تازہ ترین

ہم نے سال گراں کی سیر کی  | جاوید احمد سلطان آبدوی | پھسوٹائمزاُردُو

اگر چہ یہ ایک تفریحی مقام ہے لیکن اگر کسی گلگت بلتستانی سے اس تفریحی مقام کے بارے میں پوچھا جائے تو شاید وہ ہنس کر ٹال دے ۔ چونکہ راولپنڈی کے تنگ گلیوں اور گندے پر نالوں سے تنگ آئے ہوے لوگوں کے لئے یہ کانٹے دار جھاڑیوں سے ہرابھرا جگہ ایک بہترین سیر گاہ ہے چونکہ یہاں ایک نالہ بھی ہے جو کہ بارش کے دنوں میں مری کے پہاڑوں سے آتا ہوا پانی سے خوب بھرتا ہوگا لیکن اس وقت ایک چھوٹی سی ندی جوکہ گرم اور گدلا سا پانی بہتا ہے ان لوگوں کے لئے ایک عجیب نعمت غیر متروقبہ معلوم ہوتا ہوگا ، چونکہ بہت سے لوگ جن میں بوڑھے، جوان، بچے مرد و زن اس نالے کے کنارے ڈھیرے ڈال کر اس ندی کے پانی میں اتر کر کوئی لیٹا تھا کوئی سر پار پانی ڈال رہا تھا، بعض نوجوان اور نوجوانیاں ایک دوسرے کے اوپر پانی پھینک کر لطف اندوزہو رہے تھے۔ ان لوگوں نے جو کسی ندی کو کھبی نہیں دیکھا ہے جس کی تعریف علامہ اقبال نہ کچھ یوں کیا ہے۔
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی ۔ کوثر تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
آئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی وئی ۔ سنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراق دلنشیں کے ساز کو
اے مسافر ! دل سمجھتا ہے تری آواز کو
لیکن یہ الفاظ علامہ نے نالہ اسومبر کے دونوں اطراف میں بہنے والی اسومبروغ کو کہا ہے یا کہ قرقلتی سے بہتی ہوئی دودھ کی ندی چھیر گلوغ کو کہا ہے یا پھر پھنڈر کی خوبصور ت وادی کو چھو کر بہنے والی غر زوغ کو شاید علامہ اقبال نے کہا تھا یاکشمیر میں بہتا ہوا نیلم کو۔ معلوم نہیں داریل اور تنگیر کی صاف اور شفاف ندیوں کو کہا ہو یا استور سے آتی ہوئی ابشاروں سے بھرا ،ندیوں ،کو یا دیواسئی سے سدپارہ میں گرتا دل کو لباتا ہوا پارا پارا کرتا ہوا سد پار جھیل کی ندی کو، شاید رکاپوشی کے یخ بستہ برف سے کھنکھناتے ندی کو یا بلتورو، سلتورو ، بیافو، اور پھسو جھیل سے نکلتا ندی کو۔ لیکن شہر کی مکینوں کے لئے یہ پانی بھی نعمت غیر متروقبہ سے شاید کم نہیں ہے، اس لئے ہم بھی یہاں پکنک منانے آئے تھے۔یقین جانو کہ اس جگہ سے تو جوٹیال کے نالے کا سب سے نیچے والا حصہ جو کہ نٹکو ورکشاپ اور ایم پی چک پوسٹ سے نیچے بہتا ہے ، ایک بہترین پکنک سپاٹ ہے ، البتہ سیلانیوں کی ہجوم اور سرسبز و شاداپ اور خا ردار جاڑیوں نے اس جگے کو رونق ضرور بخشا تھا اور طرح طرح کے لوگ تھے اور جوانیاں اور نوجوانیاں تھیں جو اٹھکیلیاں بھرتی اس گرم ندی کے پانی میں مچھلی بنتی تھیں اور بس اس گندی سی ندی کے پانی میں اتر کر مزے لے رہے تھے۔
جمعہ کے روز میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہفتے کے روز پکنک پر جایا جائے گا، اور پھر واٹس ایپ پر یہ میسج موصول ہوا کہ سال گراں کی سیر

کیاجائے گا ۔سب نے مثبت جواب دیا اور سب بے قرار کی سال گراں کس قسم کا سیلانی جگہ ہوگا کیا رونقیں ہوں گی نہ جانے میری طرح سب ہی نے سہانے خواب دیکھے ہونگے۔ ہفتے کے روز میں نے نارمل لباس پہنا اور لیپ ٹاپ بھی گھر پر رکھ چھوڑا کہ چلو ایک دن کے لئے ہی صحیح کچھ سکون مل جائے اس لہروں سے چلنے والی مشین سے اور ایک چھوٹے سے بیگ میں موبائل اور ایک دو ضرورت کی اشیاء رکھ لیا اور نکل گیا جب نو بجے دفتر پہنچ گیا تو ایک دو بندے ٓائے ہوے تھے۔ انتظار کی گھڑیاں لمبی کے تحت انتظار کیا یہاں تک کی گیارا بجے تک کچھ لوگ جمع ہو گئے اور بار بار کی مسجیز اور کال کے بعد بارہ بجے جب دفتر سے نکل کر روڈ پر آگئے تو ہمارے تین دوست بھی آگئے جن کی انتظار نے ہم سب کو بھور کیا تھا ۔ پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہیں شاید جو وقت کی قدر کرے اور یہی جہ ہے کہ ہم ستر سال آزادی کے گذارنے کے باوجود اپنا وقت بھی صحیح طور استعمال نہیں کر سکے،اور ترقی کی راہ میں تو بنگالی بھی ہم سے آگے ہیں، بہر حال یہ فیصلہ کیا گیا کہ کون کون کس کس گاڑی میں بیٹھے گا اور پھر میں اور تین اور دوست وقاص نور کی گاڑی میں، سوار ہو کر روانہ ہوے۔ شکر ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری انتظامیہ نے پہلے ہی کیا تھا ۔
جب ہم اسلام آباد سے نکل کر بارہ کوہ کے رش بھری مارکیٹ سے گذر کر ابھی چند قدم ہی گئے تھے کہ ایک پیلا رنگ کا ہلمٹ جو کہ عام طور پر کنسٹرکشن کمپنیوں کے لوگ پہنتے ہیں ہمارے گاڑی کے سامنے گر گیا لاکھ کوشش کے باو جو د وقاص نور نے گاڑی اس ہلمٹ پر چڑھانے سے نہ بچا سکے اور خر خر خر کی آواز کے ساتھ گاڑی کو ایک طرف کھڑی کر کے اتر گئے شکر ہے کہ اس مقام پر رش کم ھو گیا تھا اور ہلمٹ نکالنے کی تگ ودود ہونے لگی مشکل سے موٹر سائکل والے کو نظر آگیا جس کے سر سے گر گیا تھا اور جگ کی مدد سے کار کو اوپر اٹھا کر ہلمٹ کو باہر نکالا گیا اور موٹر سائکل والے نے انتہائی ادب کے ساتھ معزرت کیا اور سب کا شکریہ ادا کر کے چلاگیا اور ہم نے بھی شکر کیا اور روانہ ہو ے۔
چھتر پارک سے دس منٹ کے فاصلے پر دو پل ہیں ایک پرانہ اور دوسرا نیا ، وقاص نے بریک لگایا اور نبیل نے کال ملاکر موبائل وقاص کو دیا اور دو ایک جملوں کے بعد ھوں ہاں کر کے فون بند کیا گاڑی کو تھوڑا سا ریورس کیا اور پرانے پل کے ساتھ بائیں جانب گاڑی ایک گیٹ سے اندا داخل کیا تو ایک چونگی والے نے صدائے چونگی بلند کیا اور ساتھ ہی ۵ بندوں کا ۱۵۰ روپے وصول کیا اور ہم نے گاڑی پارکنگ ایریا میں کھڑی کر کے اتر گئے اور اللہ اکا نام لے کر اپنے ساتھیوں کی قیادت میں اس نالے میں اتر گئے میں گھبرا ہی گیا تھا کہ شاید اس پانی کے کنارے ہی ڈھیرے لگائے نہ جائیں ، بہر حال ندی کو ان ابھرے ہوے پتھروں پر قدم رکھتے ہوے پار کیا جن کو بروشاسکی میں چیر کناشو ، کھوار میں اشٹو رارم، کہتے ہیں چھلانگ لگا لگا کر پار کیا اور دوسری طرف دس گز کی اونچائی پر ایک چھوٹے سے پلاٹو پر ہما را قافلہ اتر گیا اور پھر کھانے کا بندبست شروع ہوا، میں نے او ر سلیم نے لکڑیا جمع کیا مبین اور مہتاب نے چولھا بنایا اور آگ جلایا اور میڈم افشاں آرزو نے ایک بہترین قسم کا چکن کڑاھی بنایا اور سلیم اور مبین نے ان کی مدد کی ، مس منزہ وقاص نے حسن یاشیر کی مدد سے چاول پکائے ، ہر ایک نے نہایت خوش گوار طریقے سے اپنے حصے کا کام کیاکسی نے چاول صاف کیا تو کسی نے آلو تیا ر کیا کسی نے پیاز کاٹے اور کسی نے ٹماٹر میں نے

لکڑی جمع کیا فوٹو گرافی کیا ، اور شرکا کے ویڈیو بنائے ، اور ہاں ہم نے ہنسنے کے لئے مسٹر عامر رحمان کو ساتھ لایا تھا وہ بھی ہنس ہنس کر اپنا حصہ ڈالتا رھا ۔ ہمارے سارے ساتھی نہایت کواپریٹیو اور ملنسار قسم کے تھے نہایت خوشگوار طریقے سے وقت گذارا ۔ میں ایک بجے کھانے کا عادی ہوں لیکن تین بج گئے تھے تو مہتاب نے ایک بسکٹ دیا تو میڈم افشاں کو بھی خیال آیا اور کہا کہ مجھے آپ کی فکر ہے کیونکہ کھانہ ابھی کچھ اور وقت لے گا ، بہر حال چار بجے دستر خوان سج گیا اور ٹھنڈا پانی آگیا پھر کیا تھا بہترین قسم کا کھانہ ہم سب نے خوب دبا کر کھایا ، پھر ہمارے ساتھیوں نے بھی ندی کے پانی میں ڈوبنے کی ٹھانی تو میں نے سامان کی رکھوالی کی ذمہ د اری سنبھالی اور پھر کیا تھا، اللہ کی امان ہمارے ساتھی حسن یاشر نے مراثی کی جگہ سنبھالی اور ایک دیکچا اور بانس کی ڈنڈی کی مدد سے وہ سماع باند دیا کی ندی میں ڈوبے ہوے اور کنارے بسنے والوں سب نے اپنی مصروفیت چھوڑ کر ہمارے ٹیم کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتی تھی اور ڈھول کی تھاپ میں ایک دوسرے کے اوپر پانی کی برسات شروع ھو گیا جس کی ما بدولت نے ویڈیو بنایا اور دور ہی سے ان تمام کو اس (ہورسل یا پرلوغ جیسی) گدلے اور گرم پانی میں مزے لیتے ہوے دیکھ کر مزے لیتا رہا ، البتہ ایک دو دفعہ میں نے بھی اس پانی سے ہا تھ دھویا تھا لیکن وہ الگ بات ہے کہ دوبارہ پکنک سپاٹ میں آکر میں نے اقوہ کی پانی سے ہاتھوں کو دھو کر نمازی کیا تھا۔ آخر کار پانج بجے کے بعد تھک ہار کر حسن کے گانے اور دیکچے کی تھاپ پر میرے ساتھی واپس آگئے اور پھر حسن نے دیکچا صاف کر کے مس افشاں کو سونگھایا کہ اس سے چکن کی خوشبو تو نہیں آرہی جب انھوں سے سب اچھا کا سرٹیفکیٹ جاری کیا تو میں اور حسن نے اجازت لی اور واپس دفتر کی طرف چل پڑے اور اسلام آباد میں رہنے والی ایک بچی بھی ہمارے ساتھ آگئی ، حسن نے مجھے دفتر کے سامنے اُتارا اور سدرہ کو جی ۔ ۷ میں ڈراپ کر کے فیصل آباد جانے کے لئے چلا گیا میں نے اپنا موٹر سائکل لے کر گھر آگیا تو سارے بچے استقبال کے لئے کھڑے تھے ۔ ہر ایک نے میرا موبا ئل لیا اور فوٹو دیکھا اور خوش ھو گئے ، ۔ جا نشھی نے گو نشھی نے بلکششی پانو اور ہم نے ایک بہترین دن گزارا

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!