تازہ ترین

ڈیم بناؤ, پاکستان بچاؤ |محمد خان محوری |پھسوٹائمزاُردُو

ڈیم بناؤ ۔۔۔پاکستان بچاؤ تحریر:محمد خان محوری
ڈاکٹر شمس الملک کا شمار کالا باغ ڈیم کے بانیوں میں ہوتا ہے۔شمس الملک ایک سول انجینئر تھا،1994 میں واپڈا کے چئیرمین رہااور تربیلا ڈیم،منگلاڈیم و دیگر ڈیم کے کام سے منسلک رہا اور اپنی پوری زندگی پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے وقف کرتے رہے،شمس الملک کے ملک عزیزپاکستان کیلئے اعلی کارکردگیوں اور خدمات کی وجہ سے حکومت پاکستان سے ہلال امتیاز سے بھی حاصل کر چکا ہے مشرف دور میں خیبر پختو نخوا کے چوبیسواں وزیر اعلی کے طور پر بھی فرائض سر انجام دے چکا ہے۔ پانی کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شمس الملک ہزاروں کے مجمع سے یوں گویا ہوئے کہ اکیسویں صدی میں پوری دنیا میں 46000درمیانی اور بڑے اور درمیانی درجے کے ڈیم بنائے گئے جن میں سے بائیس ہزار ڈیم چائینہ میں،امریکہ میں ساڑھے چھ ہزار ڈیم جبکہ انڈیا نے چار ہزار سے زائد ڈیم بنائے گئے،جبکہ ازلی دشمن بھارت کے مقابلے میں پاکستان نے ستر سالوں میں درمیانی درجے کے کل 68ڈیم بنائے جن میں سے اکثر ڈیم کا نقشہ صرف کاغذات ہی میں ملتی ہے ۔پانی کو جمع رکھنے کے لئے بین الاقوامی جو پیمانہ مقررہے جس کے مطابق پانی کی قلت کو ختم کرنے کیلئے کسی بھی ملک کے دریا کے چالیس فیصد پانی ذخیرہ رکھنا نہایت ضروری ہے ،اس پیمانے کے مطابق پاکستان کو اپنے دریاؤں کے کل پانی کا اٹھاون فیصد پانی ذخیرہ رکھنا تھا لیکن ہمارے سیاستدانوں کی ملک دشمن سیاست اور سیاست دانوں کی انڈیا نواز پالسیوں سے ایک طر ف زیر تعمیرڈیمزپر کام رک گیا ہے تو دوسری طرف وزرات کی کھنچا تانی سے نئے ڈیم نہیں بن رہا ہے اور مناسب ڈیم نہ ہونے سے پاکستان اس وقت کل پانی کا صرف 13فیصد پانی ذخیرہ کر رہا ہے ۔یہ تیرہ فیصد پانی بائیس کروڑ عوام کی ضروریاتوں کو پورا کرنے سے لیکر ،بجلی پیداکرنا ،زراعت کے لئے استعمال کرنا،فیکڑےئز اور انڈسٹیز کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ پرانے ڈیموں کی دیکھ بھال اور نئے ڈیمز تعمیر نہ ہونے سے پاکستان کے مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیاہے ۔ماہرین کے مطابق آنے والے وقتوں میں پاکستان کو پانی کی قلت ،بجلی کی پیداوار میں کمی ،قحط سالی ،خشک سالی،زرخیز زمینوں کا بنجر زمین میں تبدیل ہونے کا خاصا امکان ہے ۔انڈیا نے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا رخ بھارت کے پنجاب اور ہریانہ کی طرف موڑنا شروع کر دیا ہے اور ہمارے پاس موجود دڈیم سیاست کی نظر ہو رہا ہے ۔ڈاکٹر شمس الملک کے مطابق مصر ایک ہزار دن یعنی دو سال سات ماہ پانی جمع رکھ سکتا ہے ،انڈیا دو سو بیس دن یعنی سات ماہ پانی جمع رکھ سکتا ہے ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کے ڈیمزمیں ایک مہینہ سے بھی کم مدت تک پانی کو ذخیرہ رکھنے کی محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہے ۔ماضی کی طرف اگر ہم پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان دنیا کے کسی دوسرے ملک کی نسبت ابھرتا ہوا مظبوط معیشت کے حامل ملک تھا،یوں تو بظاہر ساٹھ کی دہائی میں امرایوب خان 1956کی آئین کو منسوخ کرکے قومی مجرم ٹھہرے لیکن ایوب خان کے دور میں پاکستان نے جو ترقی کی ہے وہ پاکستان کے ستر سالہ دور میں کسی بھی حکومت کی دور حکومت میں نہیں کی۔ایوب خان جمہورت دشمن ضرور تھا لیکن اس کے رگوں میں پاکستا ن سے دوستی،وفاداری اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ سندھ آبی طاس معاہدے کے بعد ایوب خان نے پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام بنایا ،منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر شروع کی اور اہم ترین بیراج بنانا شروع کی جسکی بدولت ہمارے ملک کے کل جی ڈی پی کا 20فیصد حصہ ڈیمز،اور نہری نظام پورا کر رہا ہے ،ان میں جمع شدہ پانی سے کروڑوں ایکڑ زمینیں سیراب ہوتی ہیں اور پاکستان کی آبادی کے کل ساٹھ فیصد لوگوں کو روزکار بھی فراہم کرتا ہے۔امریت دور کی نسبت جمہوریت دور میں ہم ترقی کے میدان میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے یا یوں کہیں کہ جمہوریت نے پاکستان کو تباہ کر دیا۔ہماری سیاست ووٹ اورنوٹ تک رہی اور اسی نوٹ کیلئے سیاستدانوں نے جمہوریت جیسی ادوار میں ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ۔خدا نے پاکستان کو دنیا کے تمام نعمتوں سے نوازا ہے ،چار موسم ،زرخیز زمینیں اور دریائے سندھ و دیگر دریا پاکستان پر خدا کی خاص عنایت ہے ۔ہمیں بحیثیت پاکستانی ان نعمتوں سے استفادہ حاصل کرنے اور خدا اورمخلوقات کی لعنتوں سے خود کو بچانے کے لئے ہر قسم کی اختلافات کو ختم کرکے قومی مفاد کی خاطر ڈیموں کو تعمیر کرنا ہوں گے۔ڈیموں کی تعمیر سے ہی پاکستان بنیادی مسائل سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت کو ختم کرنے کیلئے ملک کے گوشہ وکنار میں زیر تعمیر ڈیمز پرجاری کام میں تیزی لانا ہوگا۔ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں تعمیر ہونے والابونجی ڈیم میں پانی کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت چھ اعشاریہ ایک ملین ایکڑ فٹ ہے اور یہ ڈیم 7100میگاواٹ بجلی پیداکر سکتا ہے ۔دیامر ڈیم 4500میگاواٹ جبکہ داسو ڈیم 5400میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے جبکہ کالا باغ ڈیم سے 3400میگاواٹ بجلی حاصل کر سکتا ہے۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے خیبر پختو نخوا،پنجاب اور سندھ کے زیریں علاقے جن میں بدین،دادو،دگری،چاؤ و دیگر علاقے کی بنجر زمینین قابل کاشت ہونگے اور ان پیداوار سے حاصل ہونی آمدن سے پاکستان بیرونی قرضہ جات ختم کر سکتے ہیں۔ضروری اس امر کی ہے کہ ملکی مفاد سے منسلک اہم اور حساس ایشوز جیسے ڈیمز کی تعمیر،وسائل کی تقسیم وغیرہ کا دارومدارفقط سیاستدانوں پر رکھنے کی بجائے ملک کے اسٹبلشمنٹ اورعوام کو بھی ساتھ میں ملا یا جائے تاکہ پاکستان کے مستقبل کے فیصلے کرنے میں انڈین لابی اور ملک دشمن عناصر کی ذور کمزور ہو اور پاکستان کی مستقبل خطرے سے دوچار نہ ہو۔
تحریر:محمد خان محوری

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!