تازہ ترین

محبت کا ہی غم تنہا نہیں ہے!!! | ذوالفقار علی کھرمنگی | پھسوٹائمزاُردُو

ذوالفقار علی کھرمنگی

اس دنیا کے ستاٸے ہوٸے لوگوں میں ہمارا شمار کیا جاٸے تو عجب نہ ہو گا۔ہم بھی ان بدنصیبوں میں شامل ہے جنہیں کٸی غم ساتھ ساتھ ملک الموت کی طرح روح قبض کرنے کے لٸیے تیار رہتے ہیں۔ویسے کہنے کو تو کالم نگار اور سماجی رہنما ہوں۔زرا رک رک کر پڑھنا ان دونوں نامی گرامی القابات خود ساختہ ہے کہیں آپ کی مسکراہٹ ہنسی میں بدل نہ جاٸے اور آپ کے ارگرد سوٸے ہوٸے لوگ شور کی آواز سن کر سہم نہ جاٸے۔بچوں والے حضرات ذیادہ محتاط رہے کیونکہ بچے دل کے معصوم ہوتے ہیں وہ چھوٹی سی آہٹ سن کر سہم جایا کرتے ہیں۔میری باتیں سن کر آپ کی قہقہوں کی آواز کا گرجنا یقینی ہو جاٸے نگے۔دراصل میں غم دنیا کی بات کر رہا تھا تو استعارہ اس لٸیے دینا ضروری ہو گیا تھا کہ ہم خوش فہمی کا شکار رہ کر اپنے آپ کو بڑا لکھاری سمجھ بیٹھے تھے۔خیر ہم کالم نگاری کے میدان کا گرو ہو یا نہ ہو سماجی رہنما کے روپ میں سماج کی بھلاٸی کے لٸیے اقدامات کیے ہو یا نہ ہو۔یقین جانیے ایک خوبی ہے میرے پاس وہ یہ کہ میں معاشرے بھر کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہوں۔باقی الگ بات ہے معاشرتی مساٸل کے حل کے لٸیے کتنا استعداد رکھتا ہے۔لوگ کہتے ہے انسان کو محبت کا غم بہت رنجور کرتا ہے میرا تو مانا ہے کہ انسان کو دنیا میں محبت کے غم کے علاوہ بھی اور سارے غم درپیش ہوتا ہے۔شاید یہی درد مجھ سمیت اور لوگ بھی ادراک رکھتے ہونگے۔وہ کونسی درد ہے جن کا ادراک ہر ذی انسان رکھتا ہوں تو میرا جواب سماج کا درد ہو گا۔ہو سکتا ہے آپ کا جواب بھی مجھ سے متفق کرتا ہوں یا ہو سکتا ہے کہ آپ کا شعور میرے مخالفت میں چلے جاٸے۔میرے نزدیک میری لیلا وہ جملہ مساٸل ہے جو سماج کے لوگوں کو درپیش ہے اور میں چاہتا ہوں کی اپنی محبوب کی آبیاری کروں اور اس کی اس طرح تزٸین و آراٸیش کروں کہ میرے محبوب چاند کی مانند چمک اٹھے۔بات کو استعارے سے نکالنے کی کوشش میں  ہوں کیونکہ مزید اور استعارہ استعمال میں لانے سے راقم قاصر ہے۔کیونکہ کم علمی اور خودساختہ کالم نگاری اتنا بڑا مشکل کام ہے جتنا سمندر کو کوزے میں بند کرانے کے مترادف ہو۔لمبی چوڑی دو تین سطری لفظوں کا مجموعہ طلب معافی کے لٸیے تھا کیونکہ راقم نے کالم کا پورا ماحول لا معنی بنا دیا ہے۔ایک دفعہ پھر معذرت خواہ ہوں میری کالم کس ڈگر جا رہی ہے سچ پوچھے تو خود کو بھی معلوم نہیں ہے۔بات غم دنیا اور غم سماج کی ہورہی ہے تو کیوں نہ آج ہم سب ایک حقیقت کو مان لے کہ سماج میں جو بھی مساٸل ہے ان سے ہم سب متاثر ہے اور ہماری چاہ ہوتی ہے کہ ان مساٸل کا کوٸی ٹھوس حل ہو لیکن ہماری کمزریاں ہمیں اس جانب جانے سے روک دیتی ہے۔میں اگر غلط نہ ہوں تو معاشرتی ادارے کی تشکیل ہی انہی مساٸل کا ادراک ہونے کے بنا پر وجود میں آچکی ہے۔اگر ہمیں معاشرتی مساٸل کے متعلق تشویش نہ ہوتا تو مختلف قسم کے سماجی ادارے جو مختلف نوعیت کے سماجی مساٸل کے بیخ کنی کے لٸیے وجود میں لا چکے ہیں۔آج ہمارے معاشرے کا حصہ نہ ہوتے ۔بات صرف سوچنے اور عمل کرنے کی  ہے کہ ہمارے سماجی مساٸل کی نوعیت کیا ہے اور اس میں ہمارا کیا کردار ہو سکتا ہے۔بحثیت انسان ہم ایک دوسرے سے درد کے رشتے سے جڑے ہوٸے ہیں اگر یہ درد کا احساس نہیں ہوتا تو انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ شاید مل پاتا۔معاشرے کے لٸیے درد پیدا کردیجے تو یقین جانیے آپ تمام دکھ درد بھول جاٸے نگے۔آپ کا درد اس وقت تک کم نہیں ہونگے جب تک  ایک دوسرے کے ساتھ دکھ اور درد کا تبادلہ نہیں کیا جاتاہے۔جس طرح آپ کی خوشی میں دوسروں کو شامل کرنے سے آپ کی خوشی دوبالا ہو جاتا ہے اسی طرح دوسروں کےغم باٹنے سے بھی سکون اور خوشی کا احساس پیدا ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں اس غم کو ہی غم سمجھتے ہیں جو خود کی ذات سے وابسطہ ہو۔لیکن ہم توکہتے ہے کہ ہمیں اے محبت تیرا غم تنہا نہیں بلکہ ہمارے غم میں شریک سماج اور ہم سماج کے غموں کا ساتھی ہے۔اسی لٸیے تجھے بتا دوں میں عرب کی وہ مجنوں نہیں ہوں جو لیلا کی غم میں خود سے بے گانہ رہا ہو نہ ہی میں وہ فرہاد ہوں جو شیریں کے لٸیے بے فاٸدہ دودھ کی نہیریں بناو بلکہ ہمارا پیر  عبدالستار ایدھی جیسے لوگ ہے جو مرتے ہوٸے اپنے زبان سے یہ کہہ رہا تھا کہ میرے بات میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!