تازہ ترین

پھدکتی چڑیا کہاں گئیں! | شکور خان ایڈوکیٹ| پھسوٹائمزاُردُو

شکور خان ایڈوکیٹ

میرے بچپن کے دنوں میں ربڑ والے غلیل(ٹمبوک) ابھی متعارف نہیں ہوئے تھے۔ لوگ بید کے درخت کی خشک ٹہنی کی تراش خراش کرکے تین فٹ لمبی کمان نما غلیل(ٹمبوک) بناتے تھے۔ قدیم یاسن کے لڑکے بالے مرے گھوڑے کی رگے کھینچ کر گوشت سے علیہدہ کرتے، انہیں خشک کرکے خوب کوٹ کر اسکی دہاگہ نما لمبی ڈوری بناتے۔ یہ ڈوری شروع میں بھدی اور کھردری ہوتی۔ اس کے دونوں سرے مخالف سمیت میں زمین میں دھنسے لکڑی کی کھونٹیوں سے کس کے باندھ دیئے جاتے یہاں تک کہ ڈوری خوب تن جاتی جسے بروشسکی میں چھوکس کہا جاتا تھا۔
خوبانی کا گودا (گوند) جسے بروشسکی میں “بنگی” کہتے ہیں، اس گوند کے ساتھ پانی ملا کر گاڈھا محلول تیار کیا جاتا۔ اب سوتی یا اونی کپڑے کا ٹکڑا اس محلول میں بھگو کر جسے “شمفیض” ، ” Shamphiz” کہا جاتا تھا۔ اس سے چھوکس کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک رگڑتے جاتے، اس رگڑ سے نہ صرف چھوکس کا کھردراپن یعنی اس کی بدصورتی ختم ہوجاتی بلکہ نرم ملائم اور چکنا چمکدار ہو جاتا۔ رگڈائی کے عمل کے نتیجے میں لمحہ بہ لمحہ خوبصورتی میں اضافہ ہوتا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گوند کی چپ چپاہٹ کے سرایت کر جانے سے چھوکس کی سختی میں خاصا اضافہ ہو جاتا تھا جس سے اس کی عمر بڑھ جاتی تھی۔
بہت سارے بھائیوں نے Shamphiz کے درست معنی بتا دیئے جبکہ شمفیض کا اصل ماخذ ڈاکٹر قیوم صاحب، عبدالحمید بھائی اورہمارے جیالے بروشسکی شاعر پینن رونق نےولد محترم سے جان کاری لے کر خاصے تفصیل کے ساتھ بالکل درست جواب دیا۔
ظفرخان صاحب اور دیگر اصحاب نے شمفیض دیچم کےخوبصورت معنی کچھ یوں بتائے:- میک اپ جس میں کاسمیٹکس یعنی لپ سٹک، پوڈر کریم وغیرہ ۔ بناو سنگار، بننا سنورنا، گوکھر اسقاراکیم، گوکھر کھاش ایچوم ، گوکھر چوٹ چوٹ ایچوم، گوکھر تھوک تھوک ایچوم ، نہا دھونا وغیرہ وغیرہ ۔ بقول ممتاز علی یاسینی لفظ شمفیض تنقیدی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
جملے کچھ یوں ہوں گے : آجو شمفیذن دلا، دعوتانا قاو ہو آپی لے!
سبق ہک کا یات آئیتم چن موکھر شمفیض دیلوو، موتوک ہیرچا دا بو مائیمی۔

موضوع کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں۔ راقم بچپن میں غلیلیں بنا کر ہمجولیوں کو مفت میں دیا کرتا تھا۔ ان سے وہ رنگ برنگی چڑیوں کا شکار کھیلتے تھے۔ میرے پاس ہر وقت غلیل ہوتی لیکن کبھی چڑیا کی طرف پکا نشانہ باندھ کر پتھر نہیں اچھالا، یوں میرے ہاتھوں زندگی میں چڑیاں نہ کبھی ہلاک ہوئیں نہ زخمی۔
میرے گھر کے صحن اور پائے باغ میں اعلی نسل کے کالے شہتوت کے بڑے درخت تھے۔ پھل پکنے کے آیام میں رنگ برنگی چڑیاں اور طرح طرح کے پرندے ٹہنیوں اور نازک شاخوں پر ہمہ وقت چہچہاتے رہتے تھے۔ بعض آوارہ پرندے راتیں بھی وہی بسر کرتے تھے۔
ماہر شکاری لڑکے ٹمبوک تھامے ہمہ وقت ان درختوں کے نیچے منڈلاتے اور دو چار سے لے کر آٹھ دس چڑیا مارنے میں کامیاب ہو جاتے۔
ہر نسل کی چڑیا کا اسی کی آواز سے ملتا جلتا نام ہوتا تھا۔ لڑکے بنا دیکھےآوازوں سے ہی پہچان جاتے تھےکہ کون کون سی چڑیا شاخوں پر موجود ہیں۔
سحر پو پھٹنے سے لے کر رات گئے تک چہچہاہٹ کانوں میں رس گھولتی تھی۔ کسی من چلے نے کہا تھا کہ مجھے تو امیر خسرو کا راگ معلوم ہوتا ہے جو یہ پرندے الاپتے ہی چلے جا رہے ہیں۔
وہ دور بھی نہ رہ سکا! نہ پرندے رہیں نہ شکاری! یہ 70 تا 80کی دہائی کے ابتدائی دو سالوں کا زمانہ تھا۔ تب تک یاسن میں نہ قابل ذکر سرکاری ادارے تھے نہ این۔جی۔اوز کا ظہور ہوا تھا۔ گو کے خوراک خالص تھی لیکن بیماریوں کا بھی دور دورہ تھا جن کا علاج عملیات تعویذات، دم درود اور پریاں اتارنے والے بیٹنوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔
لیکن شرح اموات خصوصا بچوں کی اس قدر زیادہ تھی کہ پیدائش کے پانچ چھ سالوں کے اندر چالیس فیصد بچے لقمہ اجل بن جاتے تھے جبکہ ہوائیں ناپتے خوش نوا پرندے اور پھدکتیں چہچہاتیں چڑیاں خوب نسلیں بڑھا رہی تھیں۔
اسی 80 کی دہائی کے وسط سے طبی انقلابات کے در آنے کے نتیجے میں انسانی بچوں نے جینا شروع کر دیا لیکن دوسری جانب رنگ برنگی خوش الحان پرندے تیزی سے مرنے لگے۔ بہت سارے پرندے ناپید ہو گئے۔
آج کے نوجوانوں کو ان پرندوں کے پیارے پیارے نام یاد ہیں نہ سوز سے پر سریلی آواز انہیں کہیں سنائی دیتی ہے۔
پرندے کیا ہوئے؟ انہیں کس کی بد دعا لگ گئی؟ یہ سب جاننے کے لیے اگلے مضمون کا انتظار کیجئے۔

About Passu Times

One comment

  1. چھیو دوچوم بت شوا سہنا

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!