تازہ ترین

فحاشی پھیلا دو ۔۔۔؟ | ایمان شاہ | پھسوٹائمزاُردُو

تحریر : ایمان شاہ 
وسیم سلطان نے انڈونیشیاء کے شہر جکارتہ میں ہونے والے 18ویں ایشئین گیمز میں پاکستان فٹ بال ٹیم کی نمائندگی کی ، جمعے کی صبح پی آئی اے کی فلائیٹ سے گلگت ائیر پورٹ پہنچے تو اپنے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں پر نظر پڑی جو استقبال کیلئے موجود تھے ، وسیم سلطان پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کی نمائندگی بین الاقوامی سطح پر کرکے واپس آئے تھے اس لئے وہ پر امید تھے کہ شایان شان استقبال ہوگا ، شایان شان استقبال تو دور کی بات گلگت بلتستان سپورٹس بورڈ کے کسی بھی سطح کے عہدیدار نے ائیر پورٹ پہنچ کراور رسمی طور پر ایک ہار پہنا کر میڈیا کو تصویر جاری کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ، وسیم سلطان کے ساتھ میری ملاقات اتفاقیہ تھی ، میں اپنے کسی کام سے مقامی ہوٹل پہنچا تو وسیم سلطان اور عزیز و اقارب مختصر سی تقریب کے انعقاد کے بعد واپس جا رہے تھے ، پی ٹی آئی کے مقامی راہنما راجہ میر نواز اور دیگر دوستوں نے تعارف کرایا جسکے بعد مختصر سی گفتگو کے بعد وسیم سلطان کا قافلہ روانہ ہو گیا ، قومی فٹ بال ٹیم کی نمائندگی کے بعد واپس پہنچنے والے اس نوجوان کھلاڑی کی جانب سے اٹھائے گئے چند سوالات پر غور کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر مقامی سطح کے کسی ٹورنامنٹ میں شرکت کے بعد کسی خاتون کھلاڑی یا کھلاڑیوں کی آمد ہوتی تو گلگت بلتستان سپورٹس بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار رات بھر میک اپ کی تیاری کر لیتے ، آمد سے کئی گھنٹے قبل ائیر پورٹ پہنچ جاتے ، پھولوں کے گلدستے پیش کئے جاتے ، فوٹو سیشن کیلئے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کیلئے بھاگ دوڑ شروع ہوجاتی ، چہرے پر مسکراہٹ سجائے خواتین کھلاڑیوں کیساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتیں ، کسی مہنگے ہوٹل میں ناشتے کا اہتمام ہوتا جہاں سپورٹس سرگرمیوں پر کم اور رومانس پر مبنی گفتگو زیادہ ہوتی ، جی بی سپورٹس بورڈ کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے کہ گلگت بلتستان کا نام روشن کرتے ہوئے قومی و بین الاقوامی سپورٹس ایونٹس میں نمائندگی کرنے والوں کی کس طرح حوصلہ افزائی کرنی ہے؟جی بی سپورٹس بورڈ سمیت صوبائی وزارت سپورٹس میں موجود بعض کالی بھیڑوں کو ٹیلنٹ کی تلاش میں بھی کسی بھی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں ، دلچسپی صرف اور صرف یہی ہے کہ دور دراز علاقوں میں جاکر سادہ لوح خواتین کو بہلا پھسلا کر کھیلوں کے نام پر پاکستان کے دیگر علاقوں تک لے کر جانا اور گلگت بلتستان کی بدنامی کا باعث بننے والی تصاویر کو سوشل میڈیا کے ذریعے مشتہر کرتے ہوئے اپنی اور علاقے کی عزت ، ناموس اور غیرت کو داغدار کرنا ہے ، میرے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ سپورٹس سرگرمیوں کو فروغ دینے کے نام پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے ، میں زیادہ تفصیلات دینے سے گریزاں ہوں تاہم ایک مخصوص کمیونٹی کی اکثریت والے اضلاع کے عوام ، نوجوانوں ، بزرگوں ، مذہبی اداروں سے وابستہ علماء کرام سے اپیل کرونگا کہ وہ خواتین کی ٹیمیں تشکیل دینے کیلئے آنے والے جی بی سپورٹس بورڈ کے کے نمائندوں یا اس بورڈ سے وابستہ مختلف کلبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس غلیظ دھندے کو فروغ دینے والوں کوخواتین کی ٹیم منتخب کرنے کا پیغام لیکر آمد پر ایسا سبق سکھائیں کہ وہ آئندہ خواتین کے سپورٹس کے نام پر کی جانے والی غلیظ حرکتوں سے باز آجائیں ، وسیم سلطان سمیت تمام مرد کھلاڑیوں سے میں یہی گزارش کرونگا کہ وہ اپنا سفر جاری رکھیں جبکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے گزارش کرونگا ( اگر میرا یہ کالم انکی نظروں سے گزرا تو ) کہ وہ جی بی سپورٹس بورڈ میں پائی جانے والی سنگین بے ضابطگیوں بالخصوص غیر اخلاقی سرگرمیوں کا فوری طور پر نوٹس لیں اور سوشل میڈیا پر بیہودہ تصاویر جاری کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کیلئے ہدایات جاری کریں بصورت دیگر خواتین کو سپورٹس میں آگے لانے کی دوڑ کی آڑ میں جاری سرگرمیوں سے نہ صرف علاقے کی بدنامی ہوگی بلکہ وسیم سلطان جیسے مرد کھلاڑی بھی توجہ نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجائینگے ۔۔۔۔۔۔
میرا اگلا موضوع بھی اسی سے ہی ملتا جلتا ہے ، بعض سرکاری اداروں میں عارضی ملازمت کے نام پر ( تنخواہ 6ہزار سے بھی کم ) خواتین کو جھانسہ دیتے ہوئے اپنی حوس کا نشانہ بنانے والا گروہ بھی سرگرم ہے ، چند ماہ قبل مجھے ایک ویڈیو کلپ موصول ہو گئی جس میں گریڈ 19کے ایک آفیسر کے ساتھ دو خواتین رقص کرتی نظر آرہی ہیں ، میں اس آفیسر کو ذاتی طور پر جانتا ہوں ، روئے کائنات میں پائی جانے والی ہر قسم کی گندگی کا مجموعہ ہے ، کرپشن کے ذریعے بنائی گئی بے تحاشا دولت اور اس دولت کا استعمال ہر قسم کی حرام کاریوں پر کرتے رہنا اس درندہ نما آفیسر کا محبوب مشغلہ ہے ، اس ویڈیو کلپ میں نظر آنے والی لڑکیاں اس آفیسر کے پاس عارضی ملازمت کے نام پر نہ صرف اپنی عزت خراب کررہی ہیں بلکہ اپنے سادہ لوح والدین کی عزت کو بھی خاک میں ملانے کا باعث بنتی ہیں ، ایسی خواتین کے سادہ لوح والدین ( اکثر سادہ لوح ہوتے ہیں ) کو اس بات کا قطعی طور پر علم ہی نہیں ہوتا کہ معاشرے میں انسانوں کے روپ میں درندے بھی موجود ہیں اور اپنی حوس کی بھوک مٹانے کیلئے شکار کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ، میں ایسے تمام والدین سے گزارش کرونگا جنکی بچیاں ملازمت کے نام پر گھر سے باہر رہتی ہیں کے بارے میں ضرور تحقیق کریں کہ وہ کن اداروں میں ملازمت کررہی ہیں اور کس قدر محفوظ ہیں ، اسی طرح کی صورتحال مقامی ، قومی اور بین الاقوامی این جی اوز میں بھی پائی ہے ، تربیتی پروگرامز ، ورکشاپس ، سیمینارز سمیت ثقافت کے نام پر برپاء کی جانے والی سرگرمیوں کی آڑ میں خواتین کا استحصال ہو رہا ہے ، کسی بہت بڑے دانشور کا کہنا ہے کہ ’’ کسی بھی قوم کو بغیر جنگ کے تباہ و برباد کرنا مقصود ہو یاشکست سے دوچار کرنا ہو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو ‘‘ گلگت بلتستان کے چند اضلاع میں اسی ایجنڈے( نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو) کو آگے بڑھانے کیلئے کھیل ، ثقافت ، این جی اوز ،فلاحی اداروں اور بعض سرکاری اداروں میں براجمان کالی بھیڑیں سرگرم عمل ہیں ، علماء کرام ، میڈیا ، اچھے کردار کے حامل سیاستدانوں اور مذہبی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حساس معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر چند علاقوں یا گھروں میں لگی آگ کے اثرات سے پورا جی بی متاثر ہوگا ۔

About Passu Times

One comment

  1. Its such a shameful, gender biased and violent article that I am wondering if the admin of Passu Times is this blind to screen it before publishing. The issue starts from a boy who was not recieved well . Only one paragraph covers his issue and the rest goes on to lament our female sports participants. Its a shame that the notion of so called honour still prevails in the area. I demand Pasau times to ask the writer to jot down names of those sports girls chosen from remote areas and were recieved by filthy mindsets. Also quote all those romantic discussions. Otherwise this article will be placed before the federal Ombudsman for women to probe it. Its character assisination of each sports girl includong our female sports heroes. Looking forward.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!