تازہ ترین

سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کے آئینی و بنیادی حقوق سے متعلق ڈاکٹر عباس اور جی بی بار کونسل سمیت مختلف 32 مقدمات پر سماعت

اسلام آباد : پھسوٹائمزاُردُو : ابرار حسین استوری

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کے آئینی و بنیادی حقوق سے متعلق ڈاکٹر عباس اور جی بی بار کونسل سمیت مختلف 32 مقدمات پر سماعت کرتے ہوئے سات رکنی لاجر بینچ نے آئینی حقوق کے لئے کابینہ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کودن رات کام کی ہدایت کرتے ہوئے پندرہ روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو متعدد بار وقت دیا لیکن ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی محض کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں جسٹس گلزار نے کہا کہ انیس سو سینتالیس سے ہی ہمیں یہ معاملہ حل کر لینا چاہیئے تھا لیکن افسوس کہ ہم ہر معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے گلگت بلتستان میں عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گلگت بلتستان عدالتی دائرہ اختیار پر بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس بلانا ہے ہمیں مزید وقت دیا جائے. چیف جسٹس نے کہا کہ مزید وقت نہیں دے سکتے یہ اہم مسئلہ ہے گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان سے پیار کرتے ہیں ہم نے ابھی تک گلگت بلتستان والوں کو شناخت نہیں دی

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کابینہ کا اجلاس چل رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اجلاس کو چھوڑ دیں کمیٹی  ممبران کو آج ہی بلائیں جو مسئلہ اہم ہو اس کو پہلے دیکھنا چاہیے. چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ میں اٹارنی جنرل کی حمایت کروں گا یہ ایک حساس معاملہ ہے بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھنا ہوگا کمیٹی کو سات سے دس روز مزید دینے چاہیئں

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گلگت بلتستان سے متعلق قوانین میں تبدیلی کے لیے سفارشات کابینہ کے سامنے رکھی گئی ہیں وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات کے لیے کمیٹی بنائی ہے جس نے اپنے ٹی او آرز دیے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ایسے معاملے کو سرد خانے میں ڈالنا چاہتے ہیں. حکومت کو ہمارے نوٹس لینے سے پہلے گلگت بلتستان کے حقوق سے متعلق کام کرنا چاہیے تھا کمیٹی کے تمام ممبران کو بلا لیں، وہ بتا دیں کیا فیصلہ کرنا ہے

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ ایسے مسئلے کو براہ راست حل کیوں نہیں کرتے انیس سو سینتالیس سے ہی ہمیں یہ معاملہ حل کر لینا چاہیئے تھا لیکن افسوس کہ ہم ہر معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آپ کو ایک ماہ دیا تھا آپ یہ پیش رفت دکھا رہے ہیں عدالت نے کمیٹی کو پندرہ دنوں میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت تین دسمبر تک ملتوی کر دی

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!