تازہ ترین

چلاس : گزشتہ دو روز پہلے برفباری کی وجہ سے بہسل اور گھٹیداس لولوسر میں پھنسے 13 مزدور اور تین فمیلیز کے تقریباں 20 آفراد کو تاحال ریسکیو نہیں کیا جاسکا،برف میں پھنسے لوگوں کی زندگیاں خطرت میں پڑ گئیں ہیں۔

چلاس: پھسو ٹائمز اردو : بیورورپورٹ

چلاس : گزشتہ دو روز پہلے برفباری کی وجہ سے بہسل اور گھٹیداس لولوسر میں پھنسے 13 مزدور اور تین فمیلیز کے تقریباں 20 آفراد کو تاحال ریسکیو نہیں کیا جاسکا،برف میں پھنسے لوگوں کی زندگیاں خطرت میں پڑ گئیں ہیں۔گزشتہ روز کی برفباری کے باعث ھزارہ ڈویژن کا حدود بہسل نالہ میں قمیتی پتھروں کے حصول کیلئے کان کنی کرنے والے 13 مزدور پھنس گئے تھے اور تاحال لاپتہ ہیں،جبکہ دوسری جانب بہسل سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر دیامر کے حدود گھٹیداس لولوسر کے کنارے اپنی مال مویشوں کے ساتھ رہائش پذیر خانہ بدوشوں کی تین فمیلیز کے20 سے زائد آفراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، برف باری کی وجہ سے پھنس چکے ہیں اور گھروں میں محصور زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں،علاقے میں کمونیکیشن کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے برف میں پھنسے آفراد میں سے کسی ایک کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ بھی نہیں ہوسکا ہے ،جس کی وجہ سے برف میں پھنسے لوگوں کے رشتہ دار شدید کرب میں مبتلا ہیں۔اور لواحقین نے چلاس میں ضلعی انتظامیہ کے زمہ داروں سے ملاقات کرکے برف میں پھنسے اپنے رشتہ داروں کے حوالے سے تفصیلات بھی فراہم کیں ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے برف میں پھنسے لوگوں کے پاس نہ کھانا ہے اور نہ پہننے کیلئے مناسب انتظامات ہیں،اور ابھی تک کوئی رابطہ بھی نہیں ہے، ہم پریشان ہیں ۔لواحقین نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ حکام بالا تک ہمارے مطالبہ پہنچاکر برف میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت ریسکیو کیلئے اقدامات کریں، کیوں کہ جس علاقے میں ہمارے لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہاں تقریباں 6 سے 7 فٹ تک برف پڑ چکی ہے ،اگر بروقت ریسکیو نہ کیا گیا تو ہمارے عزیزوں کی جانیں ضائع ہونے کا خطرہ ہے، لہذا فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا جائے، ضلعی انتظامیہ نے برف میں پھنسے لوگوں کے رشتہ داروں کو یقین دہانی کرائی کہ برف میں پھنسے لوگوں کو ہیلی کاپٹر ہی کے ذریعے فوری طور پر ریسکیو کیا جائیگا، پھر انتظامیہ نے لواحقین کو بتایا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے ریسکیو اپریشن ممکن نہیں، موسم ٹھیک ہونے کی صورت میں برف میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کر دیا جائیگا، برف میں پھنسے لوگوں کے رشتہ داروں نے فورس کمانڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک آرمی ہماری مدد کرے اور ہمارے برف میں پھنسے لوگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے موت کے منہ سے بحفاظت نکالیں۔اُدھر تھک ویلی کے رہائشی جو مال مویشی کے ساتھ بالائی علاقوں کمڈوری، گال میں موجود تھے، آچانک برف باری کے بعد وہاں پھنس گئے اور بعد ازاں بڑی مشکل سے کشمیر کے علاقے سرگن اور شاردہ کی طرف نکلنے میں کامیاب ہوئے تاہم اسی دوران ان کی درجنوں مال مویشی چارہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئی ہیں ۔ناران ،بڑوائی اور بٹہ میں برف باری کی وجہ پھنسے سینکڑوں سیاح ایک روز بعد روڈ پر سے برف ہٹائے جانے کے بعد علاقے سے نکل گیئے ہیں، اور اس وقت بٹہ کنڈی سے بابوسر تک شاہراہ بابوسر کاغان بند ہے، جبکہ بٹہ کنڈی سے ناران تک روڈ پر سے برف ہٹاکر عارضی طور پر کھول دیا گیا۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کا کہنہ ہے کہ بہسل میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کیلے ریسکیو آپریشن تیز کیا ہے ۔ دونوں اطراف سے برف ہٹانے کا عمل تیز کیا گیا ہے.این ایچ اے اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار بہسل کے قریب پہنچ گئے ہیں.. صوبائی حکومت پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے تمام وسائل بروے کار لا رہی ہے۔ بہسل میں پهنسے افراد میں سے 8 مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے. حضرت نبی اور اس کے 7 ساتھیوں کو ناران پہنچا دیا گیا ہے۔۔ تمام افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں. کچھ افراد اب بھی مختلف مقامات پر پهنسے ہیں. جو افراد نکالے گئے ہیں ان کا تعلق چلاس کے علاقہ گوہر آباد سے ہے..۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!