تازہ ترین

چترال : نوجوان ایکسایز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر خالد بن ولی کو ہزاروں اشکبار آنکھوں کے سامنے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپر د خاک کیا گیا۔ وہ گزشتہ روز اسلام آباد موٹر وے پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

چترال : پھسو ٹائمز اردو : گل حماد فاروقی

چترال کے نوجوان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر اور سابق سول جج خالد بن ولی جو گزشتہ روز اسلام آباد موٹر وے پر ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے ان کو ہزاروں اشکبار آنکھوں کے سامنے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
خالد بن ولی گزشتہ روز اسلام آباد موٹر وے پر ایک ٹریفک حادثے میں اس وقت جاں بحق ہوا تھا جب وہ سرکاری کام سے اسلام آباد جارہا تھا۔ ان کی جسد خاکی کو رات ڈھائی بجے چترال پہنچائی گئی اور پولو گراؤنڈ میں ان کی نماز جنازہ آہوں اور سسکیوں میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور نہایت رقت آمیز مناظر دیکھے گئے ۔ تاہم قاری جمال عبدالناصر نے عوام کو صبر اور تسلی دیکر اس صدمے کو برداشت کرنے کی تلقین کی۔
خالد کا نماز جنازہ مولانا شیر عزیز نے ادا کی بعد میں اس کی جسد خاکی کو ایمبولنس میں ان کے گھر پہنچایا اور گھر کے اندر قبرستان میں اپنی والدہ کی دامن میں خالد کو بھی دفنایا گیا جہاں اس کی والدہ کی قبر پہلے سے موجود تھی۔ خالد کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا اس کے قبر پر قومی پرچم لہرایا گیا اور دیر لیویز کے چابک دستہ جوانوں نے ان کو سلامی پیش کی۔ اس موقع پر ایکسائز اینڈ ٹیکسین کے ڈائیریکٹر فواد عالم، ای ٹی او بابر اور نوید بھی موجود تھے۔ دیر کے اسسٹنٹ کمشنر عثمان زاہد نے بھی جنازہ اور دفنانے کے سرکاری رسم میں شرکت کی۔ اس کے دفنانے کے وقت نہایت رقت آمیز مناظر تھے ہر آنکھ اشک با ر اور ہر دل غم سے نڈھال تھا۔
خالد بن ولی پہلے ETO بھرتی ہوئے تھے اس کے بعد وہ سول جج ہوئے مگر اسے چھوڑ کر ایک بار پھر وہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں بطور ETO تعینات ہوئے۔ وہ سینر وکیل عبد الولی خان عابد کے بڑے بیٹھے تھے۔ اس کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور دو سال کی بیٹی رہ گئی۔خالد کے المناک موت پر پورے چترال کی فضاء نہایت سوگوار رہی اور رشتہ داروں کے علاوہ ان کے یار دوست اور عام لوگ بھی اس کی اچانک موت پر نہایت غمگین تھے۔ بعد میں ان کی روح کی ایصال ثواب کیلئے اجتماعی دعا بھی مانگی گئی مگر جب پشاور سے آئے ہوئے اس کے دوست اور محکمے کے ساتھی اس کے والد سے رحصت لیکر جارہے تھے اس وقت وہ زارو قطار روپڑے اور ان کے تمام دوست بھی روئے۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!