تازہ ترین

’’چوتھا ستون‘‘|فیض اللہ فراقؔ |پھسوٹائمزاُردُو

تحریر :فیض اللہ فراق
ریاستی ڈھانچے میں شعبہ صحافت کا کردار اولین اور اہم ہے اس لئے صحافت کو ریاست کاچوتھاستون کہاگیا ہے صحافت اوراس سے جڑے ہوئے قلم کاروں کے کاندھوں پراس سلسلے میں بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ریاستی نشونما اور ادارہ جاتی اصلاحات کو حوصلہ دینے کیلئے مثبت اورنتیجہ خیز رویہ اپنائیں۔ایک بہترسماج کی تشکیل کے پس منظر میں شعبہ صحافت کا کردار انمٹ ہے۔قانون سازی کا بہتر خواب اس وقت تک شر مندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک چوتھے ریاستی ستون کو مستحکم کر کے اس سے مددنہ لی جائے شعبہ صحافت سے منسلک افراد ریاستی و سماجی تشکیل کا اہم کردار ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم ارتقائی سفر کے ابتدائی مرحلے پر کھڑے ہیں سیاستدان ہو یا صحافی ہم ارتقائی منازل طے کررہے ہیں اس لئے بالغ اور منظم رویوں کے فروغ اور سیاست و صحافت میں پختگی کیلئے وقت درکار ہے قومیں اور ریاستیں بڑی سفر کے بعدپختہ ہوتیں۔صحافت ایک اہم پیشہ ہے جو شعبہ زندگی کے تمام امور کی رہنمائی کرتا ہے حکومتوں کی بڑھوتری میں شعبہ صحافت کا ان پٹ بہت ضروری ہے صحافتی ادارے معاشرتی انسانوں میں اپنی مرضی کا بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں اور رائے عامہ ترتیب دیتے ہیں ۔سیاسی جماعتوں کا تعلق بھی عوامی رائے عامہ سے ہوتا ہے اس لئے ان جماعتوں کو میڈیا کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے چوتھے ریاستی ستون کی اہمیت اپنی جگہ اہم ہے لیکن وقت کاتقاضا ہے کہ اس ستون کی ذمہ داریوں کا بھی تعین ہو تاکہ مذکورہ شعبے کو سماجی و ریاستی بڑھوتری کا عملاً حصہ بنایا جاسکے ۔صحافتی شعبہ ریاست کاایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو مختلف الخیال افراد کو یکجا کر کے ان کو نہ صرف آئینہ دکھا سکتا ہے بلکہ اجتماعی ترقی پر قائل کر کے بہتر معاشرے کی تشکیل کا محرک بھی بن سکتا ہے ۔صحافت سے منسلک صحافیوں کے لئے پریس کلبوں کا وجود ایک چھتری کی طرح ہوتا ہے ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی صحافت کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں پریس کلبوں کا کوئی وجود نہیں ہے عشروں سے بعض پریس کلبوں کی عمارتیں مردہ منصوبوں کی فہرست میں شامل ہوچکی تھی جبکہ بعض اضلاع میں اراضی کی قلت کی وجہ سے پریس کلبوں کی عمارتیں آج تک تعمیر نہ ہوسکی جس کی وجہ سے یہ ادارہ اپنے صحافیوں کو آج تک یکجا نہ کرسکا ہے تو مختلف الخیال قوم کو یکجا کرنے کا فریضہ کیسے انجام دے سکتا ہے ۔گزشتہ روز اس حوالے سے انتہائی اہم اور نیک شگون رہا جب پریس کلب گلگت کی عمارت مکمل ہوگی اور وزیراعلیٰ نے نئی تعمیر شدہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا ،جسامت اور ساخت کی اعتبار سے یہ ملک کا سب سے بڑا پریس کلب ہے جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان سطح پر موجود حکومت کی صحافتی اداروں کی بڑھوتری اورنشونما کے حوالے سے یہ اہم اقدام بھی ہے مشیر اطلاعات شمس میر اور سیکرٹری اطلاعات فداحسین کے مطابق تمام اضلاع میں پریس کلبوں کی تعمیر کے سلسلے میں کام ہورہا ہے جبکہ تقریب سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت صحافتی شعبے کی اہمیت سے واقفیت ہے گلگت بلتستان کی صحافتی تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے بذریعہ قرعہ اندازی دو صحافیوں کو سرکاری خرچے پر حج بھیجنے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا اس میں دورائے نہیں ہے کہ صحافت اور ریاست کا تعلق چولی دامن کا ساتھ ہے صحافتی پختگی کے بغیر ریاستی ادارے بھی مضبوط نہیں بن سکتے ہیں۔گلگت بلتستان میں صحافت کی تاریخ بھی سیاسی دورانیے سے جڑی ہوئی ہے یہاں صحافت سیاست سے قدیم نہیں ہے اور یہ دونوں شعبے ساتھ ساتھ سفر کرتے آئے ہیں اس لئے اب بھی یہ دونوں میدانوں کے شہسوار ارتقائی دور کے مسافر ہیں گلگت بلتستان کی صحافت کو مزید منظم اور مربطو بنانے کی ضرورت ہے جبکہ چوتھے ستون کے ذمہ داروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر جانبدار رجحانات پر مبنی پالیسی پر معاشرے کو تیار کرنے کیلئے مثبت اجتماعی تاثر تشکیل دینے میں کردارادا کریں ادارہ جاتی اصلاحات کے نفاذ کے لئے رائے عامہ ترتیب دیں اور افراد کی بجائے اداروں کی مضبوطی والا رویہ سامنے لانے میں مذاکرہ اور مکالمے کا ماحول پیدا کریں تاکہ چوتھے ستون کا بنیادی روح متاثر نہ ہوسکے ۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!