تازہ ترین

تنگ تائو قدیم شینا گیت اور کشمیر | ہدایت اللہ اختر | پھسوٹائمز اُردُو

ہدایت اللہ اختر
قدیم زمانے میں گلگت میں شادی بیاہ کا اغاز ایک رسم سے ہوتا تھا جس کو رسم تائو کہتے تھے۔ یہ رسم اب بھی ہے لیکن اب اس میں جدیدیت پنجاب ثقافت عود کر گئی ہے۔قدیم زمانے کی یہ رسم لگ بھگ اسی کی دھائی تک گلگت کے مضافاتی علاقوں میں پائی جاتی تھی لیکن اب ان مضافاتی علاقوں سے بھی اس رسم کا خاتمہ ہو چکا ہے۔کسی بھی علاقے کی تاریخ میں لوک گیت اور علاقائی رسم بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ان لوک گیتوں اور رسموں ہی کی بدولت تاریخ دان تاریخ کا کھوج لگاتے ہیں اور ان ہی سے ایک رائے قائم کی جاتی ہے ۔شینا کا یہ قدیم گیت گلگت پونیال نگر ہنزہ میں شادی کے موقعوں پر اپنی اپنی زبانوں میں گایا جاتا تھا ۔ آپ بھی حیران ہونگے بھائی شینا قدیم گیت اور کشمیر ہمارا تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے کشمیر کے ساتھ پھر کیسے یہ ممکن ہے کہ ہمارے قدیم گیتوں میں کشمیر کا ذکر آجائے۔نہ بابا نہ ایسا مذاق نہ کرنا اپنی طرف سے کوئی کہانی نہ گاڑھنا۔کیا کروں یار آپ کی طرح میں بھی کشمیر سے لا تعلقی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں پر یہ کتابیں اور لوک گیت ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں ۔بات ہو رہی تھی قدیم گیت کی جی یہ قدیم گیت تنگ تائو ہے اور یہ کیا ہے ذرا ملاحظہ کیجئے۔ شادی کا پہلا دن رسم تائو سارے لوگ مخصوص گھر دیسی گوٹ میں جمع دیسی گوٹ کے شوم جو داخلے کی جگہ ہوتی ہے وہاں سازندے ڈومی بیٹھے ہیں خاندان کا بزرگ سفید چادر اپنے سر میں لپیٹے ہاتھ میں توا لئے کھڑا ہے۔ دیسی گوٹ کے چولہے کے پاس ایک بچی چکلہ اور بیلن کے ساتھ چولہے میں آگ روشن کر رہی ہے باقی لوگ بھی تیار بیٹھے ہیں اس رسم کی ادائیگی شروع ہوتی ہے سازندے ساز بجانا شروع کر دیتے ہیں اور خاندان کا بزرگ توے کو اپنے سر کے اوپر اٹھاتا ہے اور ساز کے ساتھ تھرکتا ہے اور اچانک سازندے خاموش ہوتے ہیں وہ گیت گانا شروع کر دیتا ہے ۔تنگ تائو بری گلئے تائو۔تنگ تائو جیٹ تنیہ نے دئم۔تنگ تائو اکی تنَنم۔۔پہلا مصرعہ گانے کے بعد تائو کو چولہے کے قریب لے جاتا ہے اور چولہے کو چھو کر دوبارہ اپنے سر پر اٹھاتا ہے اور اسی اثنا سازندے پھر سے ساز بجانا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بزرگ توے کو اپنے سر کے اوپر اٹھائے ناچنا شروع کر دیتا ہے پھر ساز بند ہو جاتا ہے اور وہ بزرگ پھر گیت کا دوسرا مصرعہ گاتا ہے اور پھر توے کو چولہے کے قریب لے جاتا ہے اور پھر سے اسے اپنے سر پر اٹھاتا ہے اور یہ سلسلہ گیت کے آخری بند تک جاری رہتا ہے اور آخر میں وہ توے کو چولہے پر رکھ دیتا ہے اس کے بعد وہ بچی توے پر تین روٹیاں ڈال لیتی ہے اسی طرح یہ رسم پوری ہوجاتی ہے۔ یہ تھا آنکھوں دیکھا حال جو رسم تائو کی جو شادی کے ہر گھر میں لازماً ادا کی جاتی تھی اور اس کے بغیر شادی کا سوچنا ہی محال تھا۔آپ اب بھی سوچ رہے ہونگے یار یہ بات تو ٹھیک ہے رسم تائو بھی تھا تائو کا گیت بھی تھا اور گیت گایا بھی جاتا تھا یہ بیج میں کشمیر کہاں سے آگیا ۔ جی حضور آپ کا سوال درست وہی تو بتانے لگا ہوں کہ اس گیت کا ایک بند کشمیر سے متعلق ہے۔اب اس گیت کے بند سے پہلے مجھے یہاں کشمیر کے بارے بھی تھوڑا ذکر کرنا ضروری ہوگا کیونکہ اس کا ذکر کئے بغیر اس بند کا تعلق کشمیر سے واضح ہونا ممکن نہیں ۔کشمیر کی تاریخ میں شاہ میر نام کا ایک حکمران گزرا ہے اور ان کا تعلق کشمیر کے اولین حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے غالبا ان کا دور 1339 سے 1342 بتایا جاتا ہے ۔اب شینا کے اس گیت میں اسی شاہ میر کا ذکر ہے جو کشمیر کا حکمران تھا ۔ ذرا شینا قدیم گیت کا بند ملاحظہ کیجئے۔۔تنگ تائو کشیر شا ہ میرائے ۔تنگ تائو جیٹ نہ تننم ۔تنگ تائو اکی ننم تنگ تائو کشیر شاہ میرائے، اب ذرا اس گیت کے پہلا بند جس کا ذکر شروع میں آیا ہے اور دوسرے کا لفظی ترجمہ ملاحظہ کیجئے، پہلے بند میں کہا جا رہا ہے کہ یہ توا بری گل کی ملکیت ہے میں کسی کو بھی اس کو چولہے پر رکھنے نہیں دونگا۔ میں خود اس کو چولہے پر رکھونگا،دوسرے بند میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس توے کا تعلق کشمیر کے شاہ میر حکمران سے ہے اور وہی الفاظ دہرائے جاتے ہین جس کا بیان پہلے بند کے ترجمے میں ہوا ہے یعنی میں کسی کو بھی اس کو چولہے میں رکھنے نہیں دونگا میں خود اس کو چوہلے پر رکھونگا۔۔۔اب آپ کے ذہن میں بات آئی ہوگی کہ قدیم گیت کا تعلق کیسے کشمیر سے بنتا ہے۔ قارئین لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم تو یہی سمجھ رہے تھے کہ ہمارا تعلق کشمیر کے ساتھ 1846 سے ان کے زبردستی قبضے کے بعد سے ہوا لیکن یہاں تو معاملہ بلکل برعکس نظر آرہا ہے ہمارا تعلق تو ہمارے سے مراد گلگت بلتستان کا یہ تعلق تو اسلام پھیلنے سے پہلے سے جُڑا ہوا نظر آتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس قدیم گیت میں کشمیر کا نام خصوصی طور پر اور باقائدہ اس حکمران کا نام لیکر بیان کیا معانی رکھتا ہے۔ میں کوئی تاریخ دان تو ہوں نہیں کہ اس کی تحقیق کرکے ثابت کردوں ۔ اس گیت کے بارے کہا یہ جاتا ہے کہ نہ جانے یہ تائو کی رسم کب سے یہاں چلی آرہی ہے کسی کو نہیں معلوم ممکن ہے کہ اس سے پہلے والے گیتوں میں کشمیر کے اس وقت کے حکمرانوں کا ذکر کیا گیا ہو جو شاہ میر حکمران سے پہلے کشمیر میں حکومت کرتے تھے۔ کیونکہ اس گیت کے ہر بند میں وقت کے حکمران جو علاقے اور لوگوں پر اثر انداز ہوتے تھے ان کا تذکرہ موجود ہے۔۔ واللہ اعلم

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!