تازہ ترین

تخریب کار اور محافظ | نثار کریم | پھسوٹائمزاُردُو

نثار کریم

پہاڑوں کا بیٹا مرد مومن محافظ وطن عارف حسین شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لیے تم نے اے راہِ حق کے شہید ، وفا کی تصویر تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں ہمیں اپنی پولیس پہ فخر ہے گلگت بلتستان کی پولیس کم وسائل کے باوجود جذبہ حب الوطنی اور جذبہ ایمانی سے سرشار ہونے کی وجہ سے ہر مشکل اور آفت سے آہنی ہاتھ لڑی ہیں۔ اپ کی جرات ، دلیری، اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سلام پیش کرتے ہیں !!! دہشت گردوں نے دیامیر میں گرلز سکولوں کو نظر اتش کرنے کی جتنی مزمت کرے کم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دہشت گردوں نے اس بزدلانہ عمل کی روایتی طور پر فاخرانہ انداز میں زمداری قبول کیوں نہیں کی ہے ??جب کہ تانگیر کے سیاسی ، سماجی اور تمام شہری اس دہشت گردی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اس سوال سے کئی اور سوال پیدا ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے بین الاقوامی دہشت گردوں کا نیٹ ورک کا ہاتھ ہونا قیاس تو کرسکتے ہے مگر حقائق کو سامنے لانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ اس لئےہر پرامن شہری سے میری گزارش ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ۔ہم اپنا محلہ ، گاوٴں اور علاقے میں لوگوں کو بہتر طور پہ جانتے ہیں کہ کون کیا ہے ۔ انتظامیہ کی مدد کرے اور اپنے اپ کو اور انے والی نسل کو ان درندوں سے محفوظ کرے ۔ اپ بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اپ اس دھرتی کے مالک ہے یہ اپ کا گھر ہے گھر کو اجڑنے سے بچا لے۔ روزانہ کی بنیاد پہ اپ پوری دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ اپ کے مسائل کیا ہے کون معاشرے کے لئے ابتدائی کنسر ہے اور کون اخری اسٹیج کا کنسر ہے یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ہر شہری کے پاس موبائل کا وسلہ موجود ہے جس کے زریعے اپنے معاشراتی مشاہدات کو منظر عام پہ لاسکتے ہیں۔ اور ہمیں متحدہونے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت کے ابوجہل اور اسلام کے دشمن مسلمان کا لبادہ اوڈھے کہیں ہم میں ہی ہے ۔ پہچانو ان کو اس سےقبل کہ وہ پورے گلشن کو اجاڑ دے دوسری طرف ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی حکومت اور انتظامیہ سے سوال کرے کہ کیا اپ نے شیڈول فور کا صحیح استعمال کیا ہے ?? اگر اپ نے پرامن شہری جو سیاسی ، سماجی اور انسانی حقوق کے سفیر ہیں ان کو شیڈول فور میں ڈالنے کی بجائے ان شدت پسند عناصر کو شیڈول فور میں ڈال دیا ہوتا تو اج یہ نوبت نہیں اتی اور دیامیر کے بارہ سکول دہشت گردی کے نظر نہیں ہوتے اور اقوام عالم کی انگلی پھر سے ہمارے پیارے ملک کی طرف نہیں اٹھتا۔ اور دھرتی کے محافظ شہید عارف حسین کی قیمتی جان نہیں جاتی۔ خدا راہ اب بھی وقت ہے قانون کو اپنی پسند اور ناپسند کے بنیاد پہ لاگو نہ کرے بلکہ جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے استعمال کرے ۔ قانون کا غلط استعمال سے قوموں کا شیرازہ بکھر جاتا ہے کسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے قانون کا غلط استعمال ائٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے اس کی کوئی زوردار دھماکے کی اواز نہیں ہوتی ہے مگر دیرے دیرے پورے معاشرے کو منہدم کرتا ہے ہر شہری قانون کے عمرانی معاہدے کی وجہ سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کے رہتے ہے کیونکہ اس قانونی معاہدے کی وجہ سے تحفظ کا احساس ہوتا ہے اور معاشرہ قائم رہتا ہے ۔ جس معاشرے میں قانون کی جتنی زیادہ اور منصفانہ بالادستی ہو وہ اتنے ہی خوشحال ، ترقی یافتہ اور مہذب ہوتے ہیں۔ اگر ہم خوشحال اور ترقی یافتہ نہیں ہے تو اس کا مطلب قانون کی بالادستی نہیں ہے۔ ایک اور بات یاد رکھنا چاہئے کہ قانون نافذ کرنے والے بدقسمتی سے اپنی راے اور مرضی کو قانون سمجھتے ہے اس لئے ان کی بالادستی تو ہے مگر قانون کی نہیں ہے ۔ ناانصافی کس قدر معاشرے کے لئے خطرناک ہے اس کا اندازہ حضرات علی کے اس قول سے لگا سکتے ہے حضرت علی کا فرمان ہے کہ کوئی بھی معاشرہ کفر پہ قائم تو رہ سکتا ہے مگر ناانصافی پہ نہیں ۔ اس لئے ایک بار پھر درخواست ہے کہ قانون کو حق اور سچ کا گلہ گھونٹنے کے لئے استعمال نہ کرے بلکہ جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کو روکنے کے لئے استعمال کرکے ہرشہری کی حفاظت کو یقینی بنادیجے۔ اور قوم کا ہر فرد اپ کا شانہ بشانہ کھڑا رہے گا ۔ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ان کا کسی قومیت سے واسطہ ہے ۔ انسان نما درندے ہیں۔ یہ وقت ہے گلگت بلتستان کے علمائے دین متفقہ طور پہ خاص کر علمائے دیامیر لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں فتویٰ دے تاکہ اگر کوئی اسلام کے نام پہ بین الاقوامی دہشت گرد گرہوں سے متاثر ہوکے اندھا ہوگیا ہے تو اس کو نظر ائے گا کہ اصل علمائے دین کس قدر خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!