تازہ ترین
تصویر اور مواد ایکسپریس نیوز سے

وادی شمشال بے مثال کیوں؟ | تزئین حسن | پھسوٹائمزاُردُو

تزئین حسن

بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ برطانوی تاریخ کے معروف ترین وزیراعظم ونسٹن چرچل کی پہلی عسکری پوسٹنگ موجودہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہوئی، یہاں قیام کے دوران چرچل نے اپنی پہلی کتاب ’مالاکنڈ فیلڈ فورس‘ تصنیف کی جو اصل میں ان کی ڈائری کے اوراق ہیں۔ ہنزہ کے بارے میں چرچل سے یہ بیان منسوب کیاجاتا ہے کہ پورے یورپین پہاڑی سلسلے ایلپس میں6000 میٹر سے بلند اتنی چوٹیاں نہیں جتنی ہنزہ کے چھوٹے سے علاقے میں موجود ہیں

چلئے ! چین کی سرحد سے متصل اسی ’ہنزہ‘ کے سب سے بلند اور دورافتادہ علاقے شمشال چلتے ہیں جسے قدرت نے سات ہزار میٹر سے بلند نو برف پوش چوٹیوں، بے شمار گلیشیرز اور ان گنت حسین پہاڑی دروں سے نوازا ہے مگر اس خطے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں2003ء تک سڑک نہیں پہنچی تھی، یہاں کے باشندوں کو قریب ترین قصبے یعنی ’پھسو‘ تک پہنچنے کے لئے بھی انتہائی دشوار گزار اور پْرخطر علاقے میں اپنی کمر پر40کلوگرام تک وزنی سامان لادکرتین دن کاسفرکرنا پڑتا تھا۔

یہ خطہ اور اس کے باشندے بہت سی وجوہات کی بنا پر ’بے مثال‘ کہلانے کے لائق ہیں۔ انھوں نے محدود وسائل کے باوجود ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ ہر پاکستانی کو ان پر فخر ہے۔ مثلاً مائونٹ ایورسٹ تک پہنچنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ثمینہ بیگ کا تعلق بھی شمشال سے ہے، پاکستان کی پہلی کوہ پیما خاتون فرزانہ جبیں جنہوں نے ثمینہ بیگ سے بھی برسوں پہلے ایک 6050 میٹر اونچی چوٹی ’پھسو پیک‘ تسخیر کی، کا تعلق بھی یہاں سے ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی چوٹی’ کے ٹو‘ تسخیرکرنے والے چھ پاکستانیوں میں سے تین کا تعلق شمشال سے ہے جن میں سے ایک افضل علی ہیں جنھوں نے ’کے ٹو‘ کو دو مرتبہ سر کیا۔

ہنزہ کی اس سب سے بلند وادی میں ہمالیائی یاک گھروں میں مویشیوں کی طرح بندھے ہوئے نظر آئیں گے، یہ سطح سمندر سے تین ہزار میٹر بلند ہے، یہاں کا رقبہ تقریباً 3800 مربع کلومیٹر ہے یعنی کراچی کے کل رقبے کے تقریباً برابر لیکن آبادی صرف1800۔ سردیوں میں درجہ حرارت منفی اٹھارہ ، کبھی اس سے بھی زیادہ گر جاتا ہے۔ اس وادی کی طرف جانے والی موجودہ سڑک کی تعمیر پر شمشالی اللہ تعالیٰ اور حکومت پاکستان کا بہت زیادہ شکر ادا کرتے ہیں مگریہ سڑک دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے جو دور سے پہاڑوں سے چپکی ہوئی ایک لکیر کی طرح نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے باسی متحرک اور ’اپنی مدد آپ‘ کی سوچ رکھنے والے ہیں۔

اسی اصول کی بدولت پاکستان کے دوسرے بلند خطوں کے مقابلے میں شمشالیوں کا معیار زندگی بہت بہتر ہے۔ آج یہاں تقریباً ہرگھر میں بجلی حاصل کرنے کے لئے سولر پینل موجود ہے، موبائل، ٹیلیفون، میٹرک تک لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکولز، ہسپتال اورانٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ میٹرک کے بعد عموماً نوجوان لڑکے لڑکیاں گلگت یا پاکستان کے کسی دوسرے خطے میں اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ یہاں کے لوگ آج بھی کھیتی باڑی اور مویشیوں کے ذریعے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ سڑک بننے سے پہلے لوگ اپنے کپڑے، جوتے، حتیٰ کہ مکانات بھی خود تعمیر کرتے تھے۔ ماضی قریب میں یہاں مختلف پیشوں مثلاً درزی، موچی، تعمیراتی مزدوروں، نائیوں کا یہاں تک کہ کسی دکان کا بھی کوئی وجود نہیں تھا۔

یہاں کے ایک باسی افضل کریم کینیڈا کے شہر وینکوور میں رہائش پذیرہیں۔ وہ شمشال ہی میں پیدا ہوئے اور وہیں مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی قریب تک یہاں بارٹر سسٹم رائج تھا یعنی کرنسی نوٹوں کا رواج نہیں تھا، لوگ اشیاء اور خدمات کا ایکسچینج کرتے تھے۔ افضل کا کہنا ہے ’’ یہاں کے بڑے بوڑھے آج بھی نوٹوں کے حساب کتاب سے پوری طرح واقف نہیں۔‘‘

کچھ عرصہ پہلے تک سال کے آٹھ مہینوں میں بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم یہ لوگ اس لئے بھی منفرد ہیں کہ یہ پاکستان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ رحمت اللہ بیگ پاکستان کی پہلی کوہ پیما خاتون فرزانہ جبیں کے بھائی ہیں اور خود بھی کوہ پیما ہیں، وہ2014ء میں پاکستانی کوہ پیمائوں کی پہلی ٹیم کے ساتھ ’کے ٹو‘ پہاڑ کو سر کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’پاکستان ہے تو ہم ہیں‘‘۔ 1976ء تک یہ علاقہ ’میرآف ہنزہ‘ کا باجگزار تھا، مقامی باشندوں نے اس دور میں شدید ظلم و استبداد کا سامنا کیا، اسی لئے یہ پاکستانی حکومت کے بہت ممنون ہیں جس نے ہنزہ کی ریاست کا الحاق پاکستان سے کرکے انھیں میروں کے ظلم سے نجات دلائی۔

اس دور میں شمشال کے باشندوں کو تاوان کے طور پر نمک کا بوجھ اٹھا کر شمشال سے ہنزہ کا طویل سفر طے کرنا پڑتا اور میروں کے کہنے پر چین اور انڈیا کے درمیان تجارتی کاروانوں کو بھی لوٹنا پڑتا تھا۔ رحمت اللہ خان کے والد شمبی خان جو اپنے گائوں کے نمبردار ہیں،کا کہنا ہے’ ہنزہ کے میر تاوان کے طور پر شمشال کے لوگوں کو درہ شمشال کے ذریعے چین میں یارقند اور لیہ کے درمیان سفر کرنے والے قافلوں کو لوٹنے کے لئے بھیجتے‘۔ کم از کم ایک ایسی مہم کا تذکرہ برٹش انڈیا کے ریکارڈ میں بھی ملتا ہے۔ یہی لوٹ مار بظاہر برٹش انڈیا کی تاریخ کے اہم ترین مہم جو سر فرانسس ینگ ہزبینڈ کی 1887ء یا1888ء میں شمشال آمد کا سبب بنا۔ میروں کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد شمشالی خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں۔ رحمت اللہ کا کہنا ہے:’’پہلے ہم میروں کے لئے جیتے تھے اب ہم خود اپنے لئے جیتے ہیں۔‘‘

وخی شناخت
سن 1999کے اعداد و شمار کے مطابق شمشال آبادی گیارہ سو کے قریب تھی جواب تقریباً اٹھارہ سو ہوچکی ہے۔ یہ آبادی چاردیہاتوں میں تقسیم ہے۔ یاد رہے کہ شمشالی ہنزہ میں بولی جانے والی زبان بروشسکی نہیں بولتے، یہ واخی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور واخی زبان ہی بولتے ہیں، مذہبی عقائد کے لحاظ سے اسماعیلی ہیں۔ واخی نسل کے لوگ گلگت بلتستان کے علاقے گوجال اور چترال کے علاوہ افغانستان کے صوبہ بدخشاں، چینی یا مشرقی ترکستان یعنی موجودہ سنکیانگ اور جنوبی تاجکستان میں تقسیم ہیں۔

واخی ثقافت کی ابتدا تو پاکستان اور تاجکستان کے بیچ افغانستان میں واخان کی پٹی سے ہوتی ہے لیکن واخی لوگ چینی ترکستان اور پاکستان میں اپنی الگ ثقافت رکھتے ہیں۔2003ء میں سڑک کی تکمیل سے پہلے باقی دنیا سے عملی طور پر کٹا ہوا ہونے کی وجہ سے یہاں کی واخی زبان اور تہذیب بہت حد تک اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے۔ افضل کا کہنا ہے:’’واخی زبان جس خطے میں بھی بولی جاتی ہے وہ وہاں کی مقامی زبانوں سے متاثر ہوئی ہے مثلاً تاجکستان اور بدخشان میں فارسی یا دری، پاکستان میں اردو اور بروشسکی، اس زبان پر اثر انداز ہوئی ہیں۔‘‘

شمشال کوہ پیمائوں کی وادی
شمشال کو کوہ پیمائوں کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔ رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کی تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے جانتے ہیں،مائونٹ ایورسٹ کے مقابلے میں قراقرم کی چوٹی ’کے ٹو‘ تک پہنچنا خاصا مشکل اور پُرخطر ہے، اس کو آج تک صرف 300 لوگوں نے سر کیا اور 77 کوہ پیما ’کے ٹو‘ سر کرنے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس چوٹی کو پہلی دفعہ1954ء میں اٹلی کی ایک ٹیم نے فتح کیاتھا۔ اطالوی آج تک پیار سے’کے ٹو‘ کو ’مائونٹین آف اٹالین‘ کا نام دیتے ہیں۔ 2014ء میں اٹلی کے ادارے EVER K2 نے ’ کے ٹو‘ کی ایک ایسی مہم کو سپانسر کیا جس کے سارے ارکان پاکستانی تھے۔ رحمت اللہ بیگ اس مہم میں شامل تھے۔ وہ نہ صرف ’ کے ٹو‘ پر ایک کوہ پیما کے طور پر چڑھے بلکہ انہیں اس کی تازہ ترین پیمائش کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔

شمشالی پاکستان کے شیرپا
شمشالیوں کو پاکستان کا ’شیرپا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ’شیرپا‘ نیپال کے ایک خاص علاقے سے تعلق رکھنے والے قلیوں کو کہتے ہیں جو بلند چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیمائوں کا سامان بیس کمپ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ ہائی ’آلٹی چیوڈ پورٹر‘ بھی کہلاتے ہیں۔ رحمت اللہ بیگ کا کہنا ہے کہ ’کے ٹو‘ پر جانے والی بہت سی غیر ملکی ٹیمیں پاکستانی پورٹرز کے مقابلے میں نیپالی شیر پائوں کو ترجیح دیتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی پورٹرز محنتی اور بہادر ہونے کے باوجود تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ اگر انھیں تربیت دینے کا کوئی انتظام ہو تو دنیا پاکستانی پورٹرز کو ترجیح دے‘۔ تاکہ یہاں پر بیروزگاری کم ہونے کے علاوہ پاکستان کوقیمتی زر مبادلہ بھی حاصل ہو۔ رحمت اللہ، جنہیں خود اطالوی ٹیم نے تربیت دی،کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان میں ہائی آلٹی چیوڈ پورٹرز کے لئے تربیتی ادارہ قائم کریں۔

برٹش مہم جو،گریٹ گیم اور شمشال
برٹش انڈیا اپنے ابتدائی ادوار ہی سے روسی جارحیت اور پیش قدمی سے خائف رہا، اسی خوف نے ’گریٹ گیم‘ جیسی اصطلاحات کو جنم دیا اور اسی نے انگریزی ادب کا پہلا نوبل پرائز حاصل کرنے والے ادیب رڈ یارڈ کپلنگ سے اس کا شہرہ آفاق ناول ’’کم‘‘( KIM )لکھوایا۔ ایک چھوٹے جزیرے سے نکل کر دنیا کے بڑے حصے پر بالادستی حاصل کرنے میں یہ قوم کیسے کامیاب ہوئی، یہ جاننا ہو تو ابتدائی انگریز مہم جوئوں کی پاکستان کے شمال میں موجود کشمیر، گلگت، ہنزہ کی وادیوں، شمشال، سکردو، مشرقی ترکستان کے علاقے یارقند، کاشغر جو آج موجودہ چین کا حصہ ہے، تبت، اور لاحسا جیسے پر صعوبت علاقوں میں مہم جوئیوں کی داستانیں پڑھنا کافی ہیں۔ برطانوی مہم جو یا اصل میں جاسوس دراصل جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور عسکری معلومات کے حصول کے لئے ان علاقوں کا بلکہ دنیا بھر کے مشکلات سے پْر علاقوں کا سفر کرتے رہے۔

ان کا اصل مقصد تاج برطانیہ کو اس کے آئندہ لا ئحہ عمل کے لئے معلومات فراہم کرنا ہوتا تھا۔ یہ ان میں سے بہت سے غیرمعروف علاقوں کو دنیا کے نقشے پر لانے کا سبب بھی بنے۔ سری نگر سے لاتعداد سفر ہنزہ کی وادیوں اور چین کی طرف کیے گئے اور بہت مختلف راستوں سے کیے گئے۔ برطانوی مہم جوئوں نے بے شمار کتابیں لکھ کر ان علاقوں کی تاریخ کو محفوظ کردیا جو ایک بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے ان کتابوں میں اس بات کو راز نہیں رکھا کہ ان کا اصل مقصد برطانیہ کا مفاد تھا۔ بہر حال اپنے وطن کے مفادکے لیے ان کی لگن بلکہ جنون قابل قدر ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو سر سید کی طرح یہی کہنے کو دل چاہتا ہے کہ یہ قوم مستحق تھی کہ اسے یہ مقام حاصل ہو۔

مستاگ پاس
شمشال کی طرف جن لوگوں نے سفر کیا ان میں سر فرانسس کا نام اس لئے سر فہرست ہے کہ انھیں چین کے سفر کے دوران کاشغر میں اس بات کا حکم ملا کہ انڈیا میں لیہ اور چینی ترکستان میں یارقند کے درمیاں جو کارواں گزرتے ہیں ہنزہ کی ایک وادی (موجودہ شمشال) سے اس پر حملہ ہو رہا ہے۔ یارقند سے ہنزہ کا ایک ہی راستہ تھا جسے درہ مستاگ کہا جاتا ہے۔ درہ مستاگ کے ٹو کے دامن میں شاکسگم کے قریب ہے جہاں شمبی خان کے مطابق قافلوں کو لوٹا جاتاتھا۔ شاکسگم اب چین میں شامل ہوگیا ہے۔دنیا کے طویل ترین گلیشیرز کے حصار میں یہ علاقہ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا تھا اور تقریباً پچھلے چالیس سال سے اس راستے پر شمشال، سکردو اور چینی ترکستان کے باسیوں کے علاوہ (جو اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لئے یہ دشوار گزار سفر کرتے)کسی نے سفر نہ کیا تھا۔ فرانسسس نے برطانوی فوج کے احکامات پر نہ صرف درہ مستاگ دریافت کیا بلکہ اپنی حکومت کے لئے چین اور برٹش انڈیا (موجودہ پاکستان) کے درمیان مختصر ترین راستے کو دنیا کے سامنے لایا۔

سن1896ء میں چھپنے والی اسی کتاب’ The Heart of The Continent‘ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ روس، انڈیا اور چین کے سنگم پر پامیر کی پہاڑیوں کا خلاء جو نقشے پر موجود تھا، پْر کرنا چاہتا تھا۔ اس نے درہ مستاگ کو ’ایشیا کا مرکز‘ بھی کہا ہے جہاں اپنے وقت کی تین عظیم سلطنتیں برٹش انڈیا، چین اور روس باہم ملتی تھیں۔ رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ فرانسس مستاگ کراس کرکے شمشال میں درہ شمشال کے ذریعے داخل ہوا۔ یہ بات واضح رہے کہ شمشال پاس پھسو سے شمشال کے درمیان نہیں بلکہ شمشال سے مزید آگے چین کی سرحد کی طرف ہے۔ اسی کے ذریعے اہل شمشال اپنے مویشیوں کو موسم گرما کی چراگاہوں میں پامیر کے پہاڑوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ جہاں تک ’درہ مستاگ‘ کے ذریعہ چین پہنچنے کا سوال ہے آج کل یہ راستہ نہ صرف بند ہے بلکہ رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ اس راستے سے چین جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

شمشالی چرا گاہوں کا پاکستانی سرحدوں میں توسیع کی وجہ بننا
شمشال کی آبادی جو صرف رحمت کے مطابق 1800 نفوس پر مشتمل ہے، کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ ان کی وجہ سے تین ہزار مربع کلومیٹرکا یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بنا۔ جناب مستنصر حسین تارڑ کے مطابق جنرل ایوب خان نے اپنی یادداشتوں میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ چین کے ساتھ سرحدوں کے تعین کے لئے ہونے والے مذاکرات میں ہم نے چینیوں کو بتایا کہ یہ ساری چراگاہیں اہل شمشال کے زیر استعمال رہتی ہیں اور انکی بقا کے لئے ناگزیر ہیں۔ اگر انہیں چین میں شامل کردیا گیا تو یہ لوگ اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو جائیں گے۔ چینیوں نے سنکیانگ کے صوبے سے جسے مشرقی ترکستان بھی کہا جاتا تھا، معلومات کرکے پاکستان کے دعوے کو تسلیم کیا، یوں یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔

شمشال کی جنگلی حیات اورمویشی
شمشال اس لئے بھی ’بے مثال‘ ہے کہ یہاں ’یاک‘ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔1999ء میں پوری وادی میں ایک ہزار یاک تھے۔ اس کا گوشت اور دودھ کھانے پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے سواری اور بار برداری کاکام بھی لیا جاتا ہے۔ یہاں مار خور، مارکو پولو بھیڑ، آئی بیکس یعنی پہاڑی بکرا اور بلوشیپ بھی بڑی تعداد میں ہیں جوساری دنیا میں کم یاب ہیں۔

شمشال اس لئے بھی بے مثال ہے کہ یہاں کے لوگ جنگلی حیات کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں۔ افضل کریم کا کہنا ہے کہ شمشال کے لوگ فطرت کا مذہبی عقیدے کی طرح احترام کرتے ہیں، جانوروں کے بے دریغ شکار سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایک وقت میں ایک ہی جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور اسے عام طور سے سارے گائوں میں بانٹا جاتا ہے۔ اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ شکار ہونے والا جانور حاملہ یا بچوں کی ماں نہ ہو۔

اگر کوئی مویشی اپنے نوزائیدہ بچے کو دودھ نہ پلائے تو اس مویشی کو واخی زبان میں ایک طرح کا گانا سنایا جاتا ہے۔ افضل کا کہنا ہے کہ اپنے بچپن میں انہوں نے خود اس گانے کا اثر دیکھا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مختلف جانوروں سے بات چیت اور پیار کا اظہار کرنے کے لئے ایک ہی طرح کے الفاظ استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ ہر جانور سے گفتگو کے لئے واخی زبان میں الگ الگ الفاظ ہیں۔

سیاحت اور کوہ پیمائی میں ترقی
جون 2013ء میں نانگا پربت روپال فیس کے بیس کیمپ پرغیر ملکی کوہ پیمائوں کے قتل کے سانحہ کے بعد سے حالیہ دنوں میں پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں اور کوہ پیمائوں کی آمد عملی طور سے ختم ہو گئی ہے لیکن رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مقامی سیاحت پچھلے دس سال میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ بہت بڑی تعداد میں پاکستانی سیاح شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے لئے آتے ہیں۔ ان میں محض سیروسیاحت کرنے والے بھی ہوتے ہیں، ٹریکنگ ، ہائیکنگ اور کلائمبنگ کے شوقین بھی۔ رحمت اللہ بیگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کوہ پیمائوں کی تربیت کا کوئی ادارہ موجود نہیں،کوئی ایسا ادارہ بھی نہیں ہے جو پاکستانی کوہ پیمائوں کی مہمات آرگنائز کرے۔ ’الپائن کلب آف پاکستان‘ نے ایک زمانے میں تربیت کا کچھ انتظام کیا تھا مگر اب وہ بھی غیر فعال ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈین فلمی اداکاروں کی چھوٹی چھوٹی خبروں کو بریکنگ نیوز کا درجہ دینے والے پاکستانی ٹی وی چینلوں نے ’کے ٹو‘ سر کرنے والی پاکستانی ٹیم کا انٹرویو نہیں کیا، اخبارات میں بھی ایک آدھ کو چھوڑ کر صرف گلگت بلتستان کے لوکل اخبارات نے ہمارے انٹرویوز کی اشاعت کی۔ اس صورتحال میں ہم پاکستان میں کوہ پیمائی کے مستقبل کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں۔

’شمشالی‘ دنیا میں
افضل کا کہنا ہے کہ شمشال کے چھوٹے سے مختصر آبادی والے خطے سے نکل کر یہاں کے کچھ باشندے کراچی، لاہور سمیت ملک کے دیگر علاقوںکے علاوہ دبئی، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، تھائی لینڈ، اور افغانستان تک پہنچ چکے ہیں۔ افضل کریم خود بھی مڈل کے بعد گلگت چلے گئے تھے۔ بعد ازاں وہ کراچی میں ایک ہوٹل میں کام کرتے رہے جہاں اکثر ایران سے آئے ہوئے ہزارہ کمیونٹی کے تاجر قیام کرتے تھے۔

انھیں انگریزی پر عبور اور محنتی ہونے کی وجہ سے متحدہ عرب امارت کی ایئر لائن میں ملازمت ملی۔ پھر کینیڈا کے خوبصورت ترین شہر وینکوور میں وہ سیاحوں کوگائیڈ کرتے رہے،2010 ء کے ونٹر اولمپکس میں بھی خدمات انجام دیں۔ کینیڈا کا یہ علاقہ بھی خوبصورت پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ افضل اْن چندگنے چنے شمشالیوں میں سے ایک ہیں جو ہزاروں میل دور رہ کر بھی اپنے دیس سے محبت اور انسیت کا رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ واخی زبان میں شاعری کرتے ہیں اور ایسے الفاظ کو اپنی شاعری میں شامل کرتے ہیں جو ختم ہو رہے ہیں۔ اس طرح یہ کینیڈا میں رہ کر اپنی زبان کی ترویج کا قابل قدرکام انجام دے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی شاعری کے ذریعہ شمشال میںگزرے ہوئے تمام خوبصورت لمحوںکو محفوظ کررہے ہیں جب وہاں سڑک، بجلی اور میڈیا تک رسائی نہیں ہوتی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کینیڈا آ کر اپنے وطن کی محبت ان کے دل میں اور بھی بڑھ گئی ہے۔

پاکستان میں شمولیت
شمشالیوں کا حکومت پاکستان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ اس علاقے کو پاکستان میں شامل کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے گلگت بلتستان کو الگ صوبہ کی حیثیت تو دیدی مگر کشمیر کے ساتھ متنازعہ علاقہ قرار دیئے جانے کی وجہ سے اب تک اس صوبے کو آئینی حیثیت نہیں دی گئی ہے جو پورے صوبے کے باشندوں کا اجتماعی مطالبہ ہے۔ یاد رہے کہ ہنزہ کے لوگوں کا کہنا ہے’ ہم نے لڑ کر اپنے علاقے کو انڈیا سے آزاد کروایا ہے جبکہ باقی پاکستانیوں کو بغیر لڑے اپنا علاقہ مل گیا پھر بھی وہ پاکستانی کہلاتے ہیں جبکہ دنیا ہمیں پاکستانی نہیں مانتی‘۔

نوموس …شمشالیوں کا ایک منفرد نظام
شمشال کے لوگوں کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہاں صدیوں سے اپنی مدد آپ کا ایک نظام چلا آ رہا ہے جسے ’نوموس‘ کہا جاتا ہے۔ افضل کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت اگر کوئی اپنے فوت شدہ رشتے داروں کے لئے ثواب کی غرض سے صدقہ جاریہ کرنا چاہے تو وہ پروجیکٹ کے میٹریل کا خرچہ اٹھاتا ہے اور گائوں کے سارے لوگ مفت اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ ’نوموس‘ شروع کرنے والا اس کا اعلان کرتا ہے اور رضاکاروں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت شمشال کے لوگ اسکول، مفاد عامہ کے لئے عمارتیں، پل، مویشیوں کو ٹھہرانے کے لئے چھپراور عبادت گاہیں تعمیر کرتے ہیں۔

افضل کے مطابق ’’ماضی قریب تک خوراک کا ایک عوامی ذخیرہ بھی گائوں میں رکھا جاتا تھا کہ اگر کسی ضرورت مند کو غذا کی ضرورت پڑے تو اسے فراہم کی جاسکے۔ یہاں تک کہ پھسو سے شمشال جانے والی سڑک بھی بہت حد تک اسی جذبے سے تعمیر کی گئی ہے۔ پہلے یہ سڑک ’آغا خان رورل سپورٹ پروگرام‘ کے تحت شروع کی گئی مگر فنڈزکی کمی کے با عث کام رک گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی مزدوروں نے نوموس کی روایت کے مطابق سڑک بنانے کے لئے ’آغا خان پروگرام‘ سے کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ آغا خان کی طرف سے پروجیکٹ معطل ہوا تو پاک آرمی نے اسے ٹھیکے پر دیدیا۔ ٹھیکے داروں نے کہیں شمشالی مزدوروں کی تنخواہیں ادا کیں، کہیں نہ کیں مگر شمشال کے لوگوں نے خوشدلی سے سڑک کی تعمیر کا کام جاری رکھا۔ رحمت اللہ کا کہنا ہے:’’ہمیں معلوم تھا کہ سڑک بنے گی تو خوشحالی آئے گی۔‘‘

پھسو تک جانے والے راستے میں اسی نوموس کی روایت کے تحت مسافروں کے لئے لکڑی کے کمرے ہی نہیں وہاں سامانِ خورو نوش اور گرم بستروں کا انتظام بھی کیاگیا ہے۔ یہاں سے گزرنے والے مسافر یہاں مفت میں ٹھہر بھی سکتے ہیں اور سامان خورو نوش بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ 2003ء میں پھسو سے شمشال تک روڈ بن جانے کے بعد عام طور سے لوگ گاڑیوں کے ذریعے ہی یہاں کا سفر کرتے ہیں مگر اس سے پہلے یہ سہولت ایک بہت بڑی نعمت تھی۔

مستنصرحسین تارڑ اور ’شمشال بے مثال‘
جناب مستنصرحسین تارڑ نے 1999ء میں (جب کارگل کا معرکہ اپنے عروج پر تھا) شمشال کا سفرکیا اور ’شمشال کو بے مثال‘ کہا اور اسی نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب سے پہلے ایک عا م پاکستانی شاید ہی شمشال کو جانتا ہو۔ ان کے بیان ہی سے پتہ چلتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوںکی اکثریت بھی کبھی شمشال نہیں گئی تھی۔ اس وقت شمشال تک سڑک مکمل نہیں ہوئی تھی اور علاقہ بہت حد تک اس خطے کی قدیم تہذیب کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس طرح دیگرپاکستانی شمالی خطوں کی طرح شمشال کی سیاحتی ترقی میں بھی تارڑ صاحب کا بہت کردارہے۔

مستنصر حسین تارڑ نے شمشالی اسکول کا بھی دورہ کیا اور بچوں کی تعلیم میں مختلف موضوعات پر بحث اور مباحثے کے کردار اور فطرت کی تسخیر کا نصاب کے طور پر تذکرہ بڑی دلچسپی سے کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے قومی ترانے کا احترام اور اسکول میں اقبال کی نظم ’ لب پر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ اسمبلی میں پڑھے جانے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ماموں سنگھ کے قدیم گھر میں ایک میوزیم کا بھی تذکرہ کیا جہاں چینی ظروف، کپڑا بننے والی کھڈی اور دوسرے سامان سے پتہ چلتا تھا کہ قدیم دور میں بھی یہ دورافتادہ علاقہ تہذیب یافتہ تھا۔ رحمت اللہ کا کہنا ہے ’آج یہ گھر اس کے مالک نے مسمار کر دیا ہے‘۔ سڑک بن جانے کی وجہ سے1999ء اور آج کے شمشال میں زمیں آسمان کا فرق ہے۔ رحمت اللہ کا کہنا ہے: ’’آج ہم ضروری سودا سلف گاڑیوں میں رکھ کر عزت کے ساتھ شمشال لے جاتے ہیں۔‘‘

شمشال سے متعلق تاریخی روایات
اس قدر دور افتادہ علاقے میں آبادی کیسے ہوئی؟ لوگ گلگت بلتستان کے اتنے بڑے رقبے کو چھوڑ کر ایسے دور افتادہ علاقے میں کیوں جا بسے جہاں سے نکلنے کے لئے تین دن کا پیدل سفر انتہائی دشوار گزار پر خطر راستے پرکرنا پڑتا تھا۔ اس حوالے سے مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔ افضل بڑی دلچسپ کہانی سناتے ہیں، آٹھ سو سال قبل ان کے جد امجد جن کا نام ماموں سنگھ تھا، نے افغانستان کے شاہی خاندان کی ایک لڑکی’ خدیجہ‘ کو بھگا کر شادی کی اور پکڑے جانے کے خوف سے اس طرف آ نکلے۔کچھ عرصہ شمشال نالے میں گزارا پھر باہر نکل کر دیکھا تو یہاں آبادی کے آثار پائے، کھیت،کھلیان اور نہری نظام۔کچھ روایتوں کے مطابق مکانات بھی تھے، چنانچہ انھوں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ مکانات، کھیت اور نہری نظام غالباً کرغیزستان سے آنے والے خانہ بدوشوں کی بدولت تھا۔ مذکورہ کہانی کچھ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ شمشال کے مختلف باشندے بیان کرتے ہیں۔

کہانی کے مطابق ماموں سنگھ کی شہزادی بیگم اس سخت اور مشکلات بھری زندگی سے خوش نہ تھی اور انہیں ’شن‘ یعنی ظالم کہہ کر مخاطب کرتی۔ اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ ایک دن افغانستان کے علاقے بدخشاں سے ایک بزرگ اِدھر آ نکلے۔ خدیجہ نے ان کے احترام میں اپنا دوپٹہ بچھایا تو انھوں نے اسے خوشحالی کی دعا دی۔ اسی وقت خدیجہ نے اپنے شوہر کو اس کے نام سے پکارا، یوںاِس جوڑے کے خراب تعلقات بہتر ہوگئے۔کچھ عرصہ بعد ان کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام انھوں نے’شیرخان‘ رکھا۔ شیرخان جوان ہوا تو اس نے چین سے آنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ پولو کھیلی۔ کہتے ہیں چینی گھوڑوں پر سوار تھے اور شیر خان یاک پر۔

ایک اور روایت کے مطابق چین سے آئے گھڑسواروں نے ماموں سنگھ کے بیٹے شیر خان سے کہا :’’ اگر تم نے ہمیں پولو میں ہرا دیا تو یہ سارا علاقہ تمہارا ہے۔ جیت جانے پر چین کی سرحد تک کی تمام چراگاہیں شمشالیوں کی ملکیت ہو گئیں۔ یاد رہے کہ شمشالی جون سے لے کر اکتوبر تک اپنے مویشی شمشال پاس کے ذریعے پامیر کے پہاڑوں میں واقع چراگاہوں میں لے جاتے ہیں۔ رحمت اللہ کے مطابق ’پامیر کی بلندیوں پر ہر شمشالی خاندان نے اپنی ہٹ بنا رکھے ہیں جہاں یہ چرواہے چار مہینے قیام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر52 ہٹس یعنی لکڑی کے کمرے وہاں موجود ہیں۔

About Passu Times

One comment

  1. پھسو ٹائمز ویب میڈیا نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*