تازہ ترین

احسان علی ایڈوکیٹ کون ہیں؟

احسان علی ایڈوکیٹ کون ہیں؟

کامریڈ احسان علی 2014 کی گندم سبسڈی کے خاتمے کیخلاف ابھرنے والی عوامی تحریک کے دوران ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے
کامریڈ احسان ایڈووکیٹ سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور گلگت بلتستان کی مشہور سماجی و سیاسی شخصیت ہیں۔ اپنے زمانۂ طالب علمی سے ہی بائیں بازو کی تحریک کے ساتھ منسلک ہیں اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد جب نام نہاد بائیں بازو نے اپنا قبلہ و کعبہ تبدیل کیا اور ایک بڑی اکثریت لبرلزم یا این جی اوز کی غلاظت میں غرق ہوئی، احسان ایڈووکیٹ نے مارکسزم کے نظریات سے اپنا تعلق ناصرف استوار رکھا بلکہ جدوجہد بھی جاری رکھی۔ آج بھی وہ بطور ٹراٹسکائیٹ، بائیں بازو میں اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ یوں تو ریاست کے خلاف ان کی جدوجہد کی بے شمار مثالیں ہیں لیکن 2014ء میں گندم پر سبسڈی کے خاتمے کیخلاف گلگت بلتستان میں شدید غم و غصے کی لہر ابھری اور اس کیفیت میں گلگت بلتستان کے عوام کو حکمرانوں کے ان ہتھکنڈوں کیخلاف سیاسی جدوجہد میں منظم کرنے میں احسان ایڈووکیٹ کا کلیدی کردار تھا۔

آج احسان ایڈووکیٹ پر مذہبی منافرت پھیلانے کا غلیظ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے لیکن ہم یہاں یہ واضح کرنا چاہیں گے کہ 2014ء سے قبل ایک طویل وقت سے گلگت بلتستان کے عوام پر ریاست کی طرف سے مسلط کی گئی مذہبی منافرت کی وجہ سے ایک ہی شہر کے مختلف علاقوں کے افراد کے لئے دوسرے مخصوص علاقوں میں داخلہ ممنوع تھا۔ نوگو ایریاز بنا دیئے گئے تھے۔ اسی بنیاد پر سینکڑوں افراد کو قتل کیا گیا۔ افراد کی پہچان ان کی مذہبی وابستگیوں کی بنیاد پر کی جا رہی تھی اور اسی بنیاد پر عوام کو تقسیم کر کے ان کے حقوق غصب کئے جا رہے تھے۔ ایسے حالات میں مذہبی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے حقوق کے لئے سیاسی جدوجہد کا علم بلند کرنے والا انسان یہی احسان علی ایڈووکیٹ تھا۔ انہی کی کاوش کے نتیجے میں عوام کا مشترکہ پلیٹ فارم ’’عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ کے نام سے تشکیل دیا گیا اور جب تمام تر تقسیموں سے بالاتر ہو کر گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق کے دفاع میں نکلے تو کامیابی نے ان کے قدم چومے تھے۔ گلگت ۔۔۔۔بلتستان، جہاں پر دہائیوں سے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، احسان ایڈووکیٹ کو ہمیشہ محروم و م۔۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان کے بائیں بازو کے معروف عوامی رہنما کامریڈ احسان علی ایڈووکیٹ کو اتوار کی شب گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے فوری بعد انہیں 14دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ گرفتاری کی وجہ سوشل میڈیا پر ان کا ایک پوسٹ کو شئیر کرنا بتایا جا رہا ہے، جو ایران میں جابر ملا حکومت کے خلاف ابھرنے والی حالیہ تحریک کے دوران منظر عام پر آئی تھی۔ اس پوسٹ کو بنیاد بناتے ہوئے احسان ایڈووکیٹ کیخلاف سوشل میڈیا پر مذہب مخالف پروپیگنڈا کا الزام لگایاگیا، جس پر بعد ازاں احسان ایڈووکیٹ نے وہ پوسٹ سوشل میڈیا سے ہٹا دی اور اس کے بعد ناصرف اس پوسٹ کو شیئر کرنے کی وضاحت کی بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر اس پوسٹ سے کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ اس کے لئے معذرت خواہ ہیں۔ جس کے بعد سوشل میڈیا سے پروپیگنڈے کا سلسلہ تو ختم ہو گیا لیکن گلگت بلتستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی شعور اور سیاسی عمل سے خوفزدہ عناصر نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینے کی بجائے اس کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ٹھان لی اور اس کے بعد ناصرف احسان ایڈووکیٹ کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جانے لگیں بلکہ ان کیخلاف گلگت میں وال چاکنگ کی جانے لگی اور اسی اثنا میں ان کی گرفتاری کے لئے پولیس کو درخواست بھی دی گئی۔ احسان ایڈووکیٹ کی گرفتاری کی وجہ بھی اسی درخواست کو بتایا جا رہا ہے

 

پی وائی ایف  سے انتخاب

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!