تازہ ترین

“خوش آمدید آغا خان- اسماعلی نہیں ہوں مگر ان کی آمد پہ دل خوش بہت ہے | فرنود عالم | پھسوٹائمزاُردُو

 “خوش آمدید آغا خان”: تحریر  فرنود عالم

اسماعیلی فرقہ ایک مسلم فرقہ ہے۔ آغا خان جیسے منصب کی نسبت سے آغاخانی بھی کہلاتے ہیں۔ ملک بھر میں ہیں۔ ہر شعبے میں ہیں۔

تعلیم پر ایمان رکھتے ہیں۔بھائی چارگی پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی عقل و ذہانت پہ شک نہیں کرتے۔ دور شمال کے پہاڑوں میں کیوں نہ ہوں، خواتین کو بااختیار رکھتے ہیں۔

ان کی عبادت گاہیں پرسکون ہوتی ہیں۔ ان کے واعظوں کے بول ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں جیسے ہوتے ہیں۔ دھیما بولتے ہیں۔ خدا کے لہجے میں اس کے بندوں کو مخاطب نہیں کرتے۔ خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے۔

روایت کچھ بھی ہو، یہ لاوڈ اسپیکر کا ناجائز استعمال نہیں کرتے۔ ان کے جذبات میٹھے چشمے جیسے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کے جذبات مجروح نہیں ہوتے۔ گستاخ اور غدار جیسے الفاظ ان کی لغت میں نہیں ہوتے۔

ان کی عبادت گاہ کسی پسماندہ علاقے میں کیوں نہ ہو، چپل چوری نہیں ہوتی۔ پانی کے کولرکو زنجیر سے نہیں باندھتے۔ عبادت گزاروں کے جوتے ایک دوسرے کی گردن پہ سوار نہیں ہوتے۔ بیت الخلاوں میں دم نہیں گھٹتا۔ بیت الخلا کی دیواروں پر دشنام و فتوے درج نہیں ہوتے۔ آوازیں اونچی نہیں ہوتیں۔ محراب سے دھواں نہیں اٹھتا۔

عبادت گاہ سے نکلتے ہیں تو اسکاوٹ کی پیروی کرتے ہیں۔ جب تک ساری گاڑیاں گزر نہ جائیں سڑک پار نہیں کرتے۔ ان کا ماننا ہے کہ عبادت گاہ کے باہر کسی عبادت گزار کی وجہ سے اگر ٹریفک میں خلل آیا تو اس عبادت گزار کی ساری عبادت غارت ہوجاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ احتجاج نہیں کرتے۔ سڑکیں بلاک نہیں کرتے۔ دھمکیاں نہیں دیتے۔ بیچ سڑک مذہبی یا علاقائی رسومات ادا نہیں کرتے۔ حقوق کے مطالبے نہیں کرتے بلکہ حقوق کے لیے اہلیت پیدا کرتے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ تعلیم، محنت، دیانت، صبر، حکمت، تدبیر اور صنفی مساوات کو یقینی بنایا جائے تو منزل آپ کے تلاش میں نکل جاتی ہے۔ اگر آپ کسی کا حق نہ ماریں تو آپ کا حق کہیں نہیں جاتا۔

ان کے ہاں احترام اور رواداری کا تصور یہ نہیں ہے کہ کوئی ہماری تحقیر نہ کرے، احترام اور رواداری کاتصور یہ ہے کہ ہم کسی کی تحقیر نہیں کریں گے۔ اچھا اسماعلی ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اپنی تعلیمات سے محبت کی جائے۔ یہ قطعا ضروری نہیں کہ دوسروں کی تعلیمات کو باطل کہا جائے۔

غرض !

انہوں نے جس خدا کا تصور کیا ہے وہ کسی مطلق العنان حاکم جیسا نہیں ہے، وہ کسی سماجی رہنما جیسا ہے۔ اسی لیے یہ خدا سے خوفزدہ نہیں ہوتے بلکہ خدا سے پیار کرتے ہیں۔ خدا سے پیار کا اظہار کرنا ہو تو حضرت انسان کا احترام کرتے ہیں۔

اسماعیلی روحانی پیشوا پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ان دنوں چترال کے دورے پہ ہیں۔ اسماعلی نہیں ہوں مگر ان کی آمد پہ دل خوش بہت ہے۔

خوش شدم بسا خوش شدم ز آمدنت !

About Passu Times

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*