تازہ ترین

اِنسانی تاریخ میں عورت کامقام (مدرسری سے پدر سری نظام تک) | نثار کریم | پھسوٹائمزاُردُو

اِنسانی تاریخ میں عورت کامقام
(مدرسری سے پدر سری نظام تک)
بھوُک اور مُحبت انسان کی بُنیادی ضرورت ہیں، اس لیے معاشی بہم رسائی اور حیاتیاتی بقاء معاشی تنظیم کے بُنیادی وظائف اور ضرورت ٹھہرے، یوں بچوں کی مسلسل پیدائش اور غذا کی فراہمی کے تسلسل جتنی اہمیت کی عامل قرار پائی، اُن اداروں کے ساتھ جو مادی بہبود اور سیاسی نظام کا کام کرتے ہیں۔ معاشرہ نسلِ انسانی کے دوام کے ادارے بھی شامل کر دیتا ہے، ریاست کے باقاعدہ آغاز سے پہلے جرگہ مختلف نسلوں کے درمیان تعلقات کو باضابطہ بنانے کا نازک کام کرتا ہے،یہاں تک کی ریاست کے معاشرتی نظم و نسق کے لیے مرکزی اور مُستقل زریعہ بننے کے باوجود نسلِ انسانی کی لازمی حکومت سب سے اہم تاریخی ادارے۔۔۔۔خاندان۔۔۔اور خاندان میں عورت۔۔۔میں رہتی ہے۔
یہ بات خاضی قیاس آرائی ہے کہ شکار کے زمانے کے انسان الگ تھلگ خاندانوں میں رہتے تھے کیونکہ اس طرح تو انسان کی جسمانی طور پر دفاعی کمتری ایسے خاندانوں کو خونخوار درندوں کا شکار بنا دیتی، عموماََ وہ مخلوق جو انفرادی دفاع کی اہل نہیں ہوتی، فطری طور پر گروہوں میں رہتی ہے۔
پوری انسانی دُنیا میں شرح اموات و پیدائش تہذیب کی ترقی کے ساتھ گر جاتی ہیں۔ اچھی خاندانی دیکھ بھال سے طویل بچپنہ ممکن ہوتا ہے، جب ہم تاریخ کے دھند میں دیکھتے ہیں تو ابتدا ء میں ماں نے زیادہ ترخاندانی وظائف اور ذمہ داری سر انجام دیئے، چنانچہ پہلے خاندان اس مفروضے پر مُنظم ہوا کہ اس میں مرد کی حیثیت سطحی اور ضمنی تھی جبکہ عورت کی حیثیت بُنیادی اور ارفع تھی،بعض قبلیوں میں اور غالباََ انسانی گروہوں میں جس طرح افزائشٍ نسل میں نر جانور کے کردار پر توجہ نہیں دی جاتی تھی جو جنسی عمل میں سے گزرتے ،بچے پیدا کرتے اور عّلت و معلول سے قطعی بے خبر ہوتے ہیں۔اسی طرح انسانوں میں مرد کے کردار کو زیادہ اہم نہیں سمجھا جاتا تھا، تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تروبریاں نامی جزیرے کے رہنے والوں کے لیے حمل کوئی جنسی معاملہ نہیں تھا بلکہ ان کے خیال میں عورت کے اندر بھوُت داخل ہو جاتا ہے، عموماََ بھُوت اُس وقت عورت کے اندر داخل ہو جاتی ہے جب وہ نہا رہی ہوتی، لڑکی کہتی ہے کہ ” ایک مچھلی نے مجھے کاٹ لیا ہے” کب؟ میلنیوسکی نامی شخص یہ سوال پوچھتا، اس بچے کا باپ کون تھا؟آگے سے ایک ہی جواب ملتا باپ نہیں تھا کیونکہ لڑکی غیر شادی شُدہ تھی، میلنیوسکی نامی شخص لکھتے ہے کی میں نے مزید آسان لفظوں میں پوچھا کی جسمانی باپ کون تھا؟ لیکن میرے سوال کو پھر بھی نہ سمجھا جاتا اور آگے سے ایک ہی جواب ملتا ، ” ایک بھُوت نے اُسے یہ بچہ دیا ہے” ماضی میں ایسے قوم بھی دُنیا کے تاریخ میں ہو گزرے ہے جو اس طرح کے عجیب و غریب عقیدہ رکھتے تھے اور یہ پُختہ عقیدہ تھا کہ عورت میں بھُوت جلدی داخل ہوتا ہے جس کے مردوں کے ساتھ زیادہ تعلقات ہوں، حمل کے خلاف حفاظتی اقدامات کے طور پر یہ لڑکیاں زیادہ بڑی لہر والے پانی میں نہانے سے اجتناب کرتی جبکہ مردوں کے ساتھ تعلقات سے گریز نہ کرتیں۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جو فیاضی کے پریشان کُن نتیجے میں بڑی سہولت ثابت ہوئی ہوگی۔ غیر مہذب معاشرے میں باپ بچوں کے درمیان تعلق اتنا کم ہوتا تھا کہ زیادہ تر قبلیوں میں میاں بیوی الگ رہتے تھے، آسٹریلیا، افریقہ، آسام اور برما میں الیولوُں، اسکیموز اور سیموئیدوں اور زمین پر آج بھی اِدھر اُدھر دُنیا کے نقشے پر ایسے قوم اور قبیلے مل جاتی ہے جن میں بظاہر خاندانی زندگی نہیں ہے، مرد عورتوں سے الگ رہتے ہیں اور کبھی کبھی اُن کے پاس جاتے ہیںیہاں تک کہ کھانا بھی الگ الگ کھایا جاتا ہے۔
خاندان کی سادہ ترین شکل عورت اور اُس کے بچے تھے جو جرگے میں اپنی ماں یا بھائی کے ساتھ رہتی تھی، اس قسم کا نظام جانوروں کے خاندان کا فطری نتیجہ اور غیر متمدن انسان کی حیاتیاتی جہالت تھی۔ ایک او ر متبادل ابتدائی شکل ” مادر مقامی شادی” تھی، اس قسم کی شادی میں خاوند اپنا جرگہ چھوڈ کر اپنی بیوی کے جرگے اور خاندان میں رہنا شروع کر دیتا اور اُس کے ساتھ اُس کے والدین کی خدمت کے لیے محنت مزدوری کرتا، ان معاملات میں شجرہ نسب عورت کی طرف سے بنتا اور وراثت بھی ماں کے زریعے منتقل ہوتی، یہ مادری حق “مدرسری حکومت” نہیں تھا، کیونکہ اس کا مطلب مرد پر عورت کی حکومت نہیں تھا، یہاں تک کہ جب عورت کے زریعے جائیداد مُنتقل کی جاتی اُس وقت بھی اُس کے اختیارات کم تھے، اُسے رشتہ داری تلاش کرنے کے زرائع کے طور پر استعمال کیا جاتا جو قدیم لوگوں کی غفلت یا آزادی کی وجہ سے،بصورتِ دیگر بے نام و نشان ہوتی تھی۔
یہ سچ ہے کہ معاشرے کے کسی بھی نظام میں عورت گھر میں اس کی اہمیت کھانا تقسیم کرنے اور مرد کی ضرورت۔۔۔۔جس سے وہ انکار کی قوت بھی رکھتی ہے۔۔۔کے سبب خاص اختیار ہے، یہ بھی سچ ہے کہ بعض اوقات جنوبی افریقہ کے کچھ قبلیوں میں عورتیں حکمران رہی ہیں۔ پیّکو کے جزیرے میں قبیلے کا سردار اُس قبیلے کی بزرگ عورتوں کے مشورے کے بغیر کوئی بھی بڑا کام نہیں کرتا تھا۔ ایروقیوم میں قبائلی مشاورت میں بیویوں کے بولنے اور رائے دینے کے حق مساوی تھے، جس طرح آج کے دور میں پاکستان سمت دُنیا کے اکثز ممالک میں عورتوں کو حق حاصل ہوا ہے،سنیکا انڈینز میں عورتوں کے پاس بہت اختیارات ہوتے تھے یہاں تک کہ وہ قبیلے کی سردار بھی ہوسکتی تھیں۔ لیکن ایسے معاملات بہت کم تھے، مجموعی طور پر ابتدائی معاشروں میں عورت کی حثیت غلامی کے قریب قریب تھی، اس کی نوبتی مجبوری، بچے کی تولید، پیدائش اور پرورش میں اس کی حیاتیاتی قوت کا استعمال وغیرہ نے جنس کی اس لڑائی میں اُسے لاچار کر دیا اور سب سے ادنی اور عظیم معاشروں میں اُس کی حثیت کمتررہی، ناہی تمدُن کی ترقی کے ساتھ اُس کی حثیت میں کوئی اضافہ ہوا بلکہ پیریکلز کے زمانے میں ان کی حثیت شمالی امریکی انڈینز کی عورتوں کے مقابلے میں گھٹ گئی، یہ مقام اُس کی علمی اہمیت کے مطابق گھٹتا اور بڑھتا رہا جبکہ انسانوں کی تہذیب اور اخلاق میں ترقی و تنزل سے اس میں کوئی خاص فرق نہ پڑتا تھا۔
ابتدائی معاشرے میں معاشی ترقی زیادہ تر مرد کی بجائے عورت کی بدولت تھی، صدیوں تک مرد شکار اور غلہ بانی کے قدیم طریقوں سے چمٹا رہا جبکہ عورت نے اپنے پڑاؤ کے قریب اور اردگرد میں زراعت اور ایسے فنون کو فروغ دیا جو موجودہ دور کی اہم صنعتیں بن گئے۔ سُوت کا پودا جسے اہل یونان اُون سے لدا درخت کہتے تھے، شروع کے زمانے میں عورتیں اُس سے دھاگا بناتیں اور سُوت کا کپڑا تیار کرتیں۔ یہ عورت ہی تھی جس نے کپڑے بُننا، ٹوکری سازی، برتن سازی، مکڑی کا کام اور عمارت کی تعمیر شروع کی، بہت سارے معاملات میں عورت ہی نے ابتدائی تجارت کو رواج دیا۔ عورت نے گھر کی تزئین اور اپنے پالتو جانوروں کی فہرست میں مرد کو بھی شامل کر لیا اور اُسے سماجی رجحانات اور خوش اطواری کی تربیت دی جو تہذیب کی نفسیاتی بُنیاد ہیں۔ آج اگر عورت معمولی سی غلطی سرزد کر دیتی ہے تو شور مچائے بغیر سکون کا سانس بھی نہیں لے سکتے، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ عورت ہی تھی جس نے مردوں کو زندگی کا سلیقہ سکھائی،یہ میں نہیں کہتا بلکہ تاریخ مجھے بتا رہا ہیں۔لیکن جیسے جیسے زراعت میں پیچیدگیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں اور اس سے زیادہ فائدہ ہونے لگا ویسے ویسے مرد نے اسے زیادہ سے زیادہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔اس کے ساتھ معاشی رہنمائی جو ایک مدت تک عورتوں کے پاس تھی وہ آہستہ آہستہ مردوں کے دائرہِ اختیار میں آگئی۔ مویشیوں اور زمینی پیداوار کے ملکیتی انتقال کی افزائش کے باعث عورت کی جنسی ما تحتی کا دوسرا دور شروع ہوا کیونکہ مرد اب عورت سے اُس وفاداری کا مُتقاضی تھا جس کے زریعے وہ جائیداد اپنے بچوں کو منتقل کر سکے۔ بتدریج مرد نے اپنا اختیار منوالیا، باپ کے اختیار کو تسلیم کر لیا گیا اور جائیداد مرد کے زریعے منتقل ہونے لگی۔ ماں کے حق نے باپ کے حق کے سامنے ہھتیار ڈال دی، یہ بھی عورت کی تاریخ میں سب سے بڑی قربانی تسلیم کیا جاتا ہے ،اس طرح پدرسری خاندان جس میں سب سے بزرگ مرد سربراہ ہوتا،اور معاشرے کا معاشی قانونی، سیاسی اور ااخلاقی یونٹ انسانی تاریخ میں جنم لیا۔
آج کے معاشرے، جسے میں اور آپ مہذب معاشرے کے نام سے پکارتے ہے حقیقی معنوں میں ابھی تک مہذب بننے کے لیے وقت اور توانائی کی ضرورت ہے، مزید آج کے اس انسانی ذہن کو تراشنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے مہذب معاشرے کا یہ دعوی حقیقت میں بدل جائے، جہاں عورت کو ہر اُس مقام پر عزت کی جگہ مل جائے، جیسا اُس کو ملنے کا حق ہے۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!