تازہ ترین

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناکامی | محمدخان محوری | پھسوٹائمزاُردُو

محمدخان محوری

ایک وقت تھاجب دہشتگردی کا نام سنتے تھے تو ذہن میں فورا طالبان ،داعش کا نام آجاتاتھا لیکن اب دہشتگرداور دہشتگردی کانام سنتے ہی طالبان ،داعش وغیرہ کی بجائے امریکہ کا نام آجاتا ہے ،پچھلےسو سالو ں میں امریکہ نے انسانوں کا جتنا قتل عام کیا ہے وہ شاید ہی تاریخ میں کبھی ہوا ہو،دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم گرا کرانسانی ہڈیوں کو پگلا کرہیروشیما اور ناگا ساکی کو انسانی ہڈیوں کا چٹان بنادیایا، یو ایس ایس آر کو روس بنانے کیلئے افغانستان میں داخل ہو کر افغانستان کے اینٹ سے اینٹ بجا دی ، صدام کو استعمال کرتے ہوئے ایران پرآٹھ سالہ جنگ مسلط کر دی گئی ،کیمیائی ہتھیار کو تلف کرنے کے بہانے عراق کوتاراج کر دیا،اپنے بنائے ہوئے انسانی قاتل گروہ داعش کو ختم کرنے کے بہانے عراق اور شام کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا،دفاع اور سیکیورٹی کے بہانے کویت اور عرب ممالک کے قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر پر قابض ہوگئے وغیرہ وغیرہ ۔

آج دنیا میں کسی دہشتگرد گروہ یا دہشتگرد تنظیم کا کوئی وجود ہی نہیں ہے،یہ تو فقط فرضی ہے دنیا میں جتنے دہشتگرد اوردہشتگردی ہے وہ سب اامریکہ ہی کی ایجاد ہے امریکہ طاقت کے نشے میں جارحیت اور طاقت کی زور پر سپر پاور کے گرتی ہوئی سا کھ کو بچانے کی کوشش کر رہاہے،امریکہ اقوام عالم کو اپنا جاگیر اور کالونی سمجھتاہے اور وہ مختلف کالونیوں میں اپنے گرفت کو مظبوط کرنے کیلئے کرائے کی فوج کا سہارا لے رہا ہے جبکہ وقت نے ثابت کیا ہے کہ کرایے کی فوجی کسی قوم و ملت کے مقابلے میں کبھی نہیں ٹھہر سکی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کرایے کی فوج دو وقت کی روٹی کے لئے جنگ لڑتی ہے جبکہ قوم و ملت روٹی کے لئے نہیں بلکہ کسی بھی قیمت پر اپنی بقا چاہتی ہے،ملتیں اس وقت بھی وجود رکھتی تھیں جب فوج اور سپاہی کانام ہی ایجاد نہیں ہوئے تھے،یہ فوج اور پولیس کی اصطلاح اور نام انسانوں کی دریافت ہے،ضرورت کے مطابق اس کو میدان میں لایا گیا، آپ عرب ممالک میں کرائے کی فوج اور قومی سالمیت کے لئے لڑنے والوں کی ہمت دیکھ سکتے ہیں،یمن پورے تین سالوں سے عرب اتحادی افواج کے مسلط کردہ جارحیت کے خلاف روز بروز فتح یاب ہوتاجارہا ہے حالانکہ یمن عرب خطے کا سب سے کمزورملک اور یمن کے خلاف جارحیت کرنے والے تمام عرب ممالک یمن کی نسبت امیر ممالک ہیں،دوسری بات دانشوروں کے مطابق عرب ممالک کویمن کے خلاف امریکہ کی بھی حمایت حاصل ہے ،بحرین میں بحرینی افواج کی جارحیت کے خلاف عوامی تحریک میں جوش و خروش دیکھنے میں آرہا ہے اور اگر شام کی صورت حال کا جائزہ لے لیں تو شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کو داد دیے بغیر کو ئی انسان پسند اور مسلمان پسند شخص نہیں رہ سکتا،شام میں امریکہ کے پالے ہوئے داعش،القاعدہ ،جیش الاسلام ،النصرہ فرنٹ کو امریکہ اور اس کے اتحادی لیڈ کر رہا ہے ،

ہم مسلمان کتنا سادہ لوح ہیں جو امریکہ کے چالوں اور مسلمان مخالف سازشوں کو سمجھنے کے باوجود امریکہ کی جانب ہاتھ بڑھا رہا ہے اور اپنے ہی برادر اسلامی ملک شام ،عراق،بحرین اور یمن کو تہس نہس کر نے سے باز نہیں آرہے ہیں۔آج پوری دنیا میں مسلمانوں کوفرقہ واریت کا مسئلہ بلکل بھی درپیش نہیں ہے جو کچھ ہے وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے دوستی کا نتیجہ ہے،مشرقی وسطی میں دہشتگردی کے خلاف ہو نے والی جنگ اور اسد فوج کی کامیابی تمام مسلمانوں کی کامیابی اور مسلمان دشمنوں کی ناکامی ہے،اسد فوج اور اس کے اتحادیوں کے خلاف پروپیگینڈاعراق کے بعد شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ناکامیوں کو چھپانے سواء کچھ بھی نہیں۔یہ اسد مخالف پروپیگنڈا نہیں تو اور کیا ہے کہ جب شام کے شہر غوطہ میں چھپے ہوئے پندرہ سے بیس ہزار دہشتگردوں کے خلاف شامی فوج اور اس کے اتحادی اپریشن کرتا ہے توانسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار امریکہ ،برطانیہ کی چیخیں نکلتی ہے اور نکی ہیلی ایک طرف اسد اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرتا ہے دوسری طرف مسلمانوں کو اسد فوج کے خلاف اکسانے کے لئے ایڈیٹنگ شدہ تصویر اور وڈیواستعمال کرتا ہے اور تیسری طرف امریکی ڈالر پر پالنے والے ملاَ، جن کے پالے ہوؤں کو اسد اور اس کے اتحادیوں نے شام میں مار مار کے برکس نکالا تھا وہ بشارالا اسد کے سر کے قیمت معین کرتے ہیں،اور جب کہ دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادی شام پر ایک سو بیس سے زائد میزائل داغتے ہیں تواسلامی ملک ترکی اسکی حمایت کرتا ہے ،نام نہاد حقوق انسانی کے علمبردار مسلم و غیر مسلم ممالک کے زبان سے امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں نکلتااور نہ ہی عالم اسلام کا ضمیر جاگتا ہے،عالم اسلام کا ضمیر بشاالااسد اور اس کے اتحادیوں ہی کے خلاف جاگتا ہے معلوم نہیں کیوں؟مشرقی وسطی خاص طور پر شام کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ یہا ں دولت اسلامیہ شام اور عراق میں خلافت کے نام پر اسرائیل کو حفاظت دینا چاہتے تھے شام کی سر زمین کے ذریعے ان کو اسد کے اتحادیوں نے شکست دے دی ،عرب خطے میں دو ہی قوتیں ایسی ہیں جو آج تک اسرائیل کے لئے خطرہ بنا رہا ایک حزب اللہ لبنان اور دوسرہ شامی فوج،یہی وجہ ہے مغربی قوتوں نے اسرائیل کے مستقبل اور اسرائیل کے خلاف عرب ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں کے خطرئے کے پیش نظر داعش ،دولت اسلامیہ فی شام وعراق بنایا تھاتاکہ سادہ مسلمان خلافت کے نام سنتے ہی لشکر بناکراسرائیل اور عرب ممالک میں مغربی ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے پہنچ سکیں،بہرحال خدا کا شکر ہے اور ہم سب مسلمانوں کو خداکے فضل و کرم کا مشکور و ممنون ہو نا چاہے کہ اس نے مغربی قوتوں خاص طور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دن میں تارے دکھانے اور مشرقی وسطی کو مزید ٹکڑا ہونے سے بچانے کے لئے بشاالااسد جیسے مردِ میدان کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھ کر اس کے اتحادیوں کے ذریعے شام کی سرزمین سے ناکام لوٹنے پر مجبور کیا۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ عرب ممالک ،مشرقی وسطی اور مسلمانوں کے دشمن امریکہ ،اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو مار بھگانے کے لئے بشارلااسد اور اس کے اتحادیوں کی ہر لحاظ سے حمایت کریں چاہے وہ حمایت آج کی جدید سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا روکنے اور حقیقت کو سامنے لانے کے لئے ہی کیوں نہ ہوتاکہ مسلمان امریکی سرپرستی میں چلنے والے میڈیا کے پروپیگنڈااس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار سے بچ سکیں۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!