تازہ ترین

تاریخ کے جھروکوں سے  | جاوید احمد ساجد سلطان آبادی | پھسو ٹائمزاُردُو

تاریخ کے جھروکوں سے : گزشتہ سے پیوستہ حصہ دوئم

تو غازیان یاسین نے اور اتحادی فوج نے ایسا حملہ کیا کی سکھوں کی فوج بمع جنرل بھوپ سنگھ مارے گئے اور بقول مولوی حشمت اللہ دو فوجی بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہوے اور مہاراجہ کو اس تباہی کا خبر پہنچایا ۔ لیکن گلگت بلتستان کے غازیوں کے قول کے مطابق ایک مکار بوڑھی جان بچا کر دریائے سند ھ کے کنارے کنارے بھا گ گئی اور ایک گائے کا دم پکڑ کر دریا میں ڈالدیا اور ہانکتے ہوے دریا پار کر کے مہاراجہ تک خبر پہنچایا ۔ اس کے بعد ۱۸۶۰ ؁ء وفات غازی گوہر امان تک سکھوں کو جراعت نہ ہوئی کہ وہ گلگت پر حملہ کرتے لیکن جب گوہر امان فوت ہو گیا تو کریم خان آف نگر اور عسےٰ بہادر پونیال کی وجہ سے دوبارہ ڈگروں نے گلگت پر قبضہ جمایا اور ۱۹۴۷ء میں سرفروشان گلگت
بلتستان نے ڈوگروں کو مار بھایا اور آزادی کا جھنڈا گاڑ دیا ۔
۱۴۔ تسخیر یاسین: گوہر امان کی وفات کے بعد یاسین کے لوگوں میں بددلی پھیل گئی اور اور بد نظمی پھیل گئی ۔ اس کو دیکھ کر دیوی سنگھ نے گلگت سے آگے پیش قدمی کا فیصلہ کیا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ یاسین پہنچ گیا اور اسے تسخیر کرلیا مگر یاسین پر قبضہ نہ رکھا اور چند روز بعد اپنی فوج لے کر گلگت واپس چلا گیا۔ مگر واپسی سے پہلے راجہ سلیمان شاہ کے بیٹے عظمت شاہ کو حکومت سونپ دیا اس سے وہ مقامی لوگوں اور افیسران کے ساتھ تعلقات اور مراسم بہال رکھنا چاہتے تھے تاکہ گلگت کے امن میں خلل نہ ڈالیں ۔ لیکن یاسین والوں نے جلد ہی عظمت شاہ کو نکال باہر کیا اور وہ اپنی جان بچاکر ڈوگرہ فوج کے گلگت پہنچنے سے پہلے ہی گلگت پہنچ چکا تھا ۔
۱۵۔ گلگت اور یاسین کے درمیان ریاست پونیال کا قیام: دیوی سنگھ نے یاسین اور گلگت کے درمیان ایک خود مختار ریاست قائم کر نے کا سوچا تاکہ یاسین والے ڈوگروں پر براہ راست حملہ نہ کر سکے۔ اس مقصد کے لئے اس نے عسےٰ بہادر ولد صفت بہادر جو کہ پونیال کے راجوں میں سے تھا کو پونیال کی ریاست دیدیا اور وہ ریاست بعد تک قایم تھا۔ اس موقع پر اشکومن کو بھی عسےٰ بہادر کو دیا گیا تھا ۔ لیکن بعد میں علی مردان خان کو دیدیا گیا یہ علاقے پہلے یاسین کے ماتحت تھے ۔ اشکومن سے بدخشان کے لئے راستہ جاتا ہے اس لئے اس کی بڑی اہمیت ہے۔
۱۵۔ دوسرا حملہ یاسین اور مڈوری کا فتح: مولانا لکھتا ہے کہ فتح یاسین کے بعد افواج ڈوگرہ جب گلگت واپس آئے تو گوہر امان کا بیٹا ملک امان یاسین کا راجہ تھا ،اشکومن اور پونیال پر عسےٰ بہاد ر کی حکومت تھی اور ڈوگر گلگت تک محدود تھے۔ جنگ یاسین کے بعد کافی عرصہ امن و امان رہا لیکن فریقین میں دشمنی اور عدم ا عتباری کا احساس موجود تھا ۔ اس دوران ایک ایسا واقع پیش آیا کہ مہاراجہ نے ایک سوداگر کو بدخشان بھیجا تھا جب وہ واپسی پر یاسین پہنچا تو یاسین والوں نے اس قافلے کو لوٹا اور مہارجہ نے دوبارہ یا سین پر حملہ کیا اس موقع پر یاسین کے لوگ قلعہ مڈوری میں قلعہ بند ہو گئے۔ لیکن مولانا حشمت اللہ لکھتا ہے کہ یاسین کے لوگوں کو یاسین میں شکست دیا تو ملک امان اس کے ساتھ کچھ لوگ چترال کی طرف فرار ہو گئے اور باقی لوگوں کا پیچھا کر کے قلعہ میں پہنچنے سے پہلے ہی ان لوگو ں کے ساتھ دست بدست لڑائی کیا اور قتل عام کیا اور اس شکست فاش سے یاسین والوں کا حوصلہ پست ہوا اور چند سال تک ڈوگروں کے باج گذار رہا۔ یعنی معتبران یاسین سالانہ تحفے تحائف لے کر جموں کشمیر مہاراجہ کے خدمت میں جاتے تھے۔ حسن تدبیر سے ان حالات کو لمبے عرصے تک قائم رکھا جا سکتا تھا لیکن جو ڈگرہ فوجی افسران گلگت میں تھے ان میں سیاسی قابلیت کی فقدان کی وجہ سے اور بعض دوسرے نا گزیر حالات کی وجہ سے ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات جاری رکھنے میں ناکامی ہوئی۔
۱۶۔ ملک امان راجہ یاسین کا گلگت پر حملہ: ۱۸۶۶ ؁ء میں ڈوگروں کی ریاست ہنزہ پر حملہ اور اس کی ناکامی کے بعد ڈوگروں کی اس کمزوری سے ان کے دشمنوں کی حوصلے بڑھ گئے چنانچہ گلگت کے گردونواح کے جملہ اقوام کا ایک زبردست اتحاد قائم کیا گیا، کہا جا تا ہے کہ اس کا روح روان یاسین کاو زیر رحمت تھا ، وہ اس سے قبل مہاراجہ کشمیر کی خدمت میں تحفے بھی لے کر چا چکاتھا اور ہنزہ کے معراکے میں بھی مہاراجہ کے فوج کے ساتھ نگر تک جاچکا تھا اور واپسی پر چند دن کے اندر اپنے خیموں کو استادہ چھوڑ کر یاسین کی طرف نکل گیا ۔
ایک دو ماہ بعد ایک بڑی فوج نے گلگت پر حملہ کیا راجہ یسن ملک امان نے چترال سے بھی مدد کی درخواست کی تھی اور راجہ امان الملک مہتر چترال خود گھوڑ سوار و پیادہ فوج لے کر آیا اور یاسین اور داریل کی فوج نے قلعہ گلگت کا محاصرہ کر لیا اور ان حملہ آوروں میں امان الملک مہتر چترال نامو اور ممتاز آدمی تھا۔ اس حملے میں افواج یاسین نے قلعہ گاہکوچ اور قلعہ بوبر کو بھی زیر کیا، لیکن شیر قلعہ پر ان کا بس نہ چلا اس میں عسےٰ بہادر خود بھی تھا اور ڈوگرہ فوج کی بھی ایک اچھی تعداد موجود تھی، اس لئے حملہ ٓاور اگر گلگت پر حملے کے لئے گذرتے تو محصور فوج کی زد میں آتے لہٰذا انھوں نے پہاڑی راستہ اختیا ر کیا اور گلگت پہنچ کر قلعہ گلگت کا محاصرہ کیا لیکن دشمن کے پاس قلعے کے اندر وافرمقدار میں سازو سامان اور خوراک موجود تھا اسلئے یہ محاصرہ طویل ہو گیا اور اس اثنا میں کشمیر سے تازہ دم فوج بڑی تعداد میں آئی اور محاصرین کو پسپا ہو نا پڑا اور یہ حملہ ناکام ہوا ۔
۱۷۔ گلگت پر ملک امان کا دوسرا حملہ۔ ۱۸۶۷ء ؁ میں یاسین کے انتھک فوجیوں نے پونیال پر حملہ کیا لیکن قلعہ بوبر میں مہاراجہ کی فوج کثیر تعداد میں موجود تھی انھوں نے راجہ عسٰے بہادر کے ساتھ مل کر یاسین والوں کا مقابلہ کیا اور اس وقت تک روکے رکھا تا وقتکہ بخشی رادھا کشن فوج لے کر گلگت سے پہنچ گیا ۔ اسے دیکھ کر یاسین والے پسپا ہو گئے اور اس کے بعد راجہ ملک امان نے گلگت پر حملہ نہیں کیا۔
۱۸۔ یاسین کے خانگی فساد اور میر و لی کا راجہ یاسین ہونا : راجہ گوہر آمان کی تین بیویاں تھیں پہلی بیوی مہتر چترال آمان الملک کی خالہ تھیں جس کی بطن سے ملک امان اور میر ولی پیدا ہوے، دوسری شادی امان الملک کی ہی بہن سے کیا جس سے غلام محی الدین المعروف پہلوان بہادر پیداء ہوے اور تیسری شادی راجہ پونیال آزاد خان کی بیٹی سے کیا اور ان کی بطن سے تین لڑکے میرغازی اور دوسرا میر نبی اور تیسرے کو اس کے سوتیلے بھائی ملک امان نے قتل کیا ، غازی گوہر امان کے فوت ہونے کے بعد ان کا بیٹا ملک امان راجہ بن گیا ، یہ پست قد لیکن طاقتور اور چست و چالاک آدمی تھا فن سپاہ گری میں طاق تھا لیکن دماغ اچھا نہیں رکھتا تھا ۔ اس کی تخت نشینی کے کچھ عرصہ بعد ہی وہ اور میر ولی آپس میں لڑ پڑے ، میر ولی نے مہتر امان الملک چترال کی مدد سے ملک امان کو یاسین سے نکال باہر کیا اور خود یاسین کا راجہ ہو گیا ۔ ملک امان پہلے داریل میں پناہ گزین ہوا پھر مہاراجہ رنبیر سنگھ کے پاس کشمیر پہنچا اور مہاراجہ نے دریا دلی کا مظاہرہ کیا اور ان کی خاطر تواضع کیاور وظیفہ مقرر کر کے گلگت میں اس کی سکونت کا بندوبست کیا۔ اور وہ اپنے دشمنوں کے نظر کے سامنے پہنچ گیا ۔ میر ولی نے مہتر چترال کی تعبداری حاصل کیا اور پہلوان بہادر کو مہتر چترال نے مستوج کا راجہ مقرر کیا اس زمانے میں مستوج یاسین کا علاقہ تھا،جو کہ شندور سے اس پار واقع ہے اور درہ شندور سے دریا ئے گلگت اور چترال کا پانی کا ڈھال جدا ہوتا ہے۔ اس طرح امان الملک نے یاسین کے علاقے کو یعنی مستوج کو یاسین سے الگ کیا اور آگے چل کر یہ چترال کا حصہ بن گیا ۔ امان الملک نے ان دونوں حکومتوں کو اپنے ساتھ متحد کر کے اپنی حکومت کی سرحد کو گلگت کے ساتھ ملا دیا لیکن یہ تینوں حکومتیں ایک دوسرے کے اوپر عتبار نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے آپ کو دوسرے کے تلوار کے زد میں سمجھتے تھے ۔مہاراجہ کے لوگ ان علاقوں میں بلا خطرہ داخل نہیں ہو سکتے تھے مگر یاسین اور چترال کے قاصد آزادی کے ساتھ گلگت میں آیا کرتے تھے۔

۱۹۔ لفٹننٹ ہیورڈ کا درکوت میں قتل: JOHN KEA کی کتاب گلگت گیم (GILGIT GAME) سے اقتباسات: اُس رات صاحب نے کھانہ نہیں کھایا۔ صرف چائے پیا۔ ساری رات کرسی پر بیٹھا رہا۔ سامنے بندوقیں اور پستول رکھے تھے۔ بائیں ہاتھ میں پستول تھا اور دائیں ہاتھ سے لکھ رہا تھا۔ صبح سویرے ایک کپ چائے پیا۔ اور گھنٹہ دو گھنٹہ آرام کر نے کے لئے لیٹ گیا۔شادل امان نے ایک آدمی بھیجااور معلوم کیا کہ وہ سو رہاتھاتب اپنے آدمیوں کو اُس جگہ لایاجہاں ٹنٹ نصب کیا گیا تھا وہ خود اندر گیا ، خانسامے نے کہا کہ صاحب سویا ہو اہے، کوکلی اندر ٹنٹ میں گھس گیا ، پٹھان نوکر نے روکنے کی کوشش کیا، دوسرے آدمیوں نے اس کو روکا، کوکلی نے صاحب کا گلہ اپنے دونوں ہاتھوں میں دبوچ لیا۔ اور تمام نوکروں پر قابو پایا گیا۔ اور ان کو باندھا گیا، انھوں نے صاحب کو باندھا ہوا ڈیڑھ میل دور جنگل میں لے گئے۔صاحب نے ان کو منوانے کی کوشش کی، پہلی بات یہ کہ سارے تحائف جو صاحب کے پاس ہیں وہ ان کو دئے جائنگے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ سب تو ویسے بھی ہماری ہیں، پھر صاحب نے انگلستان سے ایک خطیر رقم کی جان بخشی کے بدلے پیش کش کی۔ اس پیش کش کو بھی انھوں نے ٹھکرا دیا، پھر صاحب نے گلگت کے گورنر کو رقم دینے کے لئے خط بھیجنے کے لئے کہا انھوں نے ان سنی کر دی، صاحب نے کہا کہ ان کے منشی کو حاضر کر دیں ، لیکن منشی کے ہاتھ پیچھے باندھ کرایک گروہ اس کو قتل کرنے کسی اور طرف لے جا چکا تھا۔ صاحب نے انگلی سے انگوٹھی اتروایا۔ شادل امان نے اپنا تلوار نیام سے باہر نکالا، ہیورڈ نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کیا ، شاید یہ ایک دعا پکار رہاتھا جو موت کو سامنے دیکھ کر خدا کے حضور پیش کر رہا تھا، ۔۔۔ مزید جاری ہے

 

 

About Passu Times

One comment

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*