تازہ ترین

تیری شادی پے جنازے نکلے!! | ذوالفقار علی کھرمنگی| پھسوٹائمزاُردُو

زولفقار علی کھرمنگی

یہاں پر لیلا مجنون کی بات ہو رہی ہے نہ فرحات اور شریں کا قصہ سنانے لگا ہوں پر مٹی سے محبت کرنے والے ،مٹی کو سونا بنانے والے عاشقوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں وہ عاشق جس کو معمار قوم کہا جاتا ہے جو اپنے جسم کو گندہ کر کے زمین کو سونا بنا دیتے ہیں۔وہ عاشق جو ملکی تجارت کے لٸیے راستے بنا لیتے ہے وہ عاشق جو صنعت کے لٸیے چھت بنا لیتا ہے۔اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں کی عظیم الشان عمارتیں تعمیر کر کے مستقبل کے معمار بنا لیتے ہے۔ہر ایک کو خوشی دینے والے یہ مہربان خود فاقہ رہتا ہے سنو صاحب یہ مزدور ہے یہ مکان تو بنا لیتا ہے پر کھبی مکان کے مالک نہیں بنتا۔یہ اسکول ،کالج اور یونیورسٹیاں بنا تو لیتا ہے کھبی اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دیتا۔بڑی بڑی سڑکیں اور راستے تو تعمیر کرتے ہے پر مجال کہ راستے پر دوڑانے کے لٸیے گھوڑے ملے۔انسان کوسب سے بڑی تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب ان کو ان کے محنت کا صلہ نہیں ملتا ہے ہمارے ملک میں یہ طبقہ بہت ہی لاچار طبقہ ہے نہ حکومتی سطح پر ان کے دادرسی کی جاتی ہے نہ ہمارے ملک کے عوام اتنے باشعور ہے جو ان کو ان کے جاٸز حقوق دے دے۔بڑی کرب وتکلیف دہ زندگی گزارنے والےاس طبقے کی کوٸی خواہش نہیں ہوتی اگر ہے تو بھی اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر رکھ لیتے ہے ۔ان کے بچے اپنے والدین سے کھبی کوٸی فرماٸیش نہیں کرتے ہیں۔لیکن مزدور اپنے بچوں کے سامنے دل ہی دل میں شرمندہ ہو کر رنج و غم سہہ لیتے ہے۔مزدورں کی بیٹیوں کی شادیاں کیسی ہوتی ہے پوچھے نہ ہی تو اچھا ہے۔ایک مزدور کی بیٹی کی شادی کی تیاری اس بدنصیب کے پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہے ۔باپ پر بوجھ بنے والی یہ بدنصیب بیٹی اپنی شادی کے دن گھر کو ویران کر کے چلی جاتی ہے۔بات دراصل معاشرے کی پہچان کی ہورہی ہے صاحب ۔ہم یہ سوچے بغیر زندگی گزار لیتے ہیں کہ ہماری وجہ سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہے۔ہماری وجہ سے کسی مزدور کی حالت کیا ہوتی ہے۔اپنے اردگرد نظر رکھ لیجے ۔کھانے پہنے میں دکھاوا اچھی بات نہیں ہے۔اپنے قریب کے کسی مزدور سے یا کسی مزدور کے گھر والوں سے پوچھ لینا کہ مجبوری کیا ہوتی ہے۔ان سے پوچھ لینا کہ مجبوری کس بلا کا نام ہے۔ان سے پوچھ لینا کہ ارمانوں کا خون کیسے ہوتا ہے۔ان سے پوچھ لینا ضروریات کیسے پوری ہوتی ہے۔ایک مزدور کی بیٹی کی جب شادی ہوتی ہے تو اس کیا تو ڈھولی اٹھتی ہی پرمزدور کے گھر کا جنازہ نکلتے  ہیں۔اف ہو ہمارے معاشرے پر جس میں ہم ایک دوسرے سے مقابلے کے لٸیے نا جانے کون کونسی نٸے رسم و رواج اپنا لیتے ہے۔شادی کی رونقیں تو بڑھ جاتی ہے پھر اس کے بعد اس غریب کی رونقیں کھبی بحال نہیں ہوتی ہے۔ہماری آپ سے چھوٹا لکھاری ہونے کے باعث چھوٹی سی التجا ہے کہ ڈھولی پے جنازہ نہیں اچھا۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!