تازہ ترین

دردستان ایک فرضی نام ہے | جاوید احمد ساجد سلطان آبادی | پھسوٹائمزاُردُو

دردستان ایک فرضی نام ہے
گلگت بلتستان کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا رہا ہے ، جیسے بلورستان ، دردستان، عظیم بروشال، گلگت ایجنسی ، بلتستان ایجنسی، شمالی علاقہ جات یا ناردرن ایریاز، اور پھر گلگت بلتستان ۔ کہتے ہیں کہ بروشال سب سے قدیم راجدھانی یا حکمرانی یا ملک تھا ، پھر بلورستان، پولولو، پتہ نہیں کیا کیا نام دیا گیا اور مختلف ممالک نے یلغار کیا ، قرغز ، چینی ، تبتی اور پھر ڈوگرہ کشمیری اور ڈوگروں کی قبضے سے پہلے گلگت بلتستان زمانہ قدیم سے ہی کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا ، جن کا تشخص کسی نہ کسی صورت میں آج بھی وجود اور شناخت رکھتا ہے، جیسے بلتستان میں کئی راجے حکومت کرتے تھے جیسے راجہ شیگر ، خپلو، سکردو، گھانچے، کھرمنگ وغیرہ، لیکن مولوی حشمت اللہ نے تاریخ جموں میں راجگان شغر اور ، پوریگ ، زاسکار’’ کرگل‘‘ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسی طرح گلگت، ہنزہ، نگر، استور، چیلاس،پونیال، اشکومن، یاسین یا ورچھیگم ’’راجدھانی یاسین ، کوہ غذر سے لے کر مستوج‘‘ تک تھی ، جو کہ بعد میں کوہ غذ ر ’’ گوپس‘‘ اور یاسین الگ ہو گیا ، لیکن اس سے قبل پونیال اور اشکومن بھی ورچھی گم میں شامل تھے، جہاں پہلے ریئس کی حکومت تھی جو کہ چترال میں بھی ریئس کی حکومت تھی ، اور پھر ڈوگروں کی قبضے کے بعد پونیال اشکومن ’’ اشھقمن ‘‘پہلے الگ ہوا پھر چترال کے علاقے جو کے شندور سے پار مستوج یارخون اور لاسپور بھی چترال میں شامل ہوے اور ادھر غذر میں چار ریاستیں وجود میں آئیں ۔ الحاج مولوی حشمت اللہ خان لکھنوی اپنی تصنیف تاریخ جموں کے صفحہ نمبر ۷۰۲ ( سات سو دو) میں یوں رقم طراز ہے ’’جس وقت ڈوگرہ فوج بہ عزم یاسین پونیال سے گذری تو یاسین اور گلگت کی حکومتوں کے درمیان ایک خود مختار ریاست قائم کر نے کی مصلحت سے اس کی میراث اس کے حوالہ کردی گئی یعنی عسیٰ بہادر کو پونیال کی راجگی حوالہ کیا ‘‘ اور اسوقت سے پونیال ایک خودمختار راجدہانی بن گیا اور اسی طرح علی مردان خان کو اشکومن کا را جہ بنایا گیا ’’ یہاں طوالت کی وجہ سے صرف حوالہ سے کام لیا گیا ہے ‘‘ بات ہو رہی تھی کہ اس علاقے کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا تھا لیکن ان میں جو ایک مبہم نام ہے وہ دردستان ہے جو کہ ایک فرضی نام ہے، یہ نام سب سے پہلے برٹش انڈیا کا ایک ملازم پروفیسر ڈاکٹر لیٹنر جی ڈبلیو نے دیا تھا ، اسی طرح بعد میں آنے والے دوسرے مغربی مفکرین نے بھی اپنے اپنے طور پر نام دیا ۔ مسٹر بڈلف اپنی کتاب ہندو کُش کے قبائل ’’TRIBES OF THE HINDOO KOOSH ‘‘ کے صفحہ نمبر ۸(آٹھ ) پر یوں رقم طراز ہے ”They the Tribes of North and North West have been hitherto confounded under the name of Dards – a name which particularly,has no realsignification” شمال اور شمال مغرب کے قبائل کو درد قوم کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ، یعنی یہ ایک مغربی لکھاری نے خود ہی اقرار کیا ہے کہ درد نا م کی کوئی وقعت نہیں ۔ آگے چل کر اسی صفحے پر لکھا ہے ۔ ”Notice was first drawn to the Dards in modren times by Moorcraft, Later , Vigne, who travelled through Cashmere ( Kashmir) and Baltistan in 1835, made an attempt to reach Gilgit, which unfortunately was un successful”
پہلی مرتبہ اس بات کو منظر پر لانے والے مور کرافٹ اور بعد میں وویجن تھے جنھوں نے کشمیر اور بلتستان سے گلگت پہنچنے کے لئے 1835 میں سفر اختیار کیا تھا جو کہ بد قسمتی سے ناکام ہوا۔ اور اسی صفحے پر ہی آگے چل کر ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر اور مسٹر ڈریو کا حوالہ دیتے ہوے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر لیٹنر ایک لمبے عرصے تک ان علاقوں میں گذار کر بہت سی معلومات لے کر واپس آیا جن کو مسٹر ڈریو نے اپنے ، کشمیر پر اہم کام میں دکھایا ہے ڈریو لکھتا ہے۔ ”Dr. Lietner was the first to bring in to prominent notice the existence of an Aryan race of great ethnological interest in these remote valleys. his scanty opportunities, however, have caused him to fall into the error of believing that the tribes which he has classed under the name of Dard are all of the same race, and he has applied the term of Dardistan, a name founded on a misconception, to a tract of country inhabited by several race, speaking distinct languages, who differ considerably amongst themselves. As however, there is no one name which will properly apply to the people and countries in question, it will be perhaps convenient to retain the names of Dard and Dardistan when speaking collectively of the tribes in question and the countries they inhabit”
ڈاکٹر لیٹنر وہ پہلا شخص ہے جس نے ان دور دراز علاقوں میں آریا قبائل کے وجود کے بارے میں توجہ دلائی۔ ان کی ناکافی یا بہت کم معلومات اس کی اس غلطی کا سبب بنی کہ وہ ان تمام کو ایک ہی قبیلے سے جوڑ کر ان کو درد اور اس علاقے کو ایک غلط تصور کی بنا پر دردستان کہتا ہے ایک ایسے علاقے کے بارے میں جو مختلف قبائل یا نسلوں سے تعلق رکھتے تھے اور مختلف زبانیں بولتے تھے جو کہ ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔ جیسا کہ ان کا ایک نام یا ملک نہیں تھا ۔ صرف اسی لیئے ان کو درد یا دردستان ایک اجتماعی سوال پر کیا جائے کہ وہ ایک ملک میں رہتے ہیں ۔
محترم قارین کرام اندازہ لگائے یہ درد یا دردستان کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا بل کہ یہ ایک فرضی اور مبنی بر قیاس ایک نام دیا گیا جس کو ہم لوگوں نے بھی لکھنا شروع کیا۔ جو کہ غلط ہے۔ چونکہ ظاہر ہے یہ قبائل یا مختلف نسلوں کے لوگ ، مختلف ادوار میں ، مختلف جگہوں میں ، مختلف علاقوں یا ملکوں سے آکر آباد ہو گئے ہوں گے جو ہو سکتاہے اپنی قبائلی دشمنیوں کی بنا پر سکون اور امن کی تلاش میں آئے ہوں ، ہو سکتا ہے کہ مال مویشیوں کے لئے بہتر چراگاہوں کی تلاش میں یا روزگار اور کھیتی باڑی کی غرض سے آ کر مختلف چھوٹے چھوٹے گاوں یا محلے کی صورت میں آباد ہو گئے ہوں ۔ جن کو مختلف مورخوں یا مسافروں یا سیاحوں نے جو بہت سے علاقوں کو جو کہ انھوں نے ملک یا ضلع (ڈسٹرکٹ) لکھا ہے لیکن اکثر نے کنٹری یعنی ملک لکھا ہے ، جب کہ ایک ملک کی صورت میں آج بھی نہیں آیا ، جب کہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں بلکہ ایک قبایلی نظام تھا ، جو کہ راجگی نظام کہلاتا تھا ، قبائلی نظام میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ایک یاسین میں مختلف جگہوں میں چودہ قلعے تھے جن کے اثرات آج بھی یاسین میں دیکھے جاسکتے ہیں ’’ دیکھئے وادی یاسین جاوید احمد‘‘ ۔ اسی طرح پورے گلگت بلتستان پر ڈوگروں کے قبضے کے بعد بھی وہی نظام تھا جب کہ ان سیلانیوں نے اس وقت یہاں کے لوگوں کی زبان کی ترجمانی کیسے کی کس طرح ان لوگوں نے ان قبایل سے یہ معلوم کیا کہ یہ کونسی قوم ہے یا ملک کا نام کیا ھے ، ظاہر ہے اس وقت کے اس قبائلی ماحول میں بہت مشکل سے ہی کسی نے ان غیر ملکیوں سے اشارے کنائے ہی سے بات کی ہو گی اور ان سیلانیوں نے ان کے ان اشاروں کی زبان کو جیسے سمجھا لکھا اور یہ تاریخ بن گئی بل کہ ہم نے خود بنادی ۔ 
یہاں میں جناب وزیر محمد اشرف خان صاحب کی کتاب جو کہ کسی گلگت بلتستان کی شاید سب سے پہلی کتاب ہے اور اس علاقے کا پہلا گریجویٹ جس نے علی گڑ سے بی اے ایل ایل بی میں گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ کا حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا وزیر موصوف نے اپنی کتاب ( ”The Hinter Land of Asia Gilgit Baltistan” جس کا اردو ترجمہ بشیر اللہ مصطفوی نے کیا ہے ’’ ایشیا کی دور افتادہ سر زمین گلگت بلتستان‘‘ کے صفحہ نمبر 14 پر مختلف ملکوں کے مشاہدات کا ذکر کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ یونانی مورخ ہیرو ڈوٹس نے جدید انڈس ، کوہستان اور گلگت کے لوگوں کو ڈاڈیکا کا نام دیا ہے، اسی طرح سکندر عظم کی فوج کا کمانڈر انچیف پوٹالمی نے بلتستان کو بیالتیBYLTAI نام لکھا ہے، چینی مورخ شی فاہیان نے داریل کو تولی ۔TOLI اور سوات کو ادھیانہ ۔UDYANA اور ہیوں سانگ نے داریل کو تولیلو ۔ TOLILO اور بلتستان کو پولولو ۔ POLOLO پکارا ہے،
اسی طرح اس کتاب کے صفحہ نمبر 15 ر ہندوستانی مشاہدات کے ذمرے میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں دیوتاوں سے متعلق ہندوں کی مقدس کتابوں میں موجود لوک کہانیوں میں صوبہ گلگت کے قبائل کو آبی سارس ( Abhisaras) درداز (Dardas ) اور کھساراز (Khasaras) کہا گیا ہے یعنی بالترتیب جدید دور کے استوری، کوہستانی اور وادی یاسین کے کھوار بولنے والے لوگ ، اسی طرح وزیر صاحب نے عرب کے البیرونی اور ترکی کے میرزہ حیدر گورمانی کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اور وزیر موصوف نے کرنل ڈاکٹر لیٹنر ، بڈلف ، مور کرافٹ، فریڈرک، وین ، کرنل شمبرگ کے حوالے سے بھی لکھا ہے کہ ان لوگوں نے بھی درد لکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ لیٹنر کو خود بھی اس بات کا احساس ہوا تھا کہ درد یا دردستا ن درست نام نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس نے اپنی کئی کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک بات پر تو مجھے شک پڑتا ہے کہ ہو سکتا ہے کسی نے ان گوروں کو دیکھ کر شینا کا یک لفظ جو کہ چست و چالاک یا ترکڑھا آدمی کو ڈاڈھا کہا جاتاہے اور کسی نے کہاہو کہ ڈاڈھا موشا ایک ھن وا ( بڑا ترکڑا آدمی ہے) تو اس بات کی وجہ سے ہیروڈوٹس نے ڈاڈیکا سے پکارا ہو یا لیٹنر نے دردا کہاہو،
بہر حال یہ درد اور دردستان بالکل فرضی نام ہیں۔
وزیر محمد اشرف خان صاحب اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 25 پر لیٹنر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ لیٹنر کے دلائل کا ناقص ہونا خود اس کو بھی ظاہر ہو چکا تھا کہ گلگت کے سرحدات میں ایسے لوگوں کا کوئی وجود نہیں جو اپنے کو درد کہتے ہوں لیکن اس کے باوجود بھی اور بعد میں آنے والوں نے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوے بھی لفظ درد کا ذکر کیا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔
یہاں میں ایک اور اہم نقطے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہونگا کہ ان فرنگیوں نے پورے گلگت بلتستان کی لوگوں کو دو قومیت یا قبائل میں تقسیم کیا ہے یعنی شین اور یشکن ، جو کہ بالکل غلط ہے یہ قومیت صرف اور صرف شینا بولنے والے لوگوں کی قومیت یا قبائل ہیں جب کہ ا ن مغربی مورخوں نے شینا بولنے والوں کو شین اور دوسروں کو یشکن لکھا ہے حالانکہ یہ با لکل ایسا نہیں ہے کیونکہ ہنزہ نگر اور غذر میں قومیت باپ دادا کے ناموں سے منسلک ہے، جیسے ہلبی سے ہلبی تنگے، قوشقن سے قوشقنے، ماتل سے ماتلے، خوش وقت سے خوشوقتے، شاکٹور سے کٹورے، محمد بیگ سے محمد بیگے شمن سے شمونے ، اسی طرح ہنزہ میں برونگ، خوروکچ، تھرہ کچ ، برتلنگ ، عیاشو وغیرہ ،جب کہ زمانہ جاہلیت کے کچھ مفروضے تھے جیسا کہ کسی کو عزت دار( عزت مند) اور کسی کو کم زاد کہا جاتا تھا جس کوعرف عام میں خاص کر یاسین اور چترال میں آدم زادہ اور بدذاد،کمین یا ، رایت (رائے حد) وغیرہ کہا جاتا تھا حالانکہ سب آدم کی اولاد ہیں کوئی ایسی بات نہیں، یہ سب اس دور کے ظلم اور ظالموں کی وجہ سے تھا، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مغربی مورخوں کا یہ کہنا کہ شینا بولنے والے شین دوسرے یشکن ہے یہ بالکل بھی ایسا نہیں ہے یہ شین اور یشکن دونوں ہی شینا زبان بولنے والو ں کی قوم یا قبائل یا القابات ہے ۔ان کا کسی زبان یا علاقے( بروشاسکی یا کھوار ) بولنے والوں سے کوئی تعلق بالکل بھی نہیں ، جیسا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ سینہ بہ سینہ چلنے والی داستانوں اور مفروضوں پر مبنی ہے جبکہ اس علاقے کے باشندوں میں وزیر محمد اشرف خان کے علاوہ لے دے کے تاریخ پر قلم اُٹھانے والے یا کچھ لکھنے والے صرف اور صرف راجہ شاریئس خان کی تاریخ گلگت ہے جس کو اگر اپنے منہ میا میٹھو کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ، چونکہ انھوں نے صرف اپنے ابا و اجداد کی ایک لمبی چوڑی داستان لکھی ہے جن کا ثبوت یا حوالاجات میرے خیال میں نہایت مفقود ہیں راجہ بہادر نے صرف اپنے ابا و اجداد کی تعریف کی ہے اور دوسرے جیسے بھی حکمران یا راجے گذرے ہیں ان کے حق میں نہایت ہی لغو ، زبان استعمال کی ہے اور موجودہ دور کے سیاست دانوں کی ز بان ( گالی گلوچ ) استعمال کی ہے ، اس طرح ہمیں مغربی مفکرین یا دوسر ے سیلانیون یا سیاح ، لکھاریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ یاسین میں شینا بولنے والوں کو شھین (shhain) ، کہا جاتا ہے یا ڈنگریک (DANGARICK)کہا جاتا ہے چونکہ داریل کو اکثر طور پر خاص کر یاسین والے ڈنگری (DANGARI) کہتے تھے اور اگر آج بھی یاسین کے کسی باشندے سے پوچھا جائے تو وہ شین یا یشکن سے نا بلد ہے ان الفاظ کو میں نے خود گوپس میں چھ سال کی زمانہ طالب علمی میں رہ کر، جان کاری حاصل کی ، اسی طرح ان غیر ملکیوں نے ہمارے علاقوں کے ناموں کا بھی حلیہ بگاڑہ ہے جیسے گلگت جو گلییت تھا یا گیلت یا سارگن گلییت تھا ، دیور کو دنیور ، یسن یا ببائے یسن کو یاسین، ہنزو کو ہنزہ، پویال یا پویاں کو پونیال ، اشھقمن یا اشقامن کو اشکومن، غرز کو غذر چھترار کو چترال ، الغرض ان لوگوں نے ہماری ہر چیز کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ لہٰذا ہمیں نئے سرے سے اور اپنے طور پر تحقیق کر نے کی ضرورت ہے ۔ ایک اچھی کاوش جو کہ جناب سید محمد یحیٰ شاہ الحسینی نے اپنی کتاب بروشو قبائل اور بروشال میں اس با ت کی وضاحت کی ہے کہ شین اور یشکن سے بروشو قبائل کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ قومیت درد لوگوں کا ہے ، شاہ صاحب بروشو قبائل کو انڈو ایرانین لکھتے ہے اس سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ شین اور یشکن شینا بولنے والوں کی اصطلاحات یا قومیت ہے، شاہ صاحب نے اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۳۶۴ سے لے کر صفحہ نمبر ۳۶۸ تک تقریباََ نو مختلف اور مضبوط دلائل دے کر اس بات کر رد کیا ہے کہ بروشاسکی بولنے والے قبائل یعنی یسن (یاسین) ہنزہ اور نگر کے لوگوں کا یشکن سے کوئی تعلق ہے بلکہ یہ دونوں قبائل شینا بولنے والوں کے ہیں اور ایک ہی باپ کے دو مختلف ا لنسل بیویوں کی اولاد ہیں جن کا ہنزہ نگر اور یسن کے قبائل سے کوئی تعلق نہیں ۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ شینا بولنے والے لوگوں کی قومیت ہے، چونکہ گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ صرف مغربی سیاحوں یا دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی ہے، جب کہ ابھی تک کسی نے مستند کتاب گلگت بلتستان کے بارے میں نہیں لکھی جس نے بھی کوشش کی ہے و ہ ناکافی ہے

کتابیات( حوالاجات) ٹرائبز آف ہندوکش ( مسٹر بڈلف)
ایشیاء کی دور افتادہ سر زمین (گلگت بلتستان) ( وزیر محمد اشرف ، ترجمہ بشیر اللہ خان مصطفوی)
برشو ق بائل اور بروشال (سید محمد شاہ الحسینی)
تاریخ گلگت ( راجہ شاہ ریئس خان)
وادی یاسین ( ارٹیکل) جاوید احمد ساجد سلطان آبادی

About Passu Times

One comment

  1. پھسو ٹائم کا شکریہ ، لیکن سامعین کرام معزرت ایک جگہ غلطی سے 1835 کے بجائے 1935 ہو گیا اسے 1835 پڑھا جائے شکرہ

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!