تازہ ترین

تختو ختان یاسین ( یسن ) یعنی تخت کا گھر  | جاوید احمد ساجد سلطان آبادی | پھسوٹائمز اُردُو

کہا جاتا ہے کہ یاسین کی راجدہانی میں شاید آخری بروشاسکی بولنے والے راجے تیلی تی تھم اور عیش یا آیش تھم تھے اور یاسین کی بروشاسکی میں دیسی مہینوں میں سے ایک ما ہ تھم بوکُس ہے یعنی راجوں کی بیج بونے کا مہینہ اوریہ مہینہ جس کو تھم بوکُس کہا جاتا ہے وہ سردیوں کا سرد ترین مہینہ جنوری ہے قصہ یوں ہے کہ آیش تھم کی ایک بیٹی تھی جس کی خوبصورتی کا چرچا سن کر راجہ تیلی تی تھم نے اپنے لئے رشتے کا تقاضا کیا جس کو پہلی مرتبہ آیش تھم نے منظور نہیں کیا اور پھر اپنے مشیروں اور معتبرین سے مشورہ کیا اور اپنے خاندان کے سرکردہ عمائدین سے مشورہ کیا تو سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ رشتہ مناسب ہے اگر دوبارہ کوئی پیغام اجاتا ہے تو منظور کیا جائے کیونکہ یہ دستور آج بھی ہے کہ کسی رشتے کا پیغام لے کر اگر کوئی جاتا ہے تو پہلی مرتبہ کوئی بھی ہاں نہیں کرتا اور یہ کہا جاتاہے کہ اپنے عزیز واقارب سے مشورہ کیا جائے گا اور بعض مرتبہ سالوں لگ جاتے ہیں تو ظاہر ہے یہ رسوم و رواج قدیم سے چلے آرہے ہیں تو بات چلی تھی تیلی تی تھم کا آیش تھم کی شہزادی آیش بوبولیگاس کے نام رشتے کا پیغام کا تو کچھ عرصہ بعد جب تیلی تی تھم کی طرف سے دوبارہ پیغام آیا تو آیش تھم نے یہ شرط رکھی کہ ٹھیک ے ہمیں منظور ہے لیکن یہ رشتہ تھمو بو یعنی راجوں کی تخم ریزی کے بعد رسم منگنی یا اللہ اکبر کیا جائے گا تو کہتے ہیں کہ تیلی تی تھم سے صبر نہ ھو سکا اور اس نے ماہ جنوری میں اس ی تختو ختان میں رسم تھمو بو ( ہیماز ) ادا کی اور پاپوش پہن کر اونی چوغہ ( شوقہ) اوپر اوشھٹم یعنی کمر بند باند ھ کر رسم تخم ریزی جس کو بروشاسکی میں بو یایوم اور کھوار میں بی گنیک کہا جاتا ہے اور آج کی جدید دور میں جشن بہاراں کے نام سے یہ رسم راجہ جہان زیب کی قیادت میں مارچ کے مہینے میں ادا کی جاتی ہے اور اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ رسم بو یایوم یا تخم ریزی بہت پرانے زمانے کی رسم رہی ہے اور تختو ختان تیلی تی تھم کی ملکیت تھی جو کہ عظیم بروشال کی شاید آخری راجدھانی تھی ، کیونکہ جناب سید محمد یحیٰ صاحب کی کتاب بروشال اور بروشو قبائل کے مظابق ۷۰۷ ء میں بروشال کا ھڈکوارٹر یسن تھا اور شاہ صاحب کے کہنے کے مطابق یسن زرتشت کا نام تھا اور چونکہ بروشو قوم کا تعلق ایران سے تھا اس لئے ان لوگون نے اپنے مذھب سے دلچسپی کی بنا پر علاقے کا نام یسن رکھا ، جیسے آج کل علی آباد کریم آباد مہدی آباد وغیرہ رکھا جاتا ہے۔ واللہ عالم بالصواب، تو بات کر رہے تھے کہ تیلی تی تھم اور آیش بوبولیگاس کی منگنی یا شادی کی وجہ سے تخم ریزی اپنے اصل وقت مارچ کے بجائے جنوری میں منانے کی وجہ سے جنوری کو آج بھی تھم بوکُس کہا جاتا ہے ۔ اور ہیماز کے بول جس میں کہا جاتا ہے کہ تیلی تی تھمے بو ینی می ، آیش تھم بو غایا دوسیمی، آیش ببلی گاسے غندیشھے حشھ نل نیا نے ایسکل چہ دوسومو، یہ ایک لمبا چوڑہ رسمیہ گانا یا ایک قصیدہ یا جو بھی بول ہیں ادا کر کے ہیماز کیا جاتا ہے ، اس سے ظاہر ہوا کہ تختو ختان بروشال کی ایک یاد گار ہے جس کو بعد کے راجوں نے بھی بر قرار رکھا تھا، ایک ویڈیو میں نے دیکھا تھا جس میں کسی نمبردار نے یہ کہا تھا کہ رئیس راجہ نے تھما رائے والا ظالم آدم خور راجے کو مار کر اس کی سالگرہ کے طور پر یہ منایا تھا جو کہ بالکل غلط ہے اُس راجہ کو اس کے عوام نے خندق میں اتار کر اوپر سے گارا اور پتھر مار کر کر دفنایا تھا اور دوسری روایت کے مطابق خشک کانٹوں کے ایک بہت بڑے سٹاک جس کو برو شاسکی میں ھونچا کہا جاتا ہے کے اوپر نکل کر نظارہ کرتے ھوے کسی منچلے نے اس سٹاک کو آگ لگائی جس نے ایک دم اونچے شعلے پکڑے اور وہ جل کر مر گیا ، جب کہ رئیس کی حکومت بعد کی ہے اور یہ تخم ریزی کا رسم بہت پرانی بلکہ ہزار سال پرانی رسم ہے یہ مکان بھی اتنا ہی پرانا ہے

ین یا آونر ( آونار) ’’ چرواہے کی دوپہر کی روٹی‘‘
یاسین بلکہ پورے غذر اور چترال میں پرانے زمانے میں پورے گاؤں یا برادری والے مل کر بھیڑ بکریاں چرانے کا کام بھی کرتے تھے اور جو گڑریا یا چرواہا بھیڑبکریاں چراتے تھے ان کے گھر سے بھی اور ان گھرانوں سے بھی جن کے گھر سے کوئی گڑریا یا چرواہا نہیں ہو تا تھا ایک موٹی روٹی جس کو بروشاسکی میں ین اور کھوار میں آونر یا آونار کہا جاتا ہے پکا کر صبح کے وقت جب بھیڑ بکریوں کو چرانے کے لئے لے کر جاتے تھے تو اس گڑریا ، یا چروہا کو دیا جاتا تھا اس طرح بہت سے چرواہے مل کر بھیڑ بکریاں چرانے لے جاتے تھے اور یہ جو موٹی روٹی جس کو ین ، اونار ( برٹا) کو پہلے توے پر ڈال کر تھوڑہ بہت دونوں اطراف سے پکا یا جاتا اور پھر گرم انگاروں والی راکھ کے نیچے دبایا جاتا اور پھر وقفے وقفے سے الٹا سیدھا کر کے اس کو اس گرم راکھ کے نیچے دبایا جاتا یہاں تک کہ وہ پک کر تیا ر ہو جاتا تو اس کے ساتھ لگی ہوئی راکھ کو صاف کر کے رکھ دیا جاتا پھر جیسے ذکر کیا ہے کہ صبح بکریوں کے ساتھ ہر گھر سے ایک ین کو ان چرواہوں کو دیا جاتا اور وہ دن بھر بکریا چراتے اور ان ینوں یعنی اس موٹی روٹی کو کھاتے اور جو بچ جاتے ان کو چرواہے آپس میں تقسیم کر کے اپنے گھروں کو لے جاتے اور اس ین کی بڑی ڈیمانڈ ھوتی تھی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس ین یا آونار کو کھانے سے رات کو نیند خوب آتی ہے ، میرے والد بزر گوار کا کہنا تھا کہ کئی دفعہ راجہ شا عبدالرحمان خان صاحب جو کہ ایک عوام دوست راجہ تھے جب بھی دورے پر نکلتے اور راستے میں چر واہے ملتے تو ان سے انو ( باجرہ ) کی قسم کی ایک آناج کی ین طلب کر کے لے لیتے اس آناج کو بروشاسکی میں باء اور کھو ار میں اولین کہتے ہیں اور اس کے دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ راجہ صاحب کھاتے اور دوسرا ٹکڑا اس گڑریا ، یا چرواہے کو شکریہ کے ساتھ یہ کہہ کر کہ اس آونار کو کھانے سے نیند بہت زبردست آتی ہے اور چرواہا بڑا خوش ہو تا کہ آج راجہ صاحب نے اس کا ین کھایا ہے۔ والد صاحب کہتے تھے کہ یہ روٹی تھوڑی سی سخت ہوتی تھی تو راجہ صاحب اس کو اپنے گھوڑے کی زین کے سامنے سے ابھرا ہوا حصہ جس کو عنائی کہتے ہیں کے اوپر رکھ کر زور لگاکر توڑتے تھے ۔ یہاں یہ بات یاد رکھئے کہ یہ راجہ بہت عوام دوست تھے یہی وجہ ہے کہ دشت طاوس ان کی دم قدم سے آج آباد ہے کیو نکہ انھوں نے کوہل ( کھالہ ) نکال کر طاوس کو آباد کیا تھا ان کوہلوں میں سے ایک کا نام آج بھی تھمو دلہ یعنی راجے کی کوہل ہے

 

 

 

About Passu Times

One comment

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!