تازہ ترین

متاثرین دیامر ڈیم کی ’’آباد کاری ہنوز سوالیہ نشان‘‘ | فیض اللہ فراق | پھسوٹائمزاُردُو

تحریر فیض اللہ فراق
دیامر بھاشہ ڈیم موجودہ توانائی بحران کے دور میں اہم نوعیت کا حامل منصوبہ ہے ملکی صنعت اور بجلی کے اہم منصوبوں کیلئے ملک میں ڈیمز کی تعمیر کو یقینی بنانا ناگزیر ہے پاکستان کی مخالف بین الاقوامی طاقتوں کی خواہش ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ پاکستان میں تعمیر ہونیوالے ڈیمز کیخلاف عالمی و اندرونی محازوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں اس حوالے سے ہندوستان کے عزائم ہیں کہ وہ سرسبز پاکستان میں پانی کے بحران کو پیدا کرتے ہوئے پانی کے ذخائر کو کم کردیں اس سازش کو تقویت دینے کیلئے ہندوستان جہاں عالمی سطح پر دیامر بھاشہ ڈیم جیسے اہم منصوبے پر بین الاقوامی سرمایہ کاری روکنے کیلئے نت نئے حربے آزما رہاہے بلکہ دوسری جانب بھارتی خفیہ ایجنسنی ’’را‘‘ پاکستان کے اندر مختلف قوم پرست جتھوں پر بھی سرمایہ کاری کرکے ڈیمز کی تعمیر کیخلاف لوگوں کو مشتعل کررہا ہے کالا باغ ڈیم کا تنازعہ اس کی کڑی ہے حالانکہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے قوم پرست جماعتوں کے رہنما پاکستان کے آئینی شہری ہیں اس کے برعکس گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کی وجہ سے متنازعہ حیثیت کے حامل علاقہ ہونے کے باوجود یہاں کے باسیوں نے دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر کوملکی ضرورت سمجھتے ہوئے نیک شگون قرار دیا ہے دیامر کی عوام روز اول سے دیامر بھاشہ ڈیم کی بھرپور اور سنجیدگی سے حمایت کرتے ہوئے بھارتی سازش اور ان کے گمراہ کن پروپیگنڈے کی نفی کرتی رہی ہے دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر سے ساڑھے چار ہزار میگاوٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ دنیا کا کنکریٹ ڈیم ہوگا جس سے پانی ذخیر ہونے کیساتھ ساتھ تربیلا ڈیم کی عمر میں اضافے کا سبب بھی بننے گااربوں ڈالرز کی سرمایہ کار سے دیامر بھاشہ ڈیم تعمیر ہوگا ہردور کی حکومتوں نے مذکورہ ڈیم کی تعمیر کا نعرہ لگایا ہے لیکن عملاً کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ہے ماضی میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں اس ڈیم پر کام کرنے کا اعلان تو ہوا مگر حکومت ختم ہونے تک چھ فیصد لینڈ ایکوزیشن بھی ممکن نہ ہوسکی 2015ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے پہلے مرحلے کی لینڈ ایکوزیشن کو کم وقت میں سوفیصد یقینی بنایا اور دیامر بھاشہ ڈیم ملکی ضرور ت ہے جو ہر قیمت پر تعمیر ہوگا لیکن دیامر بھاشہ ڈیم کے متاثرین کی آبادکاری اس وقت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے واپڈا کے حکام آباد کاری میں رکاوٹ دیامر کے مجموعی عوام کو سمجھتے ہیں جبکہ عوام واپڈا اور موجودہ وفاقی وصوبائی حکومت کو اس کا قصور وار تصور کرتی ہے دوسری جانب زمینی حقائق اس سے مختلف ہے عوام کو بڑھتی ہوئی لالچ اور مال کی ہوس نے ان سے اجتماعی سوچ چھین لیا ہے ہرفرد ذاتی اوربروقت عارضی فائدے کے چکر میں شارٹ کٹ کی تلاش میں مستقبل کے سنہرے اور دیرپا فوائد سے منہ چرا رہا ہے دیامر بھاشہ ڈیم کی متاثرین کی آباد کاری کے حوالے سے حکومتی سطح پر ضلع دیامر کے اندر تین بنجر داسیں کاانتخاب ہوا تھا مگر عوامی تنازعات اور اراضی ریٹس پر عدم اتفاق کی وجہ سے دیامر میں متاثرین کیلئے ماڈل کالونیز کی تعمیر اب ایک خواب بنتا جارہاہے ایسے حالات میں مستقبل کی سوچ لیکر اجتماعی طور پر عوام کو آگے بڑھ کر آپس کے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے ورنہ یہ مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہوگا اور حقیقی و خالص متاثرین زندگی بھر در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر یں گے یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ ضلع دیامر کے تمام پشتنی باشندوں (مالکان)کی کہیں نہ کہیں کوئی اراضی کا ٹکڑ اور نالہ جات پر تصرف ضرور ہے لیکن چلاس شہر کے ہزاروں ایسے متاثرین جن کے اپنے گھر کے علاوہ کوئی اراضی کوئی نالہ کوئی چراگاہ نہیں ہے یہ متاثرین آسمان تلے تنہا ہیں ان کاکوئی پرسان حال نہیں ہے ان لوگوں کو سونیوال قبائل (غیر مالکان) کہا جاتا ہے جو چلاس شہر میں ہزاروں کی تعدا میں مکین ہیں اور یہ لوگ حقیقی متاثرین بھی ہیں آج تک یہ لوگ کسی بھی بنجر داس پر اپنا حصہ بھی نہیں منوا سکے جبکہ حکومتی و عدالتی دروازوں سے بھی خالی دست لوٹتے ہیں دیامر ڈیم کی آباد کاری کے سلسلے میں پیدا ہونے والی رکاؤٹیں جہاں مستقبل میں متاثرین کو محروم رکھیں گی وہاں اندرون دیامر عدم توازن کی بنیاد کا جواز بھی بننے گا جس پر حکومت عوام اور واپڈا کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے واپڈا کی جانب سے متاثرین کی آباد کاری کے حوالے سے عوامی ریفرنڈم کی تجویز بہتر ہے اس کے علاوہ واپڈا کچھ کر بھی نہیں کرسکتا اور عوام سے اراضی چھین کر زبردستی ماڈل کالونی بنانا نہ ریاست کی مفاد میں ہے اور نہ ہی واپڈا اور حکومت یہ کام کرسکتی ہے البتہ اس وقت سب سے بھاری ذمہ داری عوام پر ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کافیصلہ خود کریں متاثرین کے الگ الگ ٹولے آپس میں مل جائیں اور ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف کرنیوالی سازشوں کا بھی ازالہ کریں پہلے دیامرکے تمام چھوٹے بڑے اسٹیک ہولڈرز یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوکر حکومت و واپڈا کو متاثرین کی آباد کاری اور دیامر ڈیم کے ثمرات کے حصول کیلئے ایک مشترکہ متفقہ پروپوزل پیش کریں تاکہ متاثرین ڈیم کا اجتماعی فائدہ ممکن ہوسکے اگر ایسا نہیں ہوا تو آنیوالی نسلیں دیامر کی لیڈر شپ اورٹکڑوں میں بٹی بکھری بے حس عوام کوکبھی معاف نہیں کریگی ۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!