تازہ ترین

معلم اور اس کے چار پیز Teacher and 4Ps|تحریر حسین علی شاہ | پھسو ٹائمز اُردُو

اگر آپ ایک استاد ہیں چاہے آپ کا تعلق درس و تدریس کے شعبے میں کسی بھی سبجکٹ سے ہوچاہے آپ سکول میں پڑھایئں، کالج میں یا پھر یونیورسٹی میں، مدرسے میں پڑھاہیں یا آپ کوئی ہوم ٹیوشن دیتے ہوںآپ کو چار پیز (4 Ps) کا خیال رکھبا بہت ضروری ہوتا ہے۔ گو کہ میرا تعلق درس و تدریس کے شعبے سے نہیں آلبتہ کچھ قابل احترام اساتذہ سے گپ شپ میں یہ باتیں سامنے آئی تھی جو میں لکھ رہا ہوں۔

۔1 Preparation

اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ اس ٹاپک کو خوب رٹہ لگا کے یاد کرکے جائیں جس کی کلاس ہے یا پریزنٹیشن ہے اور ایک جھٹکے میں سارا پڑھا کے اور کل کے لئے نوٹس بنوا کے چلے آیئں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کوئی صاف ستھرا ڈریس کا انتخاب کریں جو بہت مہنگا نہ ہو اور ایسا بھی محسوس نا ہو کہ آپ استاد نہیں ادارے کے چوکیدار ہو۔ جوتے جو بہت مہنگے نا ہو سستے بھی ہو لیکن صاف ہو۔ اپکے بال بکھرے ہوئے نا ہو جیسے آپ کسی سے لڑ کے آئے ہوں یا پھر آپ کو کوئی بیماری لگی ہو. آپ کے بال ٹھیک ہونا چاہیں۔

2. Personality

اس پوائنٹ کو عموماََ ہم شکل و صورت، بال جسامت اور پہباوے کے ذمرے میں لاتے ہیں لیکن اس سے مراد یہ بالکل بھی نہیں ہے۔ اس سے مراد آُ کی بوڈی لینگویئج، جس سے سامنے سننے والے کو آپ پر مکمل اعتماد آجائے آپ کے چہرے کے تاثرات، اگر آُپ کے چہرے کے تاثرات آپ کی زبان کا ساتھ نہیں دیتے ہیں تو سننے والے کو جھوٹ لگے گا اور آپ نا تو صیح طرح سمجھا سکیں گے اور نا ہی بچے آپکو صیح طرح سمجھ سکیں گے۔ اپکا آئی ٹو آئی کنٹیکٹ ہونا چاہیں جب آپ کوئی بات سمجھا رہیں تو آپ کی بظر آپ کے بچوں پر ہونی چاہیں اگر آپ کسی بچے کو غیر مطمعن محسوس کرتے ہو تو اس کو آپ مزید تفصیل سے سمجھا سکتے ہو جس سے باقی کلاس کو بھی اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی۔ آپکا رویہ آپ کے بچوں کے ساتھ غیرمعمولی ہونا چاہیں۔ ایسا لگے کہ آپ انکے استاد ہیں اور آپ انکو کوئی نئی بات سمجھا رہے ہیں جو ان کے لئے بہت فائدے کی ہے۔

۔3 Presentation

اس اسٹیج پر آپکو اپنی قابلیت کی ضرورت پڑے گی۔ آپ جس ٹاپک پر تعلیم دے رہے ہیں آپکو اس ٹاپک پر مکمل عبور حاصل ہونا چاہیں۔ آپ کو اس مضمون میں رومرہ کی دینا سے ہی مثالیں دیں آپ ایک نوٹ کا یا نوٹ بک بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں آُپ اس مضمون کے حوالے سے اہم نکات نوٹ کرکے اپنے طالب علموں کو بتا سکتے ہیں۔ تاکہ لیکچر دیتے وقت آپ اہم باتیں بھول نا جائیں اپنے بچوں کو سوالات کرنے کا موقع دے دیں اور انکے سوالات کا صیح جواب دیں اگر آپ کو کسی سوال کا جواب نہیں آتا ہے تو ان کو بھی کہیں آپ بھی دیکھ آجاو میں بھی کل اسکو دیکھ کے آتا ہوں۔ کبھی بھی جھوٹ کا سہارا مت لیں۔ اور نئے ٹاپک کو شروع کرنے سے پہلے پچھلے دن کے ٹاپک کو 5 منٹ سرسری ڈسکس کریں تاکہ بچوں کی میموری میں یہ مکمل طور پر بیٹھ جائے۔ اکثر اوقات طالب علم ایک گھنٹے کی لیکچر سے کم 5 منٹ کی ڈسکشن سے زیادہ سیکھتا ہے۔

۔ 4 Punctuality

گوکہ وقت کی پابندی زندگی کے ہر شعبے میں بہت ضروی ہے لیکن اگر آپ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں تو آپ پر لازم ہوتا ہے کہ آپ وقت کا خاص خیال رکھیں۔ جس وقت آپ کی کلاس شروع ہوتی ہے ٹھیک اسی وقت آپ کلاس میں چلے جائیں۔ اور بغیر اپنا وقت ضائع کئے آپ اس ٹاپک پر پڑھانا شروع کریں جس پر آپ نے تیاری کی ہے۔ اور ٹھیک اسی وقت آپ کلاس سے فارغ ہو جائے جب آپ کا ٹائم ختم ہوجاتا ہے۔ ایکسٹرا ٹائم آپ ایک ہی ٹاپک پر لیں گے تواسٹوڈنٹس بور ہوجائینگے اور پھر جو پہلے سیکھا ہے وہ بھی بھول جائینگے۔ اگر ٹاپک ضروری ہے اور آپکو اسی دن ہی اس کو مکمل کرنا ہے تو 10 منٹ کا بریک ضروری کریں چاہیں تو آپ کو انرجائزنک ایکٹیوٹی بھی اس بریک میں کرا سکتے ہیں اور پھر دوبارہ پڑھا سکتے ہیں لیکن اگر ضروری نا ہو تو اگلے دن آپ اس ٹاپک کو مکمل کرسکتے ہیں۔ اس اے ایک تو بچوں میں اکتاہٹ نہیں ہوگی اور آپ بھی اپنے وقت میں پابند رہیں گے۔

اکژاساتذہ پریڈ ختم ہونے کے آدھے گھنٹے بعد تک بھی کلاس کے اندر گھسے رہتے ہیں وہ میرے خیال میں اپنا اور بچوں کا وقت برباد کررہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کا زیادہ تر دھیاں اس پریڈ کے بعد کی گئی پلاننگ پر ہوتا ہے اس لئے انکا دھیان کلاس سے باہر ہوتا ہے۔ گوکہ میں نے شروع میں کہا کہ میرا تعلق درس و تدریس سے نہیں لیکن یہ جو بھی اوپر میں نے لکھا ہے وہ میرے جیسے تمام طالب علم چاہتے ہیں کہ اس کے استاد کے پاس ہو۔ آپ کو اس میں اعتراض بھی ہوسکتا ہے جو آپ کمنٹ میں لکھ سکتے ہیں۔ اور دوسرے لوگ جتنے بھی اس شعبے کے ساتھ وابستہ ہیں وہ اس پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 9 مئی 2016ء 

About Passu Times

3 comments

  1. جی آپ بلکل ٹھیل کہہ رہیں ہیں۔

  2. .Your articles is correct keep it up these types of articles. Best information for students and teachers

  3. I shared your articles on social media

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*