تازہ ترین

اون اور اونی کپڑے | جاوید احمد ساجد سلطان آبادی | پھسوٹائمز اُردُو

جاوید احمد ساجد سلطان آبادی
ریڈیوپر پروگرام صبح پاکستان سن رہاتھا کہ کسی نے چترال کی اون اور اونی پٹی کے بارے میں بڑی خوبصورت بات کیا تو میرے لکھنے کی رگ نے انگڑائی لیا اور کچھ لکھنے پر آمادہ اکیا اور سوچا کہ اون اور اونی کپڑا یا پٹی کا گلگت بلتستان اور چترال میں ایک اہم کردار ہے لہٰذا سوچا کہ اس محسن کے بارے میں کچھ قلم آزمائی کیا جائے تو اس کے ساتھ ہی دفتر سے آنے کے بعد اپنا شوقہ ، کوٹ اور ٹوپیاں نکال کر دیکھا اور بہت کچھ یا د�آیا، جب ہم چھوٹے تھے تو بعض لوگ جن میں مرد اور خواتین دونوں میں سے بعض لوگ اون کی بنی ہوئی ایک لمبی قمیض جو کہ عربیوں کی توپ کی مانند تھی پہنا کرتے تھے جس کو مقامی طور پر رغز کہا جاتا تھا۔
اون کو بروشاسکی میں شے، کھوار میں پوشھپ، اور شھینا میں پشھ یا پھش کہا جاتا ہے ، اون کا منبہ بھیڑیں ہیں یعنی اون بھیڑوں کے جسم کے با ل ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریا ں گلگت بلتستان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور ہر گھر میں پالے جاتے ہیں گلہ بانی کے لئے اور پالنے میں بکریوں سے آسان ہوتے ہیں یہ بکریوں کی طرح نقصان دہ نہیں ہوتے بکریوں کو آزاد چھوڑا جائے تو پودوں کو نقصان پہنچاتی ہیں لیکن بھیڑیں شریف جانور ہیں کم خرچ اور جلدی ان کی آبادی میں اضافہ ممکن ہے کیونکہ سال میں دو دفعہ بچے دیتی ہیں ،ان کا گوشت بڑا لذیذ ہوتا ہے،ان کی اون سے گرم اونی پٹی بنائی جاتی ہے اور ان کی دووھ ایک مفید غذا ہے،
اون کے رنگ : اون کے بنیادی طور پر چار یا پانچ رنگ ہوتے ہیں جن میں سفید، کالا، خاکی ، کیمل کلر اوٹیلی، گرے کلر اور بورہ رنگ جن کو بروشاسکی میں بروم ، متم، اوٹیلی اور کر بیلی اور پھرغت کہا جاتا ہے اور کھوار میں اشپیرو، شھا، کروی یا اوٹیلی، کربیلی اور اوچھیلی کہاجاتا ہے اس کے علاوہ ایک مصنوعی رنگ جو کہ کربیلی ہی ہوتا ہے جو کہ اخروٹ کت خول سے حاصل کیا جاتا ہے ، اخروٹ جب پک کر تیا ر ہو جاتے ہیں تو یہ خول پھٹ جاتے ہیں اور اندر اخروت نظر انے لگتے ہیں اور جب اخروٹ اس خول سے گرنے لگتے ہیں تو ایک لمبے لکڑی کے ڈنڈے سے مار کر گرایا جاتا ہے اور یہ خول الگ ہو جاتے ہیں جو کہ اخروٹ کے فصل سے زیادہ ہوتے ہیں ان کو اکھٹا کرکے پانی میں ابالا جاتا ہے اور رنگ ساز کی طرح اس ابلتے ہوے رنگ میں اون یا پٹی کو ڈالا جاتا ہے اور ہلا ہلا کر اس رنگا جا تا ہے اور جب یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب رنگ پکا ہو گیا تو نکا ل کر سکھایا جاتا ہے یہ رنگ قدرتی کربیلی رنگ سے مختلف نظر آ جاتی ہے اور یہ کام چترال میں زیا دہ تر کیا جاتا ہے۔
اون کو بھیڑوں کے جسم سے ایک قینچی نما اوزار جس کو بروشاسکی میں گَرے اور کھوار میں سیرل کہا جاتا ہے سے کاٹ کر حاصل کیا جاتا ہے ، اون اتارنے سے پہلے بھیڑوں کو پانی اور صابن سے دھویا جاتا ہے یا اون اتارنے کے بعد دھویا جاتا ہے اور یہ عمل زیادہ آسان ہے پھر اون کے ساتھ ایک خاص قسم کی مٹی جس کو شے تِک کہا جاتا ہے ملایا جاتا ہے اور پھر لکڑی کے دو ڈنڈوں سے کوٹ کوٹ کر نرم کیا جاتا ہے یہا ں تک کہ بال بال الگ ہوجاتے ہیں پھر ان کو ایک خاص ٹوکرہ جس کو بروشاسکی میں پھرو کُس اور کھوار والے ورکیٹی کہتے ہیں جو کہ پاپولر کے درخت کے چھلکے سے بنایا جاتا ہے میں رکھا جاتا ہے بھیڑوں سے اون اتارنے تک کا عمل مردوں کا ہوتا ہے اس کے بعد کے مرحلے عورتوں کا کام ہو تا ہے ، اون کو کاتنا ، دھننا، اور داگہ بنانا اور پرانے زمانے میں اگر کام زیادہ ہوتا تو اون کاتنے کے لئے گاوں کی عورتوں کو مدد کے لئے بلایاجاتا تھا اور رات بھر جا گ کر یہ کا کیا جاتا اور اس رسم کو گیو گیو کہاجاتا تھا اون کے کاتنے اور داگہ بنانے کا عمل کافی لمبا عمل ھتا ہے اور بڑی محنت طلب عمل ہے ، جب دھاگہ تیا ر کیا جاتا ہے یہ بھی دو قسم کا ہو تا ہے بروشاسکی میں ایک کو ژو اور دوسرے کو گَس کہاجاتا ہے اور کھوار میں ایک کو تون اور دوسرے کو وور کہا جاتا ہے اور پھر دیسی کھڑی میں اس کو جولھا بنتا ہے یہ کوئی ہنرمند لوگ ہوتے ہیں آج کل بہت کم لوگ یہ کام کرتے ہیں جو کہ اچھاخاصہ اجرت لے کر بناتے ہیں، پٹی کو بروشاسکی میں سورویو اور کھوار میں شُو کہا جاتا ہے
اون سے بنائے جانے والے مختلف کپڑے۔ ۱ ۔شوقہ، ۲۔ چوغہ ، ۳۔ ٹوپی، ۴۔ گلوبند، ۵۔ جرابیں، ۶۔ دستانے، ۷۔ سنگل کمبل( شال) ، ۸۔ ڈبل کمبل ( گَلی) یا جِل ، ۹ ۔ سویٹر یا جرسی بنایا جاتا ہے
شوقہ جو کہ گون کی قسم کا ایک کھلا اور کندھوں سے ٹخنوں تک لمبا اور لمبے لمبے بازو ، والا پہناوا ہے ۔ اس کا استعمال مختلف موقعوں پر کیا جاتا ہے ، اس کا سب سے خو بصورت استعمال شادی کے موقع پر کڑائی کیا ہو شوقہ ایک دولہا کے کاندوں پر رکھنے کا اپنا مزہ ہے ،ََ سردی سے بچنے کے لئے اس کو پہنا جاتا ہے اس کے بازو سے ہاتھ نکال کر بازو کو کلائی سے لمبے حصے کو کلائی سے پیچھے کی طرف تہہ کیا جاتا ہے اور کمر پر ایک کمر بند باندھا جاتا ہے ، اگر کام کرنا ہو یا ہل چلانا ہو تو داہنے طرف کے دامن کو دائیں طرف سے پیچھے لاکر کمر کے ساتھ کمر بند میں پھنسایا جاتا ہے اور بائیں جانب والا دامن کو بائیں جانب سے پیچھے لاکر کمر بند میں پھنسایا جائے تو یہ ایک قسم کا کوٹ بن جاتا ہے جس کا پیچھے کی طرف سے ایک تکوں قسم کا دم نیچے کی طرف لٹکتا نظر آتا ہے اور کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔
شوقے کا دوسرا استعمال اگر بارش ہو رہی ہو تو شوقہ کو سر پر رکھ کر اوڑھا جائے تو یہ چھتری کا کام دیتا ہے،
شوقہ کا تیسرا استعمال اگر فصل کی کاشت کے وقت شوقہ کے بازو نکال کر پہنا جائے اور ایک طرف سے دامن کو اوپر اُٹھا کر کناروں سے پکڑ کر گندم یا کسی بھی اناج کی بیج اس میں ڈالا جائے تو بیج کی بوائی کے کئے برتن کا کام دیتا ہے، چوتھا استعمال واش روم کے جگہ پردہ مہیا کر تا ہے ، پانچواں استعمال اگر کپڑے تبدیل کرنا ہو تو یہ پردے کا کام کرتا ہے چھٹا کام اگر شوقہ کے بازو کو مخالف اطراف سے لاکر کانوں کے اوپر سے سر کو ڈھانپا جائے تو یہ مفلر کا کام دیتا ہے، ساتواں استعمال اگر بوجھ اٹھانا ہو تو شوقہ کو پہن کر اس دونوں دامن کو اسی اطراف سے پیچھے کی طرف پیٹھ پر ڈالا جائے تو سخت سے سخت اور وزنی بوجھ اٹھانے سے پیٹھ کو گزند نہیں پہونچے گا آسانی سے وزن اُٹھایا جا سکتا ہے، آٹھواں استعمال اگر رات کو سونے کے لئے ایک بازو میں پاوں ڈال کر اور دوسرے پاوؤں میں سر ڈالا جائے اور پاقی کو جسم کے گر لپیٹ کر کہیں بھی آرام سے بستر کا کام دیتا ہے نوواں استعمال یہ کہ سیب اور ناشپاتی درختوں سے اتارنا ہو تو شوقہ پہن کر کمر پر کمر بند باند ھ کر جسم کے گرد شوقہ اور جسم درمیان سیب اور ناشپاتی چن کر ڈالا جائے تو یہ ٹو کرے کا کام دیتا ہے اور آخری کام شوقہ پہن کر ایک بہترین رقص پیش کیا جا سکتا ہے، چوغہ : چوغہ اوور کوٹ کی طرح ایک لمبا کوٹ ہوتا ہے جو کہ گون کی طرز کا ہوتا ہے لیکن اس پر خوب صورت گل کاریا ں کیا جاتا ہے اور بہت خوبصورت ہوتا ہے آج کل شادی بیاہ کے موقع پر چوغہ بھی عام استعمال کیا جانے لگا ہے

 

 

 

About Passu Times

One comment

  1. پھسو ٹیم شکریہ دی اید درست اید

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!