تازہ ترین

فیصل آباد کنونشن۲۰۱۸ [قسط دوئم]| جاوید احمد ساجد سلطان آبادی | پھسوٹائمزاُردُو

فیصل آباد کنونشن۲۰۱۸ [قسط دوئم]

ایک بازار بھنوانہ بازار ، اور مزے کی بات یہ ہے ہر بازار ایک مخصوص قسم کا بازار ہے یعنی ایک مارکیٹ میں بوٹوں کی دکانیں تو دوسری میں کپڑوں کی دکانین اور تیسرے میں کریانے کی اور پھر چھوتے میں اشیاء خوردنی ، اسی طرح ہم واپسی پر بھی فوٹو گرافی کرنا نہیں بھولے ، میں نے ایک ٹریفک پولیس کے ساتھ سلفی لی تو وہ گھبرا گیا میں نے حوصلہ دیا کہ یار میں گلگت سے آیا ہوں واپسی پر وہاں کے لوگوں کو آپ کا فوٹو دکھا ونگا، اس بے چارے کو تو اپنے شہر کے بارے میں بھی کچھ پتہ نہیں تھا ،میں نے کافی کوشش کی کہ کچھ معلومات لے لوں ، واپسی پربھی خوب فوٹو گرافی کی اور خاص کر مدسر اقبال ساتھ ہوتو ہر چوک ہر بلڈنگ ، ہر پارک اور ہر درخت یا پھول کیساتھ ایک فوٹو کھنچوانہ لازمی ہوتا ہے ان کا کہنا ہے یار ہم نے پھر سے یہاں تھوڑی آناہے لیکن بعد میں کبھی اس نے کوئی فوٹو کسی کے ساتھ شییر نہیں کیا ۔ دو گھنٹے بعد ہم لوگ تھک ہار کر کمرے میں پہنچ گئے اور تھوڑی دیر کے لئے آرام کیا لیکن کوشش کے باوجود سو نہ سکے، پانچ بجے ہم نے چائے پی کر شام کے گالہ پروگرام کے لئے چھ بجے جمع ہونا تھا، میں نے جلدی سے فوارے(شاور) لے کر تازہ دم ہوکر نکل گیا اور جناب مدسر صاحب جاکر گم گئے اور میں نے خیال کیا کہ کہیں اخبار پڑھتے پڑھتے سوتو نہیں گئے، ایک آدھ دفعہ ناک بھی کیا اور ایک دو مرتبہ کمرے سے باہر نکل کر واپس آگیا تو کہیں جاکر مدثراقبال صاحب واش روم سے نکل چکے تھے بڑی مشکل سے چھ بج کر پندرہ منٹ پر ہم لوگ چائے کے لئے پہنچ گئے جو کہ آخری مرحلہ تھا، بہر حال میرے سارے دوستوں نے سنیکس پر خوب ہاتھ صاف کیے لیکن میں نے ایک دو بسکٹ پر ہی اکتفا کیا ،کیوں کہ شام کو بھی کھانا کھانہ تھا۔ بہر حال چائے کے بعد ہم لوگ سوئمنگ پول پر گئے اور کرم بورڈ کھیلنے لگے اور پھر کسی کا فون آیا کہ تقسیم اسناد یا ایوارڈ کا پرگرام شروع ہونے کو ہے تو ہم لوگ بھی حال میں پہنچ گئے پھر ایک بہت بڑے شور شرابے میں اسناد تقسیم کئے گئے مختلف منیجرز نے تقاریر کیں اور گذشتہ کام کو سراہا اور آئندہ کے لئے اس سے بھی بہتر کام کی تاکید کی اور ایوارڈ کی تقسیم کے بعد کھانا کھایا گیا اور بس یہی کہ ہر کھانے سے ایک ایک پلیٹ اور پھر میٹھا بھی دودو چار چار پلیٹیں کھا کر لمبا سا ڈکار لے کر منصور کو سننے کے لئے اسی حال میں جمع ہو گئے اور گانے کچھ دیر سننے کے بعد میں کمرے میں گیا اور آرام کیا اور مدثر صاحب گانے کا پرگرام ختم کر کے آگئے ۔
۲۰ اکتوبر کو صبح نماز پڑھ کر پھر سے سوگیا اور ۷ بجے جاگا اور مدثر اقبال کو بھی جگایا میں تیا ر ہوا لیکن مدثر صاحب نے اُٹھتے اُٹھتے آٹھ بجائے اور بلاآخر تیار ہو کر ناشتے کے لئے گئے ناشتے میں بہت کچھ تھا لیکن میں نے کچھ مربے اور جوس پی لیا یہی کے ہر مربے سے دو دو چار چار قاش لیے، تو صرف ایک بڑی سی پلیٹ بھر گئی تھی اور دو چار گلاس ہر جوس سے لیے تو ایک کھٹا سا ڈھکار بھی آگیا او پھر کمرے میں جاکر واش روم گیا اور جب سانس آرام سے چلنے لگا اور بحال ہو گیاتو نکل گیا اور کھیوڑہ جانے کے لئے لابی میں اتر گئے اور پھر منیجر ز نے میسج اور کالیں کر کر کے اپنے اپنے حلقے کے لوگوں کو جمع کیا، دس بجے کی بجائے گیارہ کے نزدیک ہم لوگ روانہ ہوسکے اور شہر سے نکل کر خرا مے خرامے موٹر وے کی طرف روانہ ہوے اور شہر فیصل آباد کی کشادہ اور صاف ستھری سڑکوں پر ٹریفک اعتدال کے ساتھ جاری و ساری تھی، ہم موٹر وے پر پہنچ گئے اور رفتار اب قدرے تیز تھی حسن یاشر اورثاقب دونوں نے سماں باندھا تھا، ویگن کے سپیکر کی تھاپ پر دونوں خوب ناچ رہے تھے

ایک جگہ ہمارے قافلے میں شامل ایک ویگن جو کہ ہم سے آگے تھی کا ایک ٹائر اچانک برسٹ ہوا ، اور ایک دھماکے کی آواز آئی اللہ کا شکر ہے کہ پچھلہ ٹائر تھا جو ڈبل تھے اسلئے بچ گیا اور ڈرایؤر نے بھی مستعدی سے سپیڈکم کیا اور ایک طرف کر کے روک دی اور پھر سارے ڈرائیور جمع ہوکر بہت جلدی سے فالتو ٹائر لگا دیا اور سفر جاری ہوا ، دریائے جہلم کراس کیا پھر کھیوڑہ کی طرف ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک سے روانہ ہوے ہمارے ملک کی ٹریجڈی یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی کان بل کہ دنیا کی سب سے بڑی کان کے لئے سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ٹورسٹ سب سے زیادہ شاید اس جگہ آتے ہوں گے لیکن حکومت کا یہ حال کہ سڑک بناکر نہیں دے سکی۔ اسی سڑک کی مرمت بھی کر کے ٹوٹ پھوٹ درست کرے تو پھر بھی بات ہے۔ ایک بجے ہم کھیوڑہ پہنچ گئے اور دیکھا توفیصل آباد سرینہ ہوٹل کے عملہ نے بڑی مستعدی کے ساتھ اور خوبصورت طریقے سے بوفے سجا کر کھانہ لگایا ہے ۔ شاید ہم میں سے ایک دو نے ہاتھوں کو نمازی کیا ہوگا لیکن کھانے پر ٹوٹ پڑے اور خوب دباکر کھانہ کھایا ۔ میں نے صبح ناشتے میں چائے نہیں پیا تھا جس کی وجہ سے بھی اور راستے میں حسن یاشر اورثاقب کا ہنگامہ اور سپیکر کے شور کی وجہ سے سخت سر درد ہو رہا تھا ، کھانے کے بعد ہم لوگ کھیورہ نمک کی کان کے دہانے پر تھے۔
کھیوڑہ ( کوہستان نمک ) کی کان کا تاریخی پس منظر
کھیوڑہ میں نمک کی دریافت ۳۲۶ قبل مسیح میں اس وقت ہوئی جب دریائے جہلم کے کنارے سکندرا عظم اور راجہ پورس کے مابین جنگ لڑی گئی اور سکندر عظم کے فوجیوں کے گھوڑے اس علاقے میں چرنے کے دوران پتھروں کو چاٹتے پائے گئے جس سے یہاں نمک کی موجودگی کا انکشاف ہواتھا۔ اس وقت سے یہاں نمک نکالنے کا کام جاری ہے ۔ یہ پوری دنیا میں اہم ترین ذخیرہ ہے، اسکی لمبائی ۳۰۰ کلو میٹر ہے اور چوڑائی ۸ تا ۳۰ کلو میٹر ہے اور اونچائی ۲۲۰ فٹ سے ۴۹۹۰ فٹ (کوہ سکیسر ) ہے جو کہ یہاں سے شروع ہو کر میاں والی تک جاتا ہے، کھیوڑہ کو ارضیاتی عجائب گھر بھی قرار دیا جاتاہے ۔ کیو نکہ یہاں کروڑوں سال پرانے پری کیمبرین عہد سے موجود ہ دور تک کے ھجری اثار موجود ہیں ۔ ۱۸۴۹ء مین انگریز انتظامیہ نے نمک کی نکاسی کاکام سائنسی بنیادوں پر شروع کیا ، ۱۸۷۲ء میں ایک معروف انگریزمائننگ انجینیر ڈاکٹر وارتھ نے نمک کے ذخائر تک براہ است رسائی کے لئے بڑی کان کی کھدائی کروائی جو تا حال فعال ہے۔ اس وقت کھیوڑہ کی کانوں میں سترہ منزلوں سے نمک نکالا جا رہا ہے۔ سائنسی اصولوں کے مطابق کان سے ۵۰ فی صد نمک نکال کر ۵۰ فی صد بطور ستون چھوڑ دیا جاتاہے جو کہ کان کی مضبوظی کو قائم رکھتا ہے ۔ کھیوڑہ کا نمک دنیا کا خوردنی نمک کا دوسرا ذخیرہ ہے یہاں دو کروڑ بیس لاک ٹن کے ذخائر موجود ہیں ۔۳۰۰ کلو میٹر سے ۳ مربع کلو میٹر نمک نکالا جاچکا ہے اور ۳۹۷ کلو میٹر ابھی باقی ہے۔
کان کی سیر : دوپہر کا کھانہ کھانے کے بعد ہم لوگ ایک گایئڈ کی قیادت میں کان کے دہانے پر پہنچ گئے اور جب ریل گاڑی آگئی تو اس میں سوار ہو گئے اور ایک ایک چینچی نما ڈبے میں چھ چھ بندے بیٹھ سکتے ہیں جب سب لوگ بیٹھ گئے تو گائڈ نے باقائدہ وسل بجا کر ریل گاڑی کو مارچ کا اشارہ دیا اور ہم پورے پانچ منٹ کے بعد کان میں اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے آگے گائڈ ہمیں مختلف جگہ مختلف چیزوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا رہا اور جب ہم سب اتر گئے تو گائڈ نے ایک بار وسل بجا بجا کر ہمیں جمع کر نے کے لئے بار بار علان کیا کہ ریل کے سواری سب اپنے گائڈ کے ساتھ ساتھ رہیں تو آپ لوگ فائدے میں رہیں گے ۔ ہم عرصہ دراز سے اس کان میں کام کرتے ہیں اور آپ کو مکمل معلومات فراہم کریں گے۔ گائڈ کے ایک ہاتھ میں ایک وسل تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک بیٹری والا ٹارچ تھا، جس کی روشی کی مدد سے اندھیرے کونوں اور غاروں کو ہمیں دکھاتا تھا ۔ چند قدم کے بعد رک گیا اور ٹارچ کی مدد سے ہمیں ایک غار دکھائی اور کہا کہ ہمارے داییں جانب ایک پلر ہے اور پھر غار ہے اور پھر بائیں جانب ایک پلر ان کے درمیان میں غار سے نمک نکالا گیا ہے اور یہ نیچے نمک کا پانی ہے جب بارش ہو تی ہے تو یہ پانی نمک میں سے گذر کر نیچے اس غار میں ٹپکتا رہتا ہے۔ نمک شروع سے بلاسٹنگ کے ذریعے نکالا جاتا ہے اور اس نے ان جگہوں کی نشان دہی کی جدھر بارود بھرنے کے لئے ڈرل مشین سے سوراخ نکا لاجاتا ہے، اب ہم آگے جاتے ہیں آپ بانو بازار کی سیر کریں گے گائڈ نے علان کیا اور پھر تاکید کی کہ اپنے گائڈ کے ساتھ رہیے گا فائدے میں رہوگے، آج رش بنا ہو ہے سر۔ گائڈ نے کہا کہ نمک آپ کے پیٹ میں گردش کرتاہے لیکن آج آپ نمک کے پیٹ میں ہیں ، تو میں نے کہا کہ اس کو کہتے ہیں گردشے نمک ۔ ایک غار کی طرف اپنی ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہو ے کہا کہ اس غار سے نمک نکالا گیا ہے اور یہ دیکھو پانی اوپر چھت سے ٹپک رہا ہے اور یہ جو پہاڑ سا بنا ہو ہے یہ وہ نمک ہے جو پانی رس رس کر جمع ہونے کے بعد بنتا ہے اور اس سے واشنگ سوڈا یعنی دھوبی سوڈا بنایا جاتا ہے۔ یہ جو بائیں ہاتھ میں جو کمرے بنے ہوے ہیں اس میں پانی نہیں او ریہ کرایے کے لئے خالی ہیں آپ لوگ کرایہ پر رہ سکتے ہیں ، گائد مذ اق بھی کرتا رہتا تھا، آگے ایک چوک آگیا جہاں سے آگے کام ہو رہا تھا اور ہم آگے نہیں جاسکتے تھے اور اس چوک میں نمک کو خوب صورت تراش کر ایک مسجد بنائی گئی ہے ا ور گیت کے پیلر کے اندر بلب جلنے سے بڑا خوب صورت نظر آتا ہے اور ساتھ ہی ایک دیوار بنی ہوئی تھی، اس پر بھی ٹارچ کی روشنی پڑ جائے تو پوری دیوار میں سرایت کر جاتی ہے اور برا خوبصورت نظارہ بنتا ہے، وہاں بھی ڈرل مشین کے سوراخ کا نشان دکھایا اور کہا کہ یہ روم نمبر ۹ ہے۔ ایک شخص نے پوچھا بارود سے بلاسٹنگ کی جاتی ہے تو اس کی وجہ سے بد بو یا اس کے اثرات نہیں ہوتے تو کہا کہ بلاسٹنگ سے بارود جل جاتا ہے وقتی طور پر بد بو آتی ہے پھر ذائل ہو جاتی ہے ۔ اس جگہ سے ہم دوسری طرف سے واپس دہانے کی طرف روانہ ہوے ۔ بانو بازار سے واپسی پر چند قدم پر نمکین مینارپاکستان بنا ہو ا تھا ،انتہائی خوب صورت مینار تھااور یہ سرخ نمک کا بنا ہو تھا ،گائڈ کا کہنا تھا کہ بھارت والے لاہوری نمک یعنی سرخ نمک کی ڈیمانڈ کرتے ہیں، ہم جو ٹیبل لیمپ بناتے ہیں وہ سرخ نمک کا ہو تاہے۔ گائڈ کو یہاں کام کرتے ہوے ۳۸ سال ہو چکے تھے اور اس کو اس بات پر فخر ہے کہ پوری کان دیکھی ہے ، علان کیا کہ سٹوری نمبر چھ کا آپ نے سیر کی اب میں سپیشیل طور پر آپ کو نیچے والی سٹوری کی سیر کراتا ہوں اور سیڑھیوں کے ذریعے ایک سٹوری نیچے لے کر گیا جہاں روشنی قدرے کم تھی اور سامنے ایک گیٹ جو کہ بند کیا گیا تھا، اس سال بارشیں قدرے زیادہ ہوئیں جس کی وجہ سے پانی اندر زیادہ آیا اور خطرناک ہوا ، اس لئے ادھر سے اندر جانا بند کیا گیا ہے۔ پھر ایک سویچ بورڈ پر لگا ہوا سویچ آن کیا تو اندر کا نظارہ انتہا ئی خوب صورت دکھائی دے رہا تھا کہ عقل دنگ رہ گیا ایسے لگ رہا تھا کہ آگ کے شعلے بکھر کر ہر طرف نور برسا رہے ہیں، حفاظت کی غرض سے اس سرنگ کے گیٹ کو بند کیا گیا ہے ہم اندر نہیں جاسکتے ۔ پانی زیادہ بہنے کی وجہ سے دیواروں میں کرسٹل بن چکے تھے وہ خراب ہو گئے ہیں ، اس لئے حفظ ما تقدم کے طور پر بند ہے۔ پھر وہاں سے ہم واپس اوپر آگئے ، تو ایک اندھیری غار کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اگر آپ میں سے کوئی اپنی قسمت کو آزمانہ چاہتا ہے ، تو اس غار میں پتھر پھینک کر دیکھو جس کا پتھر اس پانی میں گر گیا تو اس کی نیت پوری ہو گی، نمک کے پتھر وہ آپ کے پیچھے پڑے ہیں معلوم نہیں کتنے منچلوں نے پانی میں پتھر پھینکنے کی کوشش کی، رہنما نے کہا کہ یہ آپ کے سامنے جو جگہ ہے اس کو کشمیر پوائنٹ کہتے ہیں۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

About Passu Times

One comment

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!