تازہ ترین

دلاور عباس کوکس جرُم میں مارا گیا ؟ | وزیرجعفر | پھسوٹائمزاُردُو

تحریر : وزیر جعفر –

دلاور عباس کو زندہ دلانِ لاہور کے شہر میں بڑی تمنائیں اور خواہشیں لے کر بھیجا گیاتھا کہ پڑھ لکھ کر آفیسر بن کر ملک و قوم کی خدمت کرے گا کیوں کہ ملک کے استحکام و سالمیت کے لئے قربانی دینا گلگت بلتستان بلخصوص بلتستان اور ضلع غذر کے لوگوں کا شعار رہاہے ۔دلاور عباس ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا جن کا باپ خاندان کی کفالت کے غرض سے کویت میں ملازمت کررہے تھے

۔دلاور عباس لاہور میں بغرض تعلیم رہائش پذیر تھے پانچ دن قبل اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی رہائش کے قریبی پارک میں کھیل رہے تھے کہ زندہ دلان لاہور کے چند گلو بٹوں نے کرکٹ کے بلوں(بیٹ) سے دلاور عباس پر حملہ کردیا اور لہولہان کردیا اِس پورے دورانئے میں پارک میں موجود لاہوریوں نے اپنے طالب علم مہمان کو گلو بٹوں کے تشدد سے بچانے کی زحمت گوارا نہیں کی یوں دلاور عباس سر پر شدید چوٹوں کی وجہ سے جنرل ہسپتال لاہور میں چار دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مُبتلا رہنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جاملے

اِنا للہ و انا الیہ راجعون۔

زندہ دلان لاہور کے اُن گلو بٹوں کو معلو م ہونا چاہیے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1948ء میں ڈنڈوں اور مکوں سے ڈوگرہ راج کو مار بھگایا تھا اور پھر اُس کے بعد کی جنگوں خاص طور پر کارگل جنگ کے دوران گلگت بلتستان کے سپوتوں نے بہادری اور جرئات کی لازوال داستان رقم کردی ہے۔تن وتنہا تعلیم کی غرض سے تمھارے شہر میں مقیم مہمان کو کھیل کے میدان میں( درجنون گلوبٹوں کا )بے دردی سے تشدد کرکے شہید کرنا تمھاری بہادری نہیں بلکہ بزدلی،بے غیرتی اور طوفانِ بد تمیزی کا وہ عملی نمونہ ہے جو زندہ دلوں کے شہر لاہور کے چہرے پر ہمیشہ کے داغ کی حثیت اختیار کرگیا ہے

۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے اپیل ہے کہ اِس افسوس ناک واقعے کا فوری نوٹس لے کر واقعے میں ملوث گلو بٹوں کو قرار واقعی سزا دیں کیونکہ گلگت بلتستان کے سینکڑوں طلباء وطالبات پاکستان بھر کے شہروں میں مقیم ہیں افسوس ناک واقعے نے گلگت۔

بلتستان کے عوام میں سخت بے چینی پیدا کیا ہے جو کسی طور بھی نیک شگون نہیں۔اہلیانِ لاہور کو بھی سوچنا چاہئے کہ گھر آئے مہمان کے ساتھ یہ سلوک خود اُن کے لئے بھی شرمناک امر ہے جس سے لاہوریوں کے بارے میں دیگر شہروں کے لوگوں میں بد شگونیاں پیدا ہوں گی ۔

کھیل کے میدان تفریح کے لئے ہوتے ہیں اگر اِن کو بھی ہم نے میدان جنگ بنا لیا تو پھر ہمارے معاشرے کو خدا ہی حافظ کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہم پہلے ہی عبادت گاہوں ،درسگاہوں اور مقدس مقامات کو بھی میدان جنگ بناچکے ہیں

ارباب اقتدار و اختیار اور اہل علم و دانش کو معاشرے میں بڑھتے ہوئے انتہاپسندانہ رُحجان اور عدمِ برداشت پر غور و خوض کرنا ہوگا اور اس کے تدارک کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھانے ہوں گے اگر سلسلہ اسی طرح رہا تو پھر ہمارا مستقبل بھیانک دکھائی دیتا ہے۔دلاور عباس کو میں شہید اِس لئے کہوں گا کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ راہ علم میں مرنے والا طالب علم شہید کا درجہ پاتا ہے پنجاب کی طرح گلگت بلتستان خاص طور پر بلتستان میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کو عوام نے بھر پور مینڈیٹ دیا ہے اور شہید ہونے والے طالبعلم کے حلقے کا منتخب نمائندہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کا اہم وزیر ہے

۔مسلم لیگ (ن) پنجاب اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو شہید طالب علم کے قاتلوں کو قرار واقعی سز دلوا کر شہید طالب علم کے اہلخانہ کو انصاف دلوانا ہوگا وگرنہ گلگت بلتستان بلخصوص اہل بلتستان فرزند علی شیر خان انچن کی مظلومانہ شہادت پر خاموشی اختیا ر نہیں کریں گے ۔اِس سلسلے میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن کو فوری طور میاں شہباز شریف سے افسوس ناک واقعے پر بات کرکے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوائیں وگرنہ گلگت بلتستان کے عوام اعلیٰ عدلیہ اور پاک فوج سے اپیل کرکے طالب علم کی مظلومانہ شہادت پر ازخود نوٹس لے کر کیس کو فوجی عدالت میں منتقلی کا مطالبہ کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!