تازہ ترین

چلاس : ڈپٹی کمشنر دیامر متاثرین ڈیم گوہر آباد کو بار بار بلاکر اور ملاقات کیلئے ٹائم نہ دیکر متاثرین کی تذلیل کررہا ہے ،متاثرین ڈیم کمیٹی گوہرآباد

گلگت: پھسو ٹائمزاُردُو : پریس ریلیز

چلاس :  متاثرین ڈیم کمیٹی گوہر آباد کے مرکزی رہنماوں نمبردار محمد ریحان ،عیسی خان و دیگر نے چلاس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر دیامر متاثرین ڈیم گوہر آباد کو بار بار بلاکر اور ملاقات کیلئے ٹائم نہ دیکر متاثرین کی تذلیل کررہا ہے ،ڈی سی دیامر دلدار ملک گورنر بنا پھرتا ہے اورمتاثرین کے مسائل حل کرنے کی بجائے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت گوہر آباد کی عوام کو ذلیل و رسوا کرنے پر تلا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کیڈٹ کالج گوہر آباد کے ساتھ طے شدہ میٹنگ کو ڈی سی دیامر نے پھر ملتوی کر دیا ہے جبکہ متاثرین کئی دنوں سے ڈی سی دفتر کے دروازے پر خوار ہوررہے ہیں اور آج تنگ آکر طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لیکر متاثرین کیڈٹ کالج کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں کرنا چاہتی ہے اگر یہی رویہ جاری رہا تو کیڈٹ کالج کا کام بند کردیا جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ 14 جنوری کو کیڈٹ کالج کے حوالے سے میٹنگ ہو گی اور آئندہ کا لحہ عمل طے کرینگے جس میں ٹھکیدار کو نوٹس جاری کر دیا جائے گا اور باقاعدہ طور پر کام بند کروا دینگے اور کالج کی زمین کو آپس میں تقسیم کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا اگر ہمارے مطالبات پر سو فیصد عمل درآمد نے ہوا تو اربوں کی زمین کالج کو دینے کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ مزید قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈی سی دیامر نے مقامی کمیٹی کے ساتھ وعدہ وعید کر کے کام جاری کرا یا تھا لیکن اس کے بعد ایک مہینہ گزر گیا معاہدہ تو دور کی بات لوگوں کو دفتر بلاکر مطمئن کرنے کی بجائے رفو چکر ہو جاتا ہے آج بھی گوہر اباد کی کمیٹی کو دور دراز سے بلا کر خود غائب ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نااہل ڈی سی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور کیڈٹ کالج کے متاثرین کے ساتھ مذاق کررہا ہے اور متاثرین کو انسان ہی نہیں سمجھ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 14 جنوری کو کیڈٹ کالج کا تعمیراتی کام بند کردیں گے ،جس کی زمہ داری ڈی سی پر عائد ہوگی۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*