تازہ ترین

بچے گھر کے رونق ہوتے ہیں |جاوہد احمد سلطان آبدوی | پھسوٹائمزاُردُو

بچے گھر کے رونق ہوتے ہیں
جب میں دفتر سے تھکاوٹ سے چور گھر آجاتا ہوں اور سلا م کر کے جب گھر میں داخل ہوتا ہوں تو اپنی طوتلی زبان سے وعلیکم شلام کہہ کر جو شخص میرا استقبال کرتا ہے وہ میرا پانچ سالہ پوتا صائم علی ہوتا ہے ، وہ اتنی معصومیت سے میرے ساتھ ہاتھ ملاتا ہے اور اس کے معصوم ہاتھ کو جب میں پیارسے چومتا ہوں تو ایک ذ ہنی سکون ملتاہے اور وہ بھاگم بھاگ مجھ سے پہلے میرے کمرے میں داخل ہو کر میرے پہنچنے سے پہلے کرسی پر براجمان ہو کر موونگ چیر کو گھمانے لگتا ہے اور پھر ساتھ ہی پوری دن کی رویئداد ایک ہی سانس میں سناتا ہے تو مجھے کچھ سمجھ آتا ہے اور کچھ نہیں لیکن یقین جانئے بہت مزہ آتا ہے اور اگر وہ چپ ہو جائے تومیں پھر کیا ہو ا کی تکرار کرتا ہوں ۔ اور جب میں لباس تبدیل کر کے آسان باش ہوتا ہوں تو پھر میں ان سے ان کی دن بھر کی سر گر میوں کے بارے میں پوچھتا ہوں یہان تک کہ کھانا کھانے کا حکم لے کر میری بیوی آجاتی ہے تو کھانے کے لئے جاتے ہیں اور پھر کھانا کھاکر ہی آکر کرسی سنبھال کر بیٹھ جاتاہے اور میں آکر اگر پوچھتا ہو ں کہ کیو ں آئے ہو کوئی کام ہے تو مسکراکر بڑی معصومیت سے کہتا ہے کہ کوئی کام نہیں ایسے ہی آیا ہوں حالانکہ اس کا یہ خیال ہوتاہے کہ میں آتے ہی لیپ ٹاپ کھو ل کر دیدوں اور نٹ آن کر کے دیدوں اور وہ گھنٹہ بھر اپنے پسندیدہ کارٹون دیکھے ، لیکن مسکرا کر پھر بھی کہے گا کوئی کام نہیں ویسے ہی بیٹھا ہوں ، آج بھی ایسا ہی ہوا اور میں آکر لمبا پڑا اور پتہ نہیں چلا کہ آنکھ لگ گئی اور تھوڑی دیر کی قلو لہ کے بعد جب جاگا تو کب کا جا چکا تھا ، میں ہاتھ منہ دو کر تازہ د م ہو کر جب کمرے میں آیا تو دیکھا کہ بیٹھا ہے میں جان بوجھ کر پھر گاو تکیہ کے سہارے لمبا پڑا پھر کسی کام کے بہانے اسے دوسرے کمرے میں بیجا اور پھر اُٹھ کر جاوید چوہدری کا مجمو عہ لے کر کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے لگا ۔ یہ جاوید چوہدری بھی عجیب غریب چیزیں لکھتا ہے کبھی پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ والوں کی حالات زار لکھتا ہے تو کبھی یتیموں اور بے سہاروں کی باتیں ، آ ج بھی جن عنوانات کو میں پڑھ رہا تھا وہ بھی ایسی ہی عنوانات تھیں اور بھوک و افلاس کے ہاتھوں تنگ آنے والو ں کے قصے تھے تو ایک ایسی ہی کہانی کسی جام کے ہاتھوں لٹنے والی ایک معصوم بچی کی تھی جس نے فون کر کے جنرل ضیاء الحق سے درخواست کیا تھا اسی طرح اس چوہدری کی کہانیوں میں کسی ثریہ ، کوئی کوثر اسی طرح کی علم غلم معلوم نہیں کتنے معصوموں پر ظالموں کی ظلم کی داستانیں ہیں اس کے کہانیوں کو میں پڑ ھتا رہا اور اس اثنا میں میرا پوتا آئنہ اُٹھا کر باہر گیا اور واپس آکر میرے پاس دوبارہ بیٹھ گیا اور کبھی میری طرف اور کبھی لیپ ٹاپ کی طرف دیکھتا رہا، کیوں کہ اس کو میرے آنے سے زیادہ لیپ ٹاپ پر کار ٹونوں کو دیکھنے کی خوشی ہوتی ہے۔ وہ کافی دیر تک عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا اور اس دوران مجھے خیال آیا کہ میں نے تو اپنے داد کی شکل بھی نہیں دیکھا لیکن دادی اماں کی پیار اور ان کی یاد جب آتی ہے تو دل سے ایک ہوک اور ایک گرم سانس میرے نھتنوں سے نکلتا ہے، میں فوراََ اُٹھا اور وہ دروازے سے واپس آگیا ، میں نے ایو چارجی آن کیا اور بیگ سے لیپ ٹاپ نکال کر اسے دیا اور دوسرے کمرے میں جاکر مجموعہ جاوید چوہدری میں پھر سے کھو گیا ۔ اسی دوران میری بیوی نے ۱۳ اگست کے بعد جو کہ میری بیماری سے صحت یاب ہونے بعد یہ پہلا دن تھا کہ توے پر پکائی ہوئی دیسی روٹی جس کو بروشاسکی میں برٹ یا چپٹی کے ساتھ چائے لا کر دیا اور پانی کا گلاس بھی تھما دیا اور پانی ٹھنڈا تھا ایک گھونٹ پی کر رکھ دیا اور میری بیوی دوسرے کمرے میں بچوں کو چائے دینے گئی تو واپسی پر ان کے ساتھ میرا چھوٹا پوتا جو کہ ایک سال کا ہے چار پاؤں یعنی ہاتھ اور پاؤں دونوں سے چلتا ہوا اور روتا ہوا اسکے پیچھے پیچھے آرہاتھا اور فریج کی طرف دیکھ کر روتا جاتا تھا اس سے اندازہ ہوا کہ اس کو پیاس لگی ہے میں بیوی سے کہا کہ اس کو پانی پلاؤ وہ بوتل ڈھونڈنے لگی تو میں نے گلاس رکھی ہوئی ٹھنڈے پانی میں گر م پانی ملا کر تھما دیا کہلو یہ پلاو، اور میری بیوی نے اس کو فرش پر بٹھا کر اس کے سامنے بیٹھی پانی پلانے لگی دو تین گھونٹ پی کر پیٹ پر ہاتھ مار کر خوشی کا اظہار کرنے لگا تو اس کی دادی اس کے اداؤں میں کھو گئی اور اس موقع کو غنیمت جان کر معید علی سنان (ننھے پوتے) گلاس کو بھی اس ادا سے مارا کہ اس کی دادی پانی کے گرنے کی وجہ سے پیار سے اسے ڈانٹنے لگی اور ان دونوں کی اس حرکت پر ہنسی چھٹی اور ایسا ہنسا کہ معیدعلی ثنان بھی میرے ساتھ ہنسنے لگا اور اس ہنسی اور پوتے کی اس پیاری ادا نے میری پورے دن کی تھکاوٹ دور کیا لیکن ہمارے ہنسنے کی وجہ سے میری بیوی ہم دونوں کو ڈانٹنے لگی تو اور مزہ آیا اور ہمیں باتیں کرتے ہوے سن کر میری بہو اور میرا سب سے چھوٹا بیٹا بھی آگئے ۔ میرا چھوٹا بیٹا جس کا پورا نام عبدل باقی صاحب قران ہے لیکن ہم انھیں صرف باقی کے نام سے پکارتے ہیں ،جو کہ کم گو ، بلکہ ایک انتہائی خاموش لیکن ذرا سخت طبیعت کا مالک ہے شاید یہ زیادہ لاڈ پیارکی وجہ ہے۔ جب شرافت کا بڑا بیٹا صائم پیدا ہوا تو پہلے دو ماہ تک وہ اس کے نزدیک بھی نہیں جاتا تھاپھر اس کے بعد ایسا پیار کرنے لگا کہ اس کے خلاف ذرہ بھی حرکت پر مجھے بھی ڈانٹتا ہے اور جب دوسرا بھتیجا پیدا ہوا تو کہتا تھا کہ صائم ہی ا چھا ہے لیکن اب معید کو اُٹھائے پھرتا رہتا ہے ان کے کپڑے اور کھلونے اور دوسری اشیا کی ایسا خیال رکھتا ہے کہ ان کی والدہ کو پرواہ ہی نہیں ہوتا ہے اگر ہوا چلے یا بارش ہو تو بڑے بھابی کو ڈ ا نٹے گا کہ ان کے کپڑے گر جائنیگے اُٹھاو اور اس کے جانے سے پہلے ہی خود جا کر سنبھالے گا اور ہر وقت ا نکے ساتھ جتہ رہتا ہے اگر ان کے کپڑے گیلے ہو گئے تو فوراََ اُتروا کر دوسرے شرٹ یا نکر پہنائے گا اگر بچوں کے والدین ڈانٹے تو ان سے سخت نارضگی کا اظہار کرتا ہے ، لیکن اگر بھتیجے اس کی بات نہ مانے گا تو خود بھی ان کو ایک آدھ چپت رسید کرے گا مگر کیا مجال ہے اس کے سامنے ان کو ہم میں سے کوئی ڈانٹے یا پیار سے بھی چپت رسید کرے۔ ناظرین یہا ں یہ لکھنے کا مقصد اپنے پوتوں یا بیٹے کی تعریف نہیں بلکہ یہ مقصد ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں یہ ہر گھر کی ،ہر محلے کی، ہر قصبے کی، ہر شہر کی، ہر ملک کی اور پوری کائنات کی رونق ہیں ان سے یہ دنیا کی رونق قائم ہے اگر حضرت آدم کے بچوں کی طرح ایک دن میں ہی جوان ہوتے تو پھر دنیا کی یہ رونقیں یہ خوبصورتی شاید نہ رہتی ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح بچوں کے لیے سہولتیں ہوتیں ، بچے خوراک کی کمی کا شکار نہ ہوتے ، بچے بغیر علاج کے نہ مرتے، بھوک اور افلاس کی وجہ سے غریب اور جاہل والدین ان معصو موں کو ذبح نہ کرتے، ان کلیوں کو دریا برد نہ کیا کاجاتا ، ان پیارے بچوں پر درندے تیزاب نہ پھینکتے ، کاش ان کے کے لئے بھی ونڈر لینڈ قائم ہوتے، ان کے کھیلنے کے پارک ہوتے ، ہر بچے کی سکول ، کالج ، اور یونورسٹی تک رسائی حاصل ہوتا ، کاش کوئی بچہ کسی درندے کی حوس کا نشانہ نا بنتا ۔ کاش آ ج کوئی بچہ کچھرے سے اُٹھا کر چیز ے کھانے پر مجبور نہ ہوتا ، کاش چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں گندگی سے پلاسٹک اور کاغذ چن کر پیسے کمانے کی بجائے سکول کا بستہ اُٹھائے سکول جاتے، عید کے دنوں میں دوسرے بچوں کو نئے کپڑے پہننے والوں کو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھتے کاش ان غریب بچوں کے و الدین کے پاس بلاول ہاوس کے چوکیدار کے برابر ہی مکان ہوتا ، کاش جاتی امراء کی چند بیگھے پر ایک کمرہ ہی ہوتا کاش بنی گلہ کے کسی کونے میں دو کمروں پر مشتمل چھت ہی میسر آتا ۔ کاش کاش ، دعا کرے کہ عمران خان اپنے علان کے مطابق غریبوں کے لئے کچھ نہ کچھ کر سکے ، امین۔

About Passu Times

One comment

  1. ناظرین معاف کرنا میری لکھائی کوئی خاص نہیں ھوتی لیکن مجھے برداشت کرو اور میر رہنمائی کرو اور اصلاح کرو اور کچھ مشوروں سے بھی نوازیں

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!