بھی ہزاروں ایسے بے گناہ افراد مقید ہیں جو فقد ایک خاص مسلک سے تعلق رکھنے اور اپنی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی جرم میں جبری گمشدگی کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
ہمیں اس بات پہ بھی خوشی ہے کہ آپ نے سعودیہ میں مقیم پاکستانی مزدوروں کا بھی ذکر کیا مگر آپ کے اپنے ملک کے مزدور طبقہ صبح سے شام تک فٹ پاتھ پہ حسرت بھری نگاہوں کے ساتھ راہ تکتے رہتے ہیں مگر سورج کے ساتھ ان کی امیدیں بھی غروب ہوجاتی ہے اور مایوسی کے عالم میں شرمندگی اور پشیمانی کیساتھ گھروں کولوٹتے ہیں کہ بیوی بچوں کو کیا جواب دوں؟
جب آپ بھی اپنے ملک میں موجود مزدوروں کو عزت دوگے اپنے ملک میں بے گناہ قیدیوں کو آزاد ی کا حکم کروگے تب ہم بھی مانیں گے کہ واقعا آپ غریبوں کا لیڈر ہے۔صرف یوٹرن لینے سے لیڈرنہیں بنتا بلکہ کچھ عقلمندی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
ملک کو اس وقت بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہمسایہ ممالک میں سے بھارت تو پہلے سے ہی دشمنی کے صف میں ہے۔ چند عرصہ پہلے افغانستان سے بھی تعلقات بگڑ گئے۔ چائنہ صرف اپنے مفاد کے خاطر پاکستان کے ساتھ ہے. جبکہ ایک واحد ملک ایران ہے جس کے ساتھ کسی حد تک دوستانہ تعلقات تھی مگر کل سعودیہ کے وزیر خارجہ کا ایوان صدر میں پاکستانی وزیر خارجہ کے موجودگی میں ایران کے خلاف تقریر اور ہمارے وزیر خارجہ کی بے بسی اورخاموشی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔
سعودی ولی عہد کی آمداور عین اسی موقع پر ایران اور کشمیر باڈر پر دہشت گردی کے واقعات کا رونما ہونا اور اس کا الزام پاکستان پہ آنا، ساتھ ہی تندور گرم دیکھ کرسعودی وزیر خارجہ کا روٹی چپکاناکوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم گیم ہے۔اس سے پاک ایران تعلقات مزید متاثر ہوسکتی ہے۔ یوں پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے دور ہوکر تنہا رہ جائے گا۔
میں یہاں کسی کی ترجمانی نہیں کررہا مجھے سب سے زیادہ اپنے ملک عزیز ہے۔ سعودیہ کو ایران سے جو بخار تھا اس کا نزلہ پاکستان میں آکر گرانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں گرانا چاہیے تھا۔ پاکستان ایک مختار ملک ہے اور پاکستان کو کسی دوسرے کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔عربوں اور ایرانیوں کی آپس کی لڑائی اپنی زمینوں تک محدود رکھیں۔ پاکستان کی سرزمین کو کھیل کا میدان نہ سمجھا جائے۔
پاکستان کواس وقت انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ایک منظم سازش کے تحت یہ سب کچھ ہورہا ہے۔پاکستانی ایوان صدر میں دوست ملک کے خلاف باتیں کرنا اور دشمن ملک بھارت کی جانب سے کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم پہ مجرمانہ خاموشی اور ساتھ ہی پاکستان سے دو گنا زیادہ بھارت کو امداد فراہم کرنا اس بات کی دلیل ہے آنے والا مہمان پاکستان کے خیرخواہ بن کر نہیں بلکہ اپنا کوئی ایجنڈہ لیکر آئے تھے۔
لہذا پاکستان کو اس وقت کسی کے سازش کا حصہ بننے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہیے۔سعودی وزیر خارجہ کی ایران مخالف تقریر کے جواب میں اب فوراپاکستانی حکمران اعلیٰ سطحی اجلاس بلاکر تحفظات کو دور کرنا چاہیے ورنہ مزید دوریاں ہی بڑھ سکتی ہے۔
ہمیں اس بات سے کوئی اعتراض نہیں کہ سعودی شہزادے کا شیان شان استقبال کیا کیونکہ وہ ہمارے مہمان تھے ان کا استقبال ہم سب پر فرض ہے مگر تعجب اس بات کی ہورہی ہے کہ آپ نے ہی فرمایا تھا نہ کسی کو پروٹوکول دوں گا نہ کسی سے لوں گا۔مگر یہاں ہم نے دیکھا کہ سعودی شہزادہ کی آمد پر اس قدر پروٹوکول کا خیال رکھا کہ ایک ہفتے سے آپ کی پوری کابینہ سمیت پاک فوج کو بھی سکون سے رہنے نہیں دیا۔
پاکستان کے سرحد میں داخل ہوتے ہی پاک فضایہ کے جنگی طیاروں کی حصار میں لیکر خوشامد کیا، اکیس توپوں کی سلامی بھی دی، آپ سعودی شہزادے کے ڈرائیور بھی بن گئے، گارڈ آف آنر بھی پیش کیا، ساتھ ہی راولپنڈی میں عام تعطیل کا اعلان بھی ہوا۔
ان کے آمد پر ہم نے دیکھا کہ آپ انکی محبت میں اس قدر غرق ہوگئے کہ آپ اپنے ہی ملک کے باوفا شہریوں کو غدار سمجھ بیٹھے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کی حکومت میں کسی خاص مسلک کے نام لیکر انہیں موردو الزام ٹھراتے ہوئے نوٹفکیشن جاری کرکے ان کے جذبات کے ساتھ کھیلا گیا۔
کئی شہریوں کو بلا جواز گرفتار کرکے یہ ثابت کردیا کہ ہمیں اپنوں سے زیادہ غیروں کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ کو جوازبناکر کئی افراد کی گرفتاری نے اس دعوے کو بھی بے نقاب کردیاکہ جس میں کہا جارہا تھا پاکستان میں مغربی ممالک سے زیادہ اظہار رائے کی آزادی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے پاک ایران کی پرانی تعلقات پہ بھی قدظن لگائے مگر آپ کے پاس خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، ساتھ ہی پاکستان کے بڑے شہروں میں ایک مرتبہ پھر سے ان کالعدم جماعتوں کے پرچم لہرانا شروع ہوگئے ہیں جن کاکئی مقامات پر آپ نے نام لیکر مذمت کی تھی. ان کے آنے سے یہ بھی واضح ہوگیا آپ کے ریاست مدینہ سے مراد مدینہ کی موجودہ طرز حکومت تھی۔
آپ کے وہ سادگی کے راز بھی کھل گئے جس کا آپ بھرم بھرتے رہتے تھے۔ کہاں حلف برداری کے وہ سادہ پروگرام اور کہاں سعودی ولی عہد کی آمد کا شیان شان استقبال مگر ان سب کے باؤجود آپ کو کیا ملا 20 ارب ڈالر؟ اور آپ کے دشمن ملک بھارت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ شہزادہ تو وہی تھا پھر بھی وہاں 44 ارب ڈالر۔
عقل والوں کیلیے نشانی ہے کہ سعودیہ نے مخالف ملک کو بغیر کسی پروٹوکول اور مہمان نوازی کے دو گنا زیادہ امداد دیکر یہ واضح کردیا کہ خدا نخواستہ کبھی پاک بھارت تعلقات خراب ہونے کی صورت میں اسلامی ملک ہونے کے ناطے جتنا پاکستان کے ساتھ تعاون کریگا اس سے دگنا بھارت کے ساتھ تعاون ہوگا

 

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!