تازہ ترین

اسلام آباد: آئینی اصلاحاتی کمیٹی نے گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل اور گلگت بلتستان کے عوام کو مزید با اختیار بنانے کے حوالے سے حتمی سفارشات وزیر اعظم کو پیش

اسلام آباد: پھسو ٹائمزاُردُو : راشد ارشد

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور گلگت بلتستان کے عوام کی کوششیں رنگ لے آئیں اور مسلم لیگ ن ایک اور وعدے کی تکمیل کی طرف رواں دواں ۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں گلگت بلتستان کے حوالے سے آئینی اصلاحاتی کمیٹی کا حتمی اجلاس ،سفارشات وزیر اعظم کو پیش ،اجلاس میں وزیر اعلی گلگت بلتستان، وزیر اعظم آزاد کشمیر ، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان برجیس طاہر،وزیر قانون بیر سٹر ظفراللہ خان،سرتاج عزیز اور ڈی جی ایم او کے علاوہ دیگر اعلی حکام کی شرکت ،اجلاس میں سرتاج عزیز کی سربراہی میں گلگت بلتستان کے حوالے سے آئینی اصلاحاتی کمیٹی نے گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل اور گلگت بلتستان کے عوام کو مزید با اختیار بنانے کے حوالے سے حتمی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کیں ،جس پر تمام سٹیک ہولڈر کا اتفاق ہوا ،سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش ہوں گی ،وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اسمبلی ایکٹ کی منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں جائیں گی جہاں سے منظوری کے بعد گلگت بلتستان کے حوالے سے آئینی اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات کوقانونی حیثیت حاصل ہوگی اور گلگت بلتستان کے عوام کومزید با اختیار کر دیا جائے گا واضح رہے کہ 28جولائی2017کو آئینی اصلاحاتی کمیٹی کا اجلاس اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہونا تھا گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کے حوالے سے یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل تھا لیکن اسی دن پانامہ کیس کا فیصلہ آگیا اور یوں آئینی اصلاحاتی کمیٹی بھی ختم ہو گئی تھی لیکن وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی کوششوں سے آئینی کمیٹی کو فعال کیا گیا اور کئی اجلاسوں کے بعد حتمی اجلاس میں گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کے حوالے سے حتمی سفارشات تمام سٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بعد وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی یوں کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا اور اب آنے والے کابینہ اجلاس سے منظوری کے بعد اسمبلی سے بھی منظوری ہوگی اور یوں گلگت بلتستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگا۔

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

error: Content is protected !!