تازہ ترین

معموُلی سی بات ہے | نثار کریم | پھسوٹائمزاُردُو

نثار کریم :-

بات معموُلی اور چھوٹے موُٹے کا قلم کے نُوک سے ادا ہوا ہے اور آج کا عنوان بنا ہے تو کیوں نہ آج کی گفتگو چھوٹے اور معمُولی باتیں کر کے گزار دیں؟ معمُولی باتیں کرتے کرتے شاہد کوئی غیر معمُولی عمل، کام اور بات زیر بحث آجائے تو کوئی گناہ تو نہیں ہیں۔
ہم روزمرّہ کی زندگی میں کئی معمُولی باتیں، معمولی کام، معمولی حرکت اور پتہ نہیں کتنے معمولی افعال سرانجام دیتے ہے، جن کی طرف ہم کوئی توجہ اور اہمیت نہیں دیتے اور وہ معمولی افعال کئی غیرمعمولی، توقعات اور ارادوں سے تجاوز نتائج برآمد کرتی ہیں۔کبھی کُھبارایک چھوٹی سی بات اتنی بڑی بات ہوجاتی ہے کہ اُسے دانائی اور رعنائی خیال کی انتہا سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور اکثر ایک چھوٹی سی بات انسان کو عمر بھر کے لیے دشمنی، نفرت اور غلط فہمیوں کا شکار بنا دیتا ہے۔ اگر چھوٹی بات کو چھوٹا نہ سمجھا جائے تو کوئی بڑی بات بڑی نہ رہ جائے گا۔ چھوٹے کاموں کو بڑی احتیاط سے کرنے والا انسان کسی بڑے کام سے کبھی خوفزدہ اور مرعوب نہیں ہوتا ہیں۔ چھوٹے انسانوں سے مُحبت کرنے والا، اُن کا آداب کرنے والا، اُن سے اچھا اور برابر سلوک کرنے والا، کسی بڑے بڑے رتبہ والا شخص سے نہیں ڈرتا ہے۔ چھوٹے انسان اور معمولی انسان سے مُحبت غیر معمولی انسان اور بڑے رتبے والے شخص کا ڈر نکال دیتی ہے۔ ایک سجدہ حاصل ہو جائے تو ہزار سجدوُں سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔
دُنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو جاتی ہے کہ دُنیا کے عظیم اور غیر معمولی واقعات کی بُنیاد میں اکثر اوقات معمولی اتفاقات نظر آئیں گے۔ ایک انسان نے دوسرے انسان کو دیکھا ۔یہ معمولی سی بات تھی اور ایسے اکثر ہوتا رہتا ہے، مگر اس دفعہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے چہرے میں کچھ اور ہی نظر آیا، بات ہے نظر کا ملنا اور دل کا دھڑکنا اور پھر کائنات کا رنگ و نُور میں ڈھل جانا، غرص یہ کی بے شمار غیر معمولی واقعات پیدا ہو جاتے ہے جس کو بیان کرنے کہ ضرورت محسوس نہیں ہوتا جس کو عاقل سمجھ سکتا ہے۔ پرندے کہ مشال لے لیں ۔معمولی سے پرندہ ہُد ہُد کہ اطلاع پر ایک غیر معمولی اورعظیم پیغمبر حضرت سلیمانؑ کے دربارمیں کتنے غیر معمولی واقعات جنم لیتے ہیں ۔ ارادہ جب عمل بن جاتا ہے خواہش اور حاصل میں فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ علم والے ایسے علم کا اظہار کرتے ہے کہ دُور کا نظارہ اُڑتا ہوا پاس آجاتا ہے ۔ ہُد ہُد نے ہلچل مچادی۔ معمولی نے غیرمعمولی راہ دیکھادی۔ کسی گاوْں میں ایک معمولی سا انسان رہتا تھا اور وہ معمولی سا انسان اپنے گاوں میں ایک لڑکی سے ملا۔۔۔۔۔۔گاوں اور شہروں میں اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے اور یہ معمولی بات ہے لیکن اس معمولی واقعے کو ایک غیرمعمولی شاعر مل گیا اور شاعر جو کہ ایک معمولی سا انسان تھا لڑکی سے ملنے کے بعد معمولی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ان معمولی سا انسانوں میں ہیررانجھے۔۔۔۔ لیلہ اور مجنون۔۔۔۔۔میں اور آپ۔۔۔آپ اور میں۔۔۔ پتا نہیں اور کتنے صاحبان ہے جن کا نام میرے حافظہ سے پراوزکر گئے ہے۔ بات یہ ہے کہ معمولی چیز سے کتنا غیرمعمولی نتیجہ برآمد ہ ہو جاتی ہے۔ آج بڑے بڑے ا سکالرز ان شخصیات پر مقالے لکھتے ہیں اور ڈاکڑیٹ کرتے ہیں۔ نہ وہ معمولی سا انسان ڈاکڑ تھا۔۔۔ نہ وہ گاوں کی لڑکی۔۔۔ لیکن اُن پر لکھنے والے ڈاکڑ کہلاتے ہیں۔
کتنے بڑے امکانات پیدا کیا ایک چھوٹے اورمعمولی سے واقعہ نے۔۔۔۔۔ کیافطرت اپنے غیر معمولی واقعات کو معمولی تعارف سے شروع کرتی ہے؟ شاہد ایسا ہی ہے۔ ایک بچے نے خواب دیکھا۔۔۔باپ نے کہا ! بیٹا اپنا خواب بھائیوں کو نہ سُنانا۔۔۔ مگر بھائی سُن گئے۔ بس پھر واقعات شروع ہوگئے۔ معمولی سی بات تھی کہ بچے نے خواب دیکھا مگر نتیجہ غیر معمولی۔۔۔اس معمولی بات کاایک اور مشال حُسن یوسفؑ کا دیکھو اور پھر علامت کیساتھ ساتھ برادران یوسفؑ ۔۔۔اتنے اپنے اور اتنے بیگانے۔۔۔ بہرحال یہ دُنیا اکثر عظیم واقعات کے پس پردہ ایک معمولی سا راز ر کھتی ہے۔ کچھ بھی ہو دیکھنے میں معمولی اور سمجھنے میں غیرمعمولی ہوتا ہیں۔
پا کستان آزاد ہونے سے بہت پہلے کا تاریخ اُٹھا کر دیکھو! کس طرح ہند کے تاریخ میں ایک کبُوتر کے بعد دوسرے کبُوتر کا اُڑنا حُسنٖ معصوم کہ ادائے دلفریب کے طور پر آج بھی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے لطُف کا باعث ہے۔کچھ لوگ جو آج بھی کبُوتر کے اُڑنے کو بہت بڑے علامت کے طور پر لیتے ہیں۔۔۔اکثر کہتے ہے کہ ایک کبُوتر تو اُڑا۔۔۔سو اُڑا۔۔۔ مگر خُدا کے لیے دوسرا کبُوتر ہاتھ سے نہ چھوڈ دینا ۔۔۔ورنہ تاریخ کسی حادثہ کا شکار ہو کرختم ہو جائے گی۔
دُنیا میں ہونے والے ایسے معمولی واقعات جن کا نتیجہ بہت غیرمعمولی ہوتا ہے بے شمارہے۔۔۔ جن کو اگر میں اور آپ حساب کرنے بیٹھ جائے تو قلم کے سیاہی ختم ہو جائے گا اور غیر معمولی واقعات کا ایک الگ کتاب گھر وجود میں آئے گی۔اگر آپ اسلام کے تاریخ پر نظر ڈالے تو سب سے اہم معمولی واقعہ اُس غار میں مکڑی کا وہ کمزور جالا تھا جہاں ایک عظیم ہستی دشمنوں کے ناپاک ارادوں سے محفوظ رہا۔سوچ لیا جائے تو کتنا معمولی سا واقعہ تھا مگر کیسے مکڑی کا کمزور جالا ایک حقیقت بن کر آڑے آیا اور پھر معمولی سے واقعہ نے غیر معمولی انسان اور ہستی کی غیرمعمولی حفاظت کا سامان پیدا کر دیا۔۔۔ یہی نہیں کئی ایک معمولی واقعات پیش آئے۔
غیر معمولی لوگ معمولی باتوں سے ہی راز آشنا کرتے ہیں۔ ایک آدمی نے جنازہ دیکھا میرا مطلب ایک میت پر نظر پڑا۔ آدمی نے پُوچھا یہ کیا ہے؟ وہاں موجود لوگوں نے کہا! یہ جنازہ ہے۔ مرنے والا کا آ خری سفر اور یہ ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔آدمی نے کہا۔۔۔ارے! یہ اگر ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے تو تم لوگ اتنے بے حس اور بے بس کیوں ہو گئے ہو؟ آخری بات سے پہلے کوئی اور بات ضرور ہوگی۔ اُسے دریافت کرنا چاےئے۔ وہ آدمی جنازے کے قریب سے ہٹ کر جنگل کی طرف نکل گیا۔ اُس آدمی نے معمولی سے غیر معمولی بات حاصل کر لی۔ہمارے ہاں بھی بڑی معمولی باتیں ہو رہی ہے مگر افسوس ا ن معمولی باتوں کا غیر معمولی نتیجہ سمجھنے والا ہی نہیں۔ دھرتی میں آئے دن کئی معمولی کام ہونے کے بعد غیر معمولی نتیجہ اخذ ہوتا ہے مگرکسی کو ہوش اور فکر نہیں ہے کہ ان پر توجہ دیں۔
دھرتی کا کو ئی جوان اگر معمولی سا فعل غیر ارادی طو ر سے ادا کرئے تو غیر معمولی نتیجہ اخذ کر دیا جاتا ہے اور اگر صاحبٖ استطاعت اور با اثر لوگ غیر معمولی فعل ادا کرئے تو معمولی جوازکے ساتھ درگز کر دیا جاتا ہیں۔ جمہو ریت کے معمولی سے قافلے۔۔۔ معمولی سی بدعتمادیاں اور معمولی سی غفلت بہت سارے غیر معمولی نتیجہ۔۔۔ قوم کے اندرمعمولی سا انتشار غیر معمولی نتیجہ۔ اب کہیں کسی غیر معمولی واقعے کی نشاندہی نہ ہو جائے ورنہ میری دھرتی کی تاریخ بدل جائے گی۔

About Passu Times

One comment

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!