تازہ ترین

مُحبت کی درخشان مثال | نثار کریم | پھسوٹائمزاُردُو

نثار کریم

آج کے موضّوع اُن تمام دُوستوں کے نام کرنے کے بعد میں اصل رُوداد کی طرف قلم کی نوک مُوڈ دینا چاہوں گا، جو تلاشِ مُحبت کی راہ پہ گامزن ہے، اور اِس جُستجو میں ہے کہ اُن پہ مُحبت کا راز عیاں ہو اوراُن تمام دُوستوں کے نام بھی، جومُجھ جیسے نابلد اور ناواقف مُسافرکی طرح رازِ مُحبت کی تلاش میں مُحبت کرنا ہی بھول گیا۔
مُحبت کا نام خیالوں میں آتے ہی دل کی دھڑکن اپنی رفتار تیز کرتی ہے،یہ جانے بغیر کی ہو کیا رہا ہیں۔ لفظِ مُحبت سُننے میں نہایت آسان چار حُروف ’’ م ٗ ٗ، ’’ ح ٗ ٗ ،’’ ب ٗ ٗ اور ’’ ت ٗ ٗ سے بنی ایک لفظ ہے مگر درحقیقت بہت پیچیدہ اور نازک ہوتی ہے، جس کو ہر عام وخاص اِنسان اِس کے ماخذوں اور اصل پنہائیوں کے ساتھ سمجھنے سے قاصر ہی نہیں بلکہ ناکام رہا ہے، اور جس کو اِس کی حقیقت سے آشنائی ہوئی ہے وہ دُنیا سے فنا ہواہے، مگر تاریخ میں ایک روشن باب مُرتب کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ تاریخی ابواب کسی سوچھی سمجھی سازش یا ارادوں سے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ باب بن گئی ہے جن پر مُحبت کا راز کھُل گیا ہیں۔
عام طور سے مُحبت ایک وعدہ ہے اور وعدہ کی تکمیل نہایت مُشکل ہوتی ہے، ہم روزمرہ کی زندگی میں کئی چھوٹے بڑے وعدوں میں خود کو پابند کرنے کا عہد کرتے ہے مگر اکثر وعدے وفاء نہیں ہوتی اور ٹوٹ جاتی ہے، اُن وعدوں کی تکمیل ارادی یا غیر ارادی طور سے پایا تکمیل کو نہیں پہنچ پاتی، اِسی طرح مُحبتوں میں وعدوں کی تلافی ہوتی ہے اور مُحبت ٹوٹ کر جُدا ہو جاتی ہے ،دوسری طرف مُحبت اِس لیے بھی ٹوٹتی ہے کیونکہ یہ کوئی ایسی شے نہیں جس کو دیکھ کے نگہداشت کی جائے۔
مُحبت اِنسانی وجود اور زندگی میں سب سے بڑی طاقتور اِحساس کا نام ہے، جو اِنسان کے مشاہدے اور تجربات میں آتی ہے، لیکن اہمیت کی حامل اورحیران کرنے والی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اِنسان اِس اِحساس کو اِاصل معنوں میں محسوس کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے، کوئی جتنا بھی دعو ی کیوں نہ کرئے لیکن اکثر اِنسان اِس کو حاصل کرنے سے قاصر رہا ہے جس کی بُنیادی وجہ کم ضرفی، کم عقلی اور نفس کی حکمرانی ہیں۔ہم مُحبت کی بے آواز اِحساسات کو اپنے اِرد گردکے رشتوں سے وابسطہ کرتے ہے، جن میں اولاد، والدین، یاردوست اور دیگر اہل و عیال شامل ہے، مگر اِن مُحبتوں پر بھی اکثر و بیشتر دوُری، جُدائی اور بے وفائی کی طاقت برتری حاصل کرتی نظر آتی ہے جو یقیناً کربناک اور دردناک ثابت ہوتی ہیں۔
یہ بہت آسان ہے کہ ہم مُحبت کو سمجھنے اور اِس کی گہرائیوں سے آشنائی حاصل کریں، جس کے لیے ضروری ہے کہ ہم لفظِ مُحبت کے معنی کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ مُحبت کیا ہے؟ مُحبت وابستگی کا نام ہے، اعتماد کا نام ہے، بھروصہ کا نام ہے، عزت داری کا نام ہے، خیالداری کا نام ہے اور پتہ نہیں کتنی لاتعداد اِحساسات ہے جسکو مُحبت کے سانچھے میں ڈال کے ایک مکمل اِحساس میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور یہ اِحساس جب اپنی بُنیاد مضبوط اور پُختہ بناتی ہے تو مُحبت نام کا ایک تندرست قُربت جنم پاتا ہے، جو ایک تناور درخت کے مانند اِنسان کی زندگی کو خوشیوں اور مُسرتوں میں بدل دیتی ہے جسکو ہم مُحبت کہتے ہے، اور اگر خُدا نا خواسطہ یہ تناور درخت کسی زُور دار نفرت کی آندھی اور طوفانِ نفس کے زد میں آیا تو بربادی اور وحشت کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہتی۔
دُنیا کی تاریخ میں ایسے بے شمار داستان موجود ہے جن کو آج مُحبت کرنے والا ہر اِنسان ضربُ لمثل میں بیان کرتے ہے، اور ہر اِنسان اُن داستانوں کو اپنے لیے آئینہ بنانے کے خواہاں اور طلبگار نظر آتے ہیں۔اُن داستانوں میں سسّی پنُو، ہیر رانجہ، لیلی مجنون، شیرین فرہاد اور پتہ نہیں کتنے مُحبت کے عظیم داستان تاریخ کے اوّراق میں آج بھی سُنہرے لفظوں میں زندہ ہے، جن پر لوگ تفسیر اور اُن پہ مقالات لکھ چکے ہیں۔
قارئین زرا اُن داستانوں میں سے ایک داستان قلم بند کر کے دیکھتے ہے اِن کی داستان میں کتنی مٹھاس اور کرب کے ملتی جُلتی داستان پنہاں ہیں۔
ہیر رانجہ کاداستانِ مُحبت:
ہیر رانجہ محبت کی تاریخ میں ایک انوکھا داستان ہے جسے آج بھی محبت کے پیروکار رشک کہ نگاہ سے دیکھتے اور یاد کرتے ہے، مگر یہ داستان دو محبت کرنے والے اِنسان کا ایک کرب ناک داستان بھی ثابت ہواہے۔
رانجہ، جس کا اصل نام “دی دُو” تھا اور پیار سے رانجہ کے نام سے مشہور ہواگیا، زندگی میں بہت سارے معملوں میں خوش قسمت رہے مگر بہت سارے معملات میں بدنصیبی اور بد قسمتی نے بھی اِن کو اپنے گھیرے میں ڈال کے رکھا۔ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے باپ کا لاڈ اور پیار سے ہمیشہ سرفراز رہنے کا شرف حاصل ہوتا رہا ، جس سے باقی تین بھائی محروم رہے، مگر بد نصیبی کا پہاڑ اُس وقت رانجہ پہ ٹوٹ پڑا جب والد کا انتقال ہوا، اور یہ وقت تھا کی دوسرے تین بھائی اپنے محرومیوں کا ازالہ رانجہ سے کریں، اس ازالہ کے لیے تینوں بھائی نے مل کر رانجہ کو وراثت میں ملنے والے زمین اور جائیداد سے بے دخل کر دیا، اور چھوٹے بھائی سے اچھا سُلوک کی بجائے ناگفتہ رویہ کے مُرتکب ہوئے، یہی وہ نامُناسب حالاتِ زار تھے جس کی وجہ سے رانجہ نے دُنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی جسکو وہ دیکھ چکا تھا نظروں میں لایا اور اُس کو حاصل کرنا اپنے زندگی کا اولین اور آخری مقصد تعین کر دیا۔ دن رات، لمحہ بہ لمحہ اور ہر وقت اُن کی نظر اِس خوبصورت لڑکی کی طرف مائل رہتا، دُنیا کے تمام رشتوں سے سروکار ختم کرکے اُس پری ذات کے دل میں اپنے لیے محبت پیدا کرنے کی کوشش اور تگ و دوُ میں مگن ہوا، زندگی کایہی ایک ہی مقصد بنا رکھا۔
محبت بھی اگر خُدا کو منظور ہو تو مل جاتی ہے ورنہ نہیں۔ خُدا کا کرناکی ایک دن رانجہ کو وہ دن بھی دیکھنا پڑا کی جسکو اپنا حاصل بنایا تھا اُس کے گھر میں مُلازم بن بیٹھا، رانجہ کو ہیر کے گھر میں ” چرواہا” کی مُلازمت مل گیا، اور مُلازمت بھی ایسا جس میں ہیر بھی اُن کے ساتھ یہ ڈیوٹی کرنے کی پابند تھی، ایسی مُلازمت ہزاروں میں سے ایک کو شاید مل جائے۔
دورانِ ملازمت رانجہ نے ہر اُس اُصول کو بڑی سمجھداری اور باریکی سے اپنایا جس سے کسی کے دل میں محبت پیدا کر دی جاتی ہے، اور اپنے محبت کی قید خانے میں قید کیا جاسکتا ہے ، مگر رانجہ کے تمام فارمولے اور کوششیں نا کام ثابت ہوا ، جس سے کوئی تسلی بخش نتائج برآمد نہیں ہوا۔ لیکن رانجہ اپنے مقصد پہ قائم اور مستحکم رہا اور کرشش جاری رکھا۔
ایک دن دورانِ ملازمت رانجہ ایک پہاڑی کے دامن میں بیٹھ کے بانسُری بجانے لگے، آواز اور وہ بھی بانسُری کی آواز جو میلوں تک سچے محبت کرنے والوں کو سُنائی دیتی اور اِیسی اضطرابی کیفیت طاری کر دیتی ہے کہ اِنسان پھولے سے سماء نہیں سکتا اور محبت کی زبان بن جاتی ہے ، رانجہ کے بانسُری نے ہیر کو قریب کر دیا اور اتنا قریب کی رانجہ سے پیار ہونے لگی، یہ وقت کے بے لگام سُور اور آواز تھی جس نے ہیر کو رانجہ کی محبت میں گرفتار کردی۔
ہیر اب رانجہ کی محبت میں قید ہوچکی تھی، جس سے نکلنے کا کوئی گنجائش اور سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، دُنیا کے سارے رشتے ناطے ایک طرف اور رانجہ کا پیار ایک طرف اپنی بھاری بھر وزن کے ساتھ۔۔۔دل سے دل مل گیا۔۔۔ دُنیا کی ساری نفرتیں محبت کی آواز بن گئے۔۔۔ درد اور رنجش بھول گئے۔۔۔ رشتے ناطے ختم ہو گئی اور جو چیز اب زندہ تھی وہ وہیر کو رانجہ سے اور رانجہ کو ہیر سے عشق اور محبت تھی۔
عشق اور محبت کا یہ سلسلہ کئی سالوں تک پہاڑوں کے دامن اور وادیوں کے سرسبزیوں کے بیچ دو انسانوں کے درمیان دُنیا سے اور دُنیا کے نظروں سے پوشیدہ اپنی دُنیا میں محبتیں بکھرتے اور سمھٹتے رہے، اور اُس دن تک بے خوف و خطر ایک دوسرے کے وجود پہ حکمرانی کرتے رہے ، جس بدبخت دن ہیر کے چچا نے اُن کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور رانجہ کو ملازمت سے دستبرار کر کے جلاوطن کر دیا گیا۔
رانجہ کی ہیر سے جُدائی ہوئی، جُدائی کے اِس صدمہ سے دوچار رانجہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں درپدر پھیرتے رہے، زندگی سے سخت نالاں اور ملال ہوئے، ہیر کی جُدائی نے ایک بار پھر دُنیا سے نفرت پیدا کر دی، مگر اُسے دوبارہ حاصل کرنا مجبوری بن گیا اور اُسے پانے کی مجبوری نے رانجہ کو تختِ ہز ارہ پہ بیٹھادیا، شاید اِس میں بھی ہیر کی عشق اور محبت شامل ہو جس نے رانجہ کو بادشاہ بنا دیا،اور یہ خبر شعلہِ آگ کی طرح پورے سلطنت اور آس پاس کی آبادی کے ساتھ ساتھ ہیر اور اُس کے والدین تک بھی پہنچ گئی،یہ خبر غالباً ہیر کے گھر والوں کے لیے جونکا دینے والی خبر ہوگی، کہ وہ شخص جو اُن کے پاس بحثیتِ چرواہا ملازمت کرتے ہوئے اُن کے صاحبزادی سے محبت کر بیٹھے تھے آج تختِ ہزارہ پہ بادشاہت کر رہا ہے، غالباً پشیمان ہونگے۔
تختِ ہزارہ پہ بیٹھنے کے بعد رانجہ نے ہیر کے لیے با ضابطہ رشتہ بھیجا جسے ہیر کے والدین نے تسلیم کر دیا اور باضابطہ شادی کروا دیا گیا، رانجہ کو دُوبارہ اُس کی محبت مل گیا ، خوشی میں مست دونوں عشق و محبت کے دیوانے اِس امر سے ناواقف ہے کہ اگلے چند لمحوں میں کیا ہونے والا ہے، دوسری طرف درپردہ ہیر کے چچا شادی میں پیش ہونے والی ہیر کے لیے مخصوص کھانے میں زہر ملائے انتظار میں ہے کہ بانجی کی ڈولی کے بجائے میت اُٹھایا جائے گا۔
ہیر کے سامنے کھانہ رکھ دیا گیا اور کھانہ کھانے کے بعد اُن کی طبعیت خراب ہو گئی، اِس سے پہلے کی رانجہ اُس کی تشخیص کرنے کسی طبیب کے پاس پہنچاتا ہیر ہمیشہ کے لیے رانجہ کو لاحاصل ہو گئی تھی۔ ہیر آخرت کے سفر پہ راونہ ہی ہوگئی ہوگی جب رانجہ پہ یہ راز فاش ہو گیا کہ ہیر کو جو کھانا پیش کی گئی تھی، اُس میں زہر کی ملاوٹ تھی، اب رانجہ کے لیے دُنیا میں رہنا کسی قیامت سے کم محسوس نہیں ہوا، اور اُسی کھانہ کو کھانے کے لیے ترجی دیا جس نے ہیر کو اُس کے لیے اِس دُنیا میں لاحاصل بنایا تھا اور ہمیشہ کے لیے ہیر سے آخروی زندگی میں محبت کا قیمت جُکانے اور نبھانے کے لیے فنا ہو گیا۔اُن کے آخری آرام گاہ ہیر کے شہر جنگ پنجاب میں آج بھی محبت کی تاریخ سُناتی ہوئی مخفوظ ہیں۔
اس کہانی میں درد ضرور ہے مگر سیکھنے کے لیے بہت راز پوشیدہ ہے جسے ہمیں پرکھنے کی ضرورت ہیں۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!