تازہ ترین

کس نام سے پکاریں | یوسف علی ناشاد | پھسوٹائمزاُردُو

 اور اپنے پرائے میں تمیز رکھتا ہے نیز اپنے انفرادی ،اجتماعی نفع نقصان کا ادراک بھی اسی عقل کی مدد سے رکھتا ہے اور اس کے دو اہم ترین محور ہیں جن کا بیدار ہونا لازمی ہے بصورت دیگر انسان اور حیوان میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے ان میں سے ایک کا نام حس جبکہ دوسرے کا نام غیرت ہے ان دونوں میں سے حس کا مقام بہت افضل ہے حس بیدار ہو تو غیرت آہی جاتی ہے اگر حس کام کرنا چھوڑ دے تو انسان سے آدمی بن جاتا ہے اور چلتی پھرتی لاش جیسی حیثیت کے علاوہ اسکی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی ہے وہ اپنے اشراف ہونے کی وقعت کھودیتا ہے دوستوں آپ نے دیکھا ہوگا کہ گھروں میں بڑے اپنے معصوم بچوں کو کچھ کھانے کے لیے دے دیتے ہیں پھر ان سے کہا جاتا ہے کہ تھوڑٖا بھائی کو بھی دے دیں تھوڑا اماں کو بھی کھلادیں غور کیا جائے تو اس کے اندر بڑا فلسفہ ہے انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے سیکھایا جاتا ہے کہ دوسروں کا خیال کس طرح رکھا جاتا ہے اسی طرح مختلف طریقوں سے دوسرون کا خیال رکھنے اور اپنا حق لینے کے طریقے اور تربیت دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ والدین کی گود سے ہی سیکھا جاتا ہے مثال کے طور پر ایک قسم کے دو کھلونے یا کھانے کی کوئی چیز اپنے دو بچوں کو دے دیتے ہیں اگر کوئی ایک بچہ دوسرے کی چیز چھینتا ہے تو بچہ روتے ہوئے والدین سے شکایت کرتا ہے تو والدین اس بچے کو ڈانٹتے یا سمجھاتے ہیں کہ یہ چیر تمہیں بھی دی گئی ہے پھر کیوں دوسرے کی چیز یا حق چھینا اور ایسا کرنا جائز نہیں اس کے یہ نقصانات ہیں جب کہ اس جس بچے کا حصہ چھن گیا تھا اس سے کہا جاتا ہے کہ آئندہ اپنا حصہ بالکل نہیں دینا اس فلسفے میں بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے کا حق مارنا اچھی بات اچھی عادت نہیں المختصر بچوں کو اپنے حصے سے دوسروں کو بھی کھلانا اور دوسروں کی حق تلفی سے گریز کرنا اور اپنا حق لینا بھی سیکھادیا ہے کہ نہیں یہ بڑا فلسفہ اسی طرح گھر میں مہمان آئے تو ان کا استقبال اور خدمت کرنا جب مہمان جانے لگیں تو انہیں اچھے انداز سے رخصت کرنا یعنی زندگی کے تمام طور طریقے انسان گھر سے ہی سیکھ کر معاشرے میں نکلتا ہے اور پھر معاشرتی طرز زندگی میں معاشرتی ڈھپ یعنی گر سمجھنے لگتا ہے یوں سمجھ لیں کہ انسان انفرادیت سے اجتماعیت میں داخل ہوکر ایک قوم کا فرد بنتا ہے پھر اپنے مشترکہ قومی مفاد اور نقصان کا ادراک رکھتا ہے جب اسکا شعور پروان چڑھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو انٹرنیشنل شہری تصور کرتا ہے وہ اس لیے کہ جب انسان کی جانکاری جتنی وسیع ہوگی اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے اور وہ اپنی بساط کے مطابق اس دنیا میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے لگتا ہے یعنی بقول شکسپئر اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرکے پھر وہ اس دنیا سے غائب ہوجاتا ہے اور روحانی دنیا میں رزلٹ کا انتظار کررہا ہوتا ہے جس دن نتیجہ نکلنا ہے اس دن کوروزقیامت کہتے ہیں دانشوروں کا کہنا ہے کہ جو کوئی انسانیاقوم اپنے ذاتی معاملات میں مفادات کے حصول میں کسی سے پیچھے نہ ہوں اپنا نفع نقصان باریک بینی سے پرکھتے ہوں مگر اپنے مشترکہ قومی مفادات کے حصول میں سوچ فکراورجدوجہد سے عاری ہوں تو ایسے لوگ یا ایسی قوم دنیا کی نکمی قوم نکمے اور بے حس لوگوں میں شامل ہوتے ہیں انہیں کوئی بھی اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کر سکتا ہے اور ایسے لوگ معمولی مفاد کی خاطر اپنے ہی لوگوں سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ قوم کا سودا کرنے میں بھی انہیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی ہے پھر ان کی کوتاہ نظری کے باعث ان کے وسائل ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور اس بے حسی کے عالم میں ایک وقت ایسا بھی آن پڑتا ہے کہ انہیں اپنی بے عزتی کا احساس تک نہیں رہتا ہے البتہ جن سے ان کے ذاتی مفادات کا سلسلہ چل رہا ہے انکی عزت و تکریم انہیں بہت عزیزرہتی ہے اپنی اور اپنے قومی عزت وقارکے بارے میں ان کی سوچ حرف غلط کی مانند ان کے ذہن سے مٹ جاتی ہے اور رسوائی و غلامی ان کا مقدر بنتی ہے ایک وقت وہ ان کے سر پر آ پہنچتا ہے کہ ان کے اپنے وسائل میں انہیں مزدوری بھی بمشکل سے ملتی ہے اس کے بعدان کی معاشرتی،معاشی سیاسی زندگی کا حق بھی ان سے چھن جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اپنی سرزمین میں ہی یہ اجنبیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں دانشوروں نے موجودہ دور میں یہ فلسطینیوں کی مثال دی ہے دوستو اگر ہم ان حقائق کو جو فلسطین کے عوام کے بارے میں تجزیہ کیا جاچکا ہے ان عوامل کا گلگت بلتستان کے لوگوں سے موازنہ کریں گے تو ہمیں ذرہ برابر بھی فرق نظر نہیں آتا ہے ہم گلگت بلتستان والوں کو کس نام سے پکاریں کیا ہم ایک بیدار قوم ہیں، کیا ہم کوئی بیہنگم ہجوم ہیں کیا ہم ایک متحد قوم ہیں،کیا ہم منتشر اذہان والے لوگ ہیں کیا ہم اپنی دھرتی کے وفادر ہیں، کیا ہم دوسروں کے نعروں پر گزارہ کرنے والے ہیں، کیا ہمیں اپنے قومی نفع نقصان کا احساس ہے، کیا ہم زندوں میں شمار ہیں یا مردوں میں آخر ہم ہیں کیا؟ وہی سب کچھ ہوچکا اور ہو رہا ہے وہی بے حسی وہی کوتاہ نظری جو فلسطین کے اندر پائی جاتی تھی وہ بدرجہ اتم گلگت بلتستان میں بھی موجود ہے کیا ہماری بقاء ہمارا مستقبل ہمارا وجود ہماری نسلیں خطرے میں نہیں ہیں؟70سال پہلے جو حالت تھی وہ آج بھی ہے بلکہ سترسال قبل بہت سی ایسی چیزیں نہیں تھیں جو ہماری غیرت کا جنازہ نکالے اب اس جدید دور میں ہماری حثیت ایک ٹشو پیپر کی مانند رہ گئی ہے ہماری اپنی پشتنی زمینوں پر ہمارا اختیار نہ رہا ہمارے قدرتی وسائل سے فائدہ کوئی اور اُٹھا رہا ہے معاشی،سیاسی سماجی سطح پر ہم مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں اب تو بولنے سوچنے اور تحریر پر بھی پابندی لگ گئی ہے ایک ملازم پوری قوم کی تذلیل بہ آسانی کرجاتاہے اوراپنے ہی لوگ اسی کا ہی دفاع کرنے میں کوشاں ہیں کیا یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہمیں کسی بھی وقت ناپسندیدگی کی بنیاد پر کسی کو بھی اُٹھا کرغائب کرسکتا ہے ہر طرح کے مقدمات لاگو کرنا ان کا حق ہے جن کا اس دھرتی کی آذادی میں نہ ناخن کٹا ہے نہ مرغی کٹی ہے اب دوسرے لوگ اپ کی زمین کے مالک بن رہے ہیں وہ اس دھرتی کے شہری بن سکتے ہیں وہ یہاں اپنی من مانی کرسکتے ہیں وہ ہماری سر عام تذلیل کرسکتے ہیں اور ہمیں اف کرنے کی بھی اجازت نہیں ہمارا سینہ چیر کر انٹرنیشنل تجارت کرسکتے ہیں ہم سے ہماری رائے لئے بغیر اور ہمارے لئے کوئی خاطر خواہ منفعت ندارد،قربانی بھی ہماری جاری و ساری وسائل بھی ہمارے استعمال اور برے بھی ہم ٹھرے کیا اس سے بڑھ کر کوئی بے حسی کی نظیر ملتی ہے اس دنیا میں کیا ہم کوئی بیدار لوگ ہیں کیا ہمارا شمار زندوں میں ہے یا چلتی پھرتی لاشوں میں کیا ہم نے اپنے وسائل کے حوالے سے ماضی میں کوئی خاطر خواہ جدوجہد کی کیا ہم نے قومی سوچ لیکر چلنے والوں کا ساتھ دیا کیا اہم اپنی دھرتی کے وفادار رہے اگر جواب ہاں میں ہے تو اسکا جواب یہ ہے کہ اگر ہم اپنی قوم اپنی دھرتی ماں کے وفادار ہوتے توآ ج ہماری یہ حالت نہ ہوتی ہم نے سر اُٹھانا سیکھا ہی نہیں بلکہ جن جن کی ہم اب تک بیعت کرتے آئیں ہیں انہوں نے تو فقط بیگانہ شادی میں عبداﷲ دیوانہ کی طرح نعرہ بازی پر لگا دیا کس کس کو اور آخر کب تک آزماتے رہیں گے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کے عوام وفاقی جماعتوں کے چنگل میں رہیں گے کبھی بھی ایک باوقار قوم کی صف میں شامل نہیں ہوسکتے ہیں س مختلف قسم کے آرڈرز ان کے مقدر رہیں گے کیا خوب کہا ہے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین نے کہ ہمیں لگ رہا ہے انہیں مکین کی نہیں زمین کی ضرورت ہے اور یہی حقیقت ہے جب سب کچھ ہتھیایا جائیگا پھر اپنی ہی دھرتی میں اچھوت بن کر رہنا ہوگا گو کہ یہ سلسلہ ابھی شروع ہوچکا ہے اب بھی وقت ہے حوش کے ناخن لو غیرت کا جام پیو اور اپنی نسلوں کی بقاء نسلوں کی مستقبل اور ایک درخشاں روشن مستقبل کے لئے قومی دائرے میں آنا ہمارے لئے اشد ضرورت ہے وقت کا یہی تقاضا ہے کہ پورے گلگت بلتستان سطح پر ایک قومی جماعت بنائی جائے اور سر جوڑ کر اپنے مستقبل کے لئے حکمت عملی کے ساتھ لائحہ عمل طے کیا جائے اور تمام وفاقی جماعتوں کو خیر آباد کہہ کہ اپنی قومی جماعت کو مظبوطی سے آ گے پھیلایا جائے تو اسی میں ہماری غیرت اسی بھی ہماری بقاء اور اسی میں ہماری عزت ہوگی ستر سالہ تجربات اور تلخ حقائق کے باوجود خدا نخواستہ پھر سے سیاسی مداریوں کے چنگل میں پھنس گئے تو جان لیں یاد رکھیں کہیں کے نہیں رہوگے اور آنے والی نسلیں کوستی رہیں گی اس لئے اس موضی بیمار کا علاج پریز اور بروقت اینٹی بائیوٹک دوا سے کرنے کی سخت ضرورت ہے دعا کریں کہ پروردگار عالم ہمیں قومی غیرت اور قومی شعور سے نوازے باہمی تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی بقاء پر ہم سب کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین

About Passu Times

One comment

  1. شکور خان ایڈووکیٹ

    یوسف علی نوشاد صاحب نے خطے کی سیاسی صورتحال پر پرمغز، جامع اور سیر حاصل بحث کی ہے۔ جی۔بی قوم بالخصوص نوجوانوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
    یقینا گلگت بلتستان کی سالمیت آج خطرے سے دوچار ہے

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!