تازہ ترین

چترال: موٹاپے کی خواہش میں سپلیمنڑی گولیاں کھا کر بائیس سالہ صدیق احمد دونوں گردے ناکارہ ہونے سےموت کی آغوش میں چلا گیا

چترال : پھسو ٹائمزاُردُو : گل حماد فاروقی

بائیس سالہ صدیق احمد کا موت بے حث معاشرے اور بے ضمیر حکمرانوں کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ نوجوان موٹاپے کی گولیاں کھا کھاکر اپنے دونوں گردے ناکارہ کیا۔
چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے مضافاتی علاقے بکر آباد کے رہائیشی 22 سالہ نوجوان صدیق احمد جن کے دونوں گردے فیل ہوچکے تھے ان کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں موت واقع ہوئی جن کا نماز جنازہ بکر آباد گاؤں میں ادا کی گئی بعد ازاں اسے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ صدیق احمد پر اکتوبر کے مہینے میں ہمارے نمائندے نے میڈیا کیلئے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات سے بھی مالی امداد کی اپیل کی گئی تھی مگر کسی نے ان کے ساتھ کوئی حاص مدد نہیں کیا۔
صدیق احمد نے ہمارے نمائندے کو بتایا تھا کہ اسے بہت شوق تھا کہ وہ صحت مند نظر آئے اور موٹا ہوجائے ۔ اس مقصد کیلئے وہ گاؤں اور آس پاس کے دکانوں ہی سے موٹاپے کی گولیاں خرید کر کھاتا تھا جس کی وجہ سے اس کے دونوں گردے فیل ہوئے۔ اس کے بعد وہ سعودی عرب گیا وہاں بھی اس کی بدقسمتی نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا اور آحر کار واپس اپنے گھر آیا۔
سوال یہ ہے کہ گاؤں اور گلی کی سطح پر آحر کار ایسے ناقص دوائیاں کیوں بکتی ہیں جس سے لوگوں کو اتنا بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک کا نظام اتنا مایوس کن ہے کہ آج تک بڑے بڑے معاملات کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئے تو بائس سالہ صدیق احمد کا کون پوچھتا ہے۔
عوام اکثر شکایت کرتے ہیں کہ یہاں تو جنرل سٹور میں بھی زندگی بچانے والی دوائی بکتی ہے اور چترال کے بالائی علاقے میں تو بعض دکاندار اور میڈیکل ریپ بھی انسانی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ عوام کا شکایت ہے کہ ڈرگ انسپکٹر کا کام ہے کہ وہ عطائی ڈاکٹروں کو پکڑے اور اس قسم کے ادویات کو بھی اپنے قبضے میں لیکر ان دکانداروں کے حلاف کاروائی کرے مگر جب ڈرگ انسپکٹر سے پہلے ہی یہ مافیا حرکت میں آتی ہے ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں اور جب ڈرگ انسپکٹر آتا ہے تو اس کیلئے پہلے ہی سے ہوٹل میں کمرہ بک ہوتا ہے وہ کھا پی کر تخفے تحائف لے کر واپس چلا جاتا ہے اور یوں کسی بھی دکاندار کے حلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوتی۔
چترال ٹاؤن ہی میں ایسے دکاندار ہیں جو عطائی کے کام کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں مگر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو ایک سیاسی شحصیت کی اشیر باد سے یہ کرسی ملی تھی وہ مہینے میں پندرہ دن پشاور وغیرہ اسلئے جاتا کہ ان کو ٹی اے ڈی ملے کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ اگر کوئی صحیح حکومت آئی تو اسے اس دفتر میں بھی نہیں چھوڑے گا ۔ تو آحر کار ایسے لوگوں کے حلاف کاروائی کون کرے گا جو انسانی زندگیوں سے کھیلے اور بغیر کسی مستند ڈگری اور طب کے تعلیم کے ادویات فروخت کرتے ہیں ۔ حالانکہ یورپ وغیر ہ میں کئی کیمسٹ والا ڈاکٹر کے تحریری نسحے کے بغیر کوئی بھی دوائی نہیں دیتی ۔
صدیق احمد کا والد ایک مزدور کارغریب شحص ہے جو پتھر کی دیوار کا مستری ہے اور صدیق احمد اس کے بڑھاپے کا سہارا تھا جو اس سے چھن گیا۔ اس کے موت کے ذمہ دار کون ہے وہ ادویات فروخت کرنے والا دکاندار جو نوجوانوں کو موٹا کرنے کے بہانے گمراہ کرتے ہیں یا وہ ڈرگ انسپکٹر جن کی ذمہ داری تھی کہ ایسے لوگوں کے حلا ف کاروائی کرے تا حکومتی ادارے؟۔
صدیق احمد کی طرح کئی نوجوان یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال میں ڈرگ انسپکٹر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی آسامی پر ایسے لوگوں کو تعینات کرے جو نہایت ایمانداری سے ڈیوٹی کرے اور ڈرگ مافیا کی دعوت پر ہوٹلوں میں وقت نہ گزارے بلکہ بازار کا معائنہ کرے اور جو لوگ دوسروں کی زندگی سے کھیلتے ہیں ان کے حلاف بغیر کسی حوف و حطر کاروائی کرے مگر یہ سب کچھ اس ملک میں ممکن نہیں کیونکہ ان کے بچے بھی مہنگے سکول، کالجوں میں پڑھتے ہوں گے ان کے بھی اخراجات ہوں گے۔
اس مایوسی کی حالت میں قوم کسی مسیحا یا خمینی کا انتظار کرتے ہیں۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*