تازہ ترین

گلگت: پیپلز پارٹی کے پیچھے عوام نہیں بلکہ ان کے وہ مذموم عزائم ہیں جس کے تحت یہ حق فساد کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ شاباش ہو غذر کی عوام پر جنہوں نے ان فسادیوں کو مسترد کیا، مشیر اطلاعات، شمس میر

گلگت : پھسوٹائمزاُردُو : پریس ریلیز

گلگت : مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے پیچھے عوام نہیں بلکہ ان کے وہ مذموم عزائم ہیں جس کے تحت یہ حق فساد کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ شاباش ہو غذر کی عوام پر جنہوں نے ان فسادیوں کو مسترد کیا اور انھیں ان کی اوقات بھی یاد دلادی اور اآئندہ بھی ہر جگہ یہی حشرہونا ہے جہاں یہ خود ہونگے عوام نہیں۔پیپلز پارٹی مکمل طور پر فلاپ ہوچکی ہے جبکہ متحدہ اپوزیشن جو حقیقت میں متحدہ ڈیکوریشن ہے ،کے جلسے میں صرف یہ متحدہ ڈیکوریشن تھی کیونکہ گلگت کی عوام نے انہیں لفٹ ہی نہیں کروائی ۔ مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ امجد ایڈوکیٹ اور اس کا ٹولہ بغض حفیظ میں گلگت بلتستان میں اس تعمیر و ترقی کے دشمن ہیں جو وزیر اعلیٰ نے جاری رکھی ہوئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کے سابق بدنام زمانہ دور سے بیزار عوام کو امن و ترقی دی اور تین سالوں میں گلگت بلتستان میں ناممکنات کو ممکن بنا کر روشن گلگت بلتستان کی بنیاد رکھی ۔ بلتستان کو دو نئے اضلاع، سکردو روڈ اور بلتستان یونیورسٹی دی ،کینسر اور امراض قلب کے ہسپتال بنائے جبکہ ہینزل پاور پراجیکٹ کی بنیاد رکھی، سینکڑوں منصوبوں پر کام جاری ہے، کرپشن کو لگام ڈالی اور میرٹ پر سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ۔ گلگت بلتستان کے نو گو ایریاز، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرکے گلگت بلتسان کے نوجوانوں کو محفوظ مستقبل دیا ۔ آج شاہراہیں محفوظ ہیں، گلگت بلتستا ن میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے، سیاحت ترقی کر رہی ہے اور ہر شعبے میں اصلاح کے پہلو پیدا کئے جار ہے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے آئینی معاملات کو یہاں کے زمینی حقائق کی روشنی میں استوار کیا جا رہا ہے تاکہ یہاں کی عوام کو با اختیار بنایا جائے اور ایک خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جائے۔ شمس میر نے کہا کہ متحدہ ڈیکوریشن اور امجد ایڈوکیٹ آج بھی فوٹو کاپی اور ناکام نظاموں کے گرد گھوم رہے ہیں،یہ وہی نظام چاہتے ہیں جس میں متحدہ ڈیکوریشن اور امجد ایڈوکیٹ با اختیار ہوں عوام نہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت گلگت بلتستا ن کے عوام ایک با اختیار، جدید اور ماڈل نظام کی بات کر رہی ہے جس میں گلگت بلتستان کے عوام کو تمام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اکیسویں صدی میں رہ کر سوچنا ہوگا اور اپنے بچوں کے مستقبل کو عصر حاضر کی چیلنجز کی روشنی میں دیکھنا ہوگا نہ کہ 1947 میں رہ کر فیصلہ کر نا ہے ۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ حق فساد والوں نے 2009 سے 2015 تک گلگت بلتستان کو قتل گاہ بنادیا تھا جہاں ہر روز ماؤں کے بیٹے خون میں نہلاتے تھے۔ کراچی سے لے کر شاہراہ قراقرم اور گلگت تک نوجوانوں کی لاشیں گرتی تھیں سکول ،کالج، ہسپتال ، شاہراہیں اور گاوں تک مذہب کے نام پر تقسیم تھے جبکہ آج قانون کی بالادستی ہے اور ہر ماں کا جوان محفوظ ہے ،گلگت بلتستان محفوظ ہے ،ایسے میں حق فساد کے لیڈر، لینڈ مافیا ، بینک لٹیرے اور سرکاری خزانے لوٹنے والے ٹھیکدار عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں، گلگت بلتستان کے عوام کو ان بد نام زمانہ ، نام نہاد ناکام عناصر کو سمجھنا ہوگا اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا کر انہیں ان کا مکروہ چہرہ دکھانا ہوگا۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!