تازہ ترین

چلاس : مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں دینے والوں اور میری بیٹی کو آغوا کی کوشیش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے، متین

چلاس : پھسو ٹائمز اردو : یو ایف فاروقی

متین ولد لتکا عمر 70سال کے قریب دائیں ہاتھ سے محروم بیساکھی کے بل بوتے پر چلنے والا یہ باریش بزرگ جن کا تعلق تحصیل داریل کا علاقہ کھنبری گجرات سے ہے۔یہ بزرگ شخص ظالموں کی طرف سے دی جانے والی قتل کی دھمکیوں کے خوف اور اپنی دو بیٹیوں کی عزت بچانے کیلئے کھنبری سے ہجرت کرکےآج کل بیٹیوں کے ہمراہ چلاس کے اندر کسی خدا ترس انسان کے گھر میں پناہ لیا ہوا ہے۔اس باریش، غریب بزرگ شخص اپنے اوپر ہونے والے انسانیت سوز سلوک اور ظلم و بربریت کی داستان لیکر کے پی این آفس چلاس پہنچ گیا اور زار و قطار روتے ہوئے داستان ظلم و جبر کچھ یوں بیان کیا۔ 70سالہ بزرگ غریب شخص نے کے پی این کو بتایا کہ میرا کوئی بیٹا نہیں ہے اور نہ ہی سگے بھائی ہیں صرف تین بیٹیاں ہیں،اہلیہ بھی چھ سال قبل وفات پا چکی ہے میں معذور اور بوڑھا ہونے کی وجہ سے دو بیٹیوں کی بروقت شادی نہیں کراسکا جبکہ بڑی بیٹی کی شادی بہت پہلے ہوچکی ہے۔70سالہ اس بوڑھے شخص نے مزید بتایا کہ گھر میں اکیلارہا،معذور بھی ہوا اور عمر بھی بڑھ گئی اب بیساکھی کے سہارے پر چلنے پر مجبور ہوا تو خوائش یہ ہوئی کہ اپنی بیٹیوں کی شادی کراکر داماد کو اپنے ساتھ رکھوں تاکہ وہ میرے اور میری بیٹیوں کی کفالت کرسکیں اور میرا ہاتھ پاوں بیٹھانے میں ساتھ دے، اس غرض سے میں نے اپنی ایک بیٹی کو کریم اللہ کے بیٹا سنی ساکن کھنبری کے ساتھ شادی کرائی، شادی کے بعد سنی بیس دن میرے ساتھ رہا اُس کے بعد میری بیٹی کو طلاق دے کر شاہ خان نامی شخص کا چروہا بن کر نکلا، طلاق کے چار سال بعد شاہ خان نامی شخص کے دباو اور زبردستی پر کلیم اللہ نے مجھے دھمکی بھیجی کہ آپ کی بیٹی کو میرے بیٹانے طلاق نہیں کیا ہے آپ کی بیٹی میرے بیٹے کی نکاح میں ہے، جس پر میں نے کلیم اللہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کے بیٹے نے میری بیٹی کوطلاق دیا ہے جس کے گواہ بھی موجود ہیں اور آپ کا بیٹا سنی نے شادی کے بعد میرے ساتھ رہنا تھا وہ اُن شرائط پر بھی پورا نہیں اترا ہے، اب میری بیٹی طلاق ہوچکی ہے میں کسی صورت اپنی بیٹی کو آپ کے حوالے نہیں کرسکتا کیونکہ نکاح ٹوٹنے کے بعد یہ اسلام بھی اجازت نہیں دیتا۔میرے صاف انکار پر کلیم اللہ، سنی، شاہ خان اورصدور مجھے قتل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں اور میری بیٹی کو آغوا کرنے کیلئے پھر رہے ہیں۔میں غریب آدمی ہوں، کھانے کیلئے روٹی نہیں، پہننے کیلئے کپڑے نہیں ہیں، ادھر چلاس کسی کے گھر پناہ لیا ہوا ہوں میں باہر نہیں نکل سکتا اور مجھے مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس کے میرے پاس ثبوت بھی موجود ہیں۔70سالہ متین نے فورس کمانڈر، وزیر اعلی، چیف سیکریٹری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیکر مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں دینے والوں اور میری بیٹی کو آغوا کی کوشیش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!