تازہ ترین

بلتستان کا طالب علم لاہور میں قتل ۔۔انصاف کے لئے کہاں جائیں؟ | شیرنادرشاہی | پھسوٹائمزاُردُو

شیرنادر شاہی
سات سالہ ننھی منھی زینب کے ساتھ پیش آنے والا جنسی درندگی کا دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد کراچی میں بہتر سالہ انقلابی مارکسسٹ ماہرِ تعلیم و فلسفی پروفیسر حسن ظفر عارف کے قتل کا درد ابھی ہرا بھرا ہی تھا کہ لاہور میں مقیم  گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم دلاور عباس کو اجتماعی تشدد کرکے بہیمانہ قتل کی خبر آگئی، انسانی درندگی کے واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم کسی جنگل میں رہتے ہیں جہاں کوئی قانون ، مساوات، برابری اور انصاف نام کی چیز موجود نہیں ہے ان ظلم و جبر کے واقعات نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پتھر کے زمانے کی یاد تازہ کردی ہے۔
یوں تو اس ملک میں کسی ہجوم کے ہاتھوں مذہبی یا سیاسی اختلاف پر سرِعام قتل کرکے لاش کوڑے میں پھینکنا اور مجرموں کا طاقت اور اثرو رسوخ کے بل بوتے پر آزاد ہونا کوئی نئی بات نہیں اورنہ ہی کسی معصوم بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا نے کے بعد اس کو قتل کرنا۔ اس ملک میں جبری گمشدگیاں اور اس کے بعد ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا یا ماورائے عدالت قتل کرکے لاش کو گاڑی کی ڈگی میں رکھنا یا بوری میں بند کرکے دریا کے کنارے پھینکنا بھی کوئی حیران کن امر نہیں ہے اور نہ ہی حقوق مانگنے والوں کو بیرونی ایجنٹ قرار دے کر جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنانا۔
پاکستان کے اندر انسانی ذہن کو دھنگ کر دینے والے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور افسوس اس بات کی کہ آج تک جنسی درندگی، وحشیانہ قتل،جبری گمشدگی کے بعد قتل، ماورائے عدالت قتل کردیئے جانے والے ہزاروں بے گناہ انسانو ں کے قتل میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا تو دور کی بات ان کو گرفتار تک نہیں کیا جاسکا اور اگر معجزانہ طور پر کوئی ملزم گرفتار ہوتا بھی ہے تو اثر رسوخ کے بل بوتے پر جلد رہا ہوجاتا ہے اور مقتول کے ورثاء کے پاس سوائے  عدل و انصاف کے اس نظام کو کوسنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی باقی نہیں رہ جاتا ہے اورجس ملک کے اندر منتخب وزرائے اعظموں ، نامور سیاسی و سماجی رہنماؤں اورصحافیوں کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے تو  ایسے میں غریبِ شہر کا اس ظالمانہ نظام میں عدل کا توقع رکھنا بھی ایک خواب سے کم نہیں۔
سات سالہ زینب کا قتل اور پھر بہتر سالہ حسن ظفر عارف کے قتل کے بعد تعلیم کے غرض سے لاہور میں مقیم گلگت بلتستان کے طالب علم اور ماں باپ کا اکلوتا وارث  دلاور عباس پر بیس درندوں کا معمولی جھگڑے کے بعد  اجتماعی طور پر حملہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانا اور تین دن زخمی حالت میں رہنے کے بعد شہید ہوجانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وجود پر سوالیہ نشان ہے اس قتل کے بعد پاکستان کے شہروں میں تعلیم کی غرض سے رہنے والے گلگت بلتستان کے لاکھوں طلبہ و طالبات کی جان و مال کا تحفظ غیر یقینی ہو گیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ ان کی جان و مال کی حفاظت کون کرے گا اور اس کو یقینی کون بنائے گا۔
زینب اور پروفیسرحسن ظفر عارف کے لئے انصاف کے کہیں دروازے کھلے ہیں کیونکہ ان کے لئے اس ملک کی ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں لیکن بدقسمتی سے خطہ بے آئین سے تعلق رکھنے والا شہید طالب علم دلاور عباس کے ورثاء کے لئے پاکستان کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دروازے بھی ہمیشہ کے لئے بند ہیں وہ اس لئے کہ اس شہید طالب علم کا تعلق زینب اور پروفیسر حسن ظفر عار ف کی طرح پاکستان کےان شہروں سے نہیں ہیں جو پاکستان کے آئین میں شامل ہے بلکہ دلاور عباس کا تعلق اس خطے سے ہیں جو گزشتہ ستر سالوں سے متنازعہ ہے جس پر پاکستانی آئین کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ خطہ سپریم کورٹ اور دیگر پاکستانی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں ہے اور نہ ہی اس کا ووٹ لاہور کے کسی ایم پی اے، ایم این اے اور کونسلر کے لئے کاسٹ کرنے کا اختیار  ہے  اس لئے مجھے ایک ہی سوال بے چین کر رہا ہے کہ آخر دلاور عباس کے ورثاء ملک کے کس عدالت میں اپنے معصوم مقتول بیٹے کا مقدمہ لڑھیں گے اور کس ایم پی اے یا ایم این اے کا اثر و رسوخ ان کو انصاف دلائے گا!
بقول شاعر
میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں داستانیں۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!